Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

یورپ میں مہنگائی کے خلاف عوامی غصہ، فرانس میں پرتشدد مظاہرے، دائیں بازو کی جماعتوں کو سیاسی فائدہ

یورپ میں مہنگائی کے خلاف عوامی غصہ، فرانس میں پرتشدد مظاہرے، دائیں بازو کی جماعتوں کو سیاسی فائدہ

فرانس سمیت یورپ کے متعدد ممالک میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، مہنگائی، رہائش کے اخراجات اور عوامی سہولتوں کی خراب صورت حال کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شدت آ گئی ہے عوامی بے چینی نے حکومتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جبکہ ان حالات سے دائیں بازو کی سخت گیر سیاسی جماعتیں فائدہ اٹھا رہی ہیں فرانس، اٹلی اور پولینڈ سمیت کئی ممالک میں اگلے سال ہونے والے انتخابات سے پہلے مہنگائی اور ایندھن کی قیمتیں اہم سیاسی موضوع بن گئی ہیں
فرانس میں احتجاج کا آغاز پیرس کے شمالی مضافاتی علاقوں میں اسکولوں کی خراب حالت اور تعلیمی سہولتوں کی کمی کے خلاف ہونے والے مظاہروں سے ہوا، لیکن بعد میں یہ تحریک مہنگائی اور اخراجات زندگی کے خلاف وسیع احتجاج میں تبدیل ہو گئی بعض مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، دکانوں میں لوٹ مار کی گئی، عمارتوں کو آگ لگائی گئی اور لیموج شہر میں 19ویں صدی کی ایک تاریخی عمارت بھی نذر آتش کر دی گئی
فرانس کے شہر نانت میں احتجاج کرنے والے 21 سالہ نوجوان کوئنٹن لیولُو نے کہا کہ موجودہ حالات میں زندگی کے اخراجات خوفناک حد تک بڑھ چکے ہیں ان کے مطابق کم از کم اجرت پر کام کرنے والے افراد کے لیے خوراک، ایندھن اور روزمرہ ضروریات پوری کرنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے
یورپی کمیشن کے اندازے کے مطابق فروری 2026 میں شروع ہونے والی امریکہ اور ایران کی جنگ نے توانائی کی منڈیوں اور تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث یورپ کو تقریباً 100 ارب یورو، یعنی 112 ارب امریکی ڈالر کا نقصان پہنچا ہے اس تنازع کے نتیجے میں گیس کی قیمتوں میں تقریباً 140 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ڈیزل کی قیمتیں دگنی ہو گئیں
ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اثر صرف گاڑیاں چلانے والوں تک محدود نہیں رہا بلکہ زراعت، ٹرانسپورٹ، صنعت اور اشیائے خورونوش کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے کسانوں کے لیے زرعی مشینری چلانا مہنگا ہو گیا ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے کاروباری اداروں اور عام صارفین پر بھی اضافی بوجھ پڑ رہا ہے
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے مظاہرین کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا، تاہم انہوں نے تشدد، لوٹ مار اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی مذمت بھی کی ان کی حکومت کو ایک طرف عوامی احتجاج کا سامنا ہے تو دوسری طرف بجٹ خسارے، سرکاری اخراجات اور مالیاتی منڈیوں کے دباؤ کو سنبھالنے کا چیلنج درپیش ہے
فرانس میں اپریل 2027 کے صدارتی انتخابات سے پہلے یہ بحران سیاسی طور پر بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی کی رہنما میرین لے پین اور بائیں بازو کے رہنما ژاں لوک میلوںشوں نے ایندھن کی قیمتوں کو اپنے انتخابی مؤقف کا اہم حصہ بنایا ہے
میرین لے پین ایندھن پر عائد ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں نمایاں کمی کی حمایت کر رہی ہیں ان کے مؤقف کو خاص طور پر دیہی اور نیم شہری علاقوں میں پذیرائی مل رہی ہے، جہاں لوگوں کو کام، تعلیم اور روزمرہ ضروریات کے لیے اپنی گاڑیوں پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے تاہم، ٹیکس میں کمی سے صارفین کو حقیقی طور پر کتنا فائدہ پہنچے گا، اس کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ قیمتوں میں کمی کا فائدہ خریداروں تک کس حد تک منتقل ہوتا ہے
دوسری جانب ژاں لوک میلوںشوں ایندھن کی قیمتوں کو محدود کرنے کی تجویز پیش کر چکے ہیں یوں مہنگائی کا مسئلہ فرانس میں دائیں اور بائیں دونوں جانب کی سیاسی جماعتوں کے انتخابی ایجنڈے کا حصہ بن گیا ہے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ایران جنگ شروع ہونے کے بعد لے پین کی مقبولیت میں بہتری آئی ہے، جبکہ میکرون کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے
یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی صورت حال مختلف نہیں۔ اٹلی کے شہر میلان میں مہنگائی اور عوامی سہولتوں کی خراب صورت حال کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں سسلی کے علاقے گیلا میں کسانوں نے ٹریکٹروں کے ساتھ احتجاج کیا اور کہا کہ ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے کھیتی باڑی کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہو گیا ہے
جنوبی اٹلی کے بعض علاقوں میں ٹرک ڈرائیوروں، کسانوں اور اسٹیل کے شعبے سے وابستہ کارکنوں کی جانب سے سڑکوں کی بندش نے نقل و حمل متاثر کی، جس سے بعض مقامات پر ایندھن کی قلت اور سپر مارکیٹوں میں اشیاء کی فراہمی کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے
پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں بھی ہزاروں افراد نے کم اجرتوں، مہنگے مکانات اور بڑھتے ہوئے اخراجات زندگی کے خلاف مظاہرہ کیا اسپین میں رہائش کے بحران اور بڑھتے ہوئے کرایوں نے عوامی غصے کو ہوا دی ہے بیلجیم میں بھی احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ البانیہ میں بدعنوانی کے الزامات، روزگار کی کمی اور تعلیم کے ناقص معیار کے خلاف بڑے مظاہرے کیے گئے ہیں
جرمنی میں دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی، جسے اے ایف ڈی کہا جاتا ہے، مقامی انتخابات میں کامیابیوں کے بعد قومی سطح کے رائے عامہ کے جائزوں میں بھی نمایاں حیثیت حاصل کر رہی ہے ستمبر میں جرمنی میں افراط زر تقریباً 3 سال کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا، جبکہ توانائی کی قیمتوں میں سالانہ اضافہ 14.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ مہنگائی نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرنے والی جماعتوں کو اپنے مؤقف کے حق میں دلائل فراہم کیے ہیں
اے ایف ڈی اور بعض دیگر دائیں بازو کی جماعتیں روس کے ساتھ توانائی کے تعلقات بحال کرنے کی حمایت کرتی ہیں ان کا مؤقف ہے کہ روس سے تیل اور گیس کی خریداری دوبارہ بڑھانے سے توانائی کے اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں تاہم، اس تجویز پر یورپ میں اختلاف پایا جاتا ہے، کیونکہ روس کے ساتھ توانائی کے تعلقات کا معاملہ یوکرین کی جنگ اور یورپی سلامتی کی پالیسی سے بھی جڑا ہوا ہے
پولینڈ میں بھی روسی تیل اور گیس کی خریداری بحال کرنے کے مطالبات کرنے والی سخت گیر دائیں بازو کی جماعتوں کو بڑھتی ہوئی توانائی قیمتوں کے باعث سیاسی بحث میں جگہ مل رہی ہے اٹلی میں بھی روس کے ساتھ گیس کی فراہمی کے تعلقات بحال کرنے کے حامی سیاسی حلقے سرگرم ہیں
سیاسی ماہرین کے مطابق جب عوام کی قوت خرید کم ہوتی ہے اور خوراک، رہائش اور ایندھن جیسی بنیادی ضروریات مہنگی ہو جاتی ہیں تو ووٹر روایتی جماعتوں سے مایوس ہو کر متبادل سیاسی قوتوں کی طرف دیکھنے لگتے ہیں سخت گیر اور عوامیت پسند جماعتیں اکثر مہنگائی کو حکومتی پالیسیوں کی ناکامی سے جوڑتی ہیں، جبکہ حکومتیں اس کے اسباب میں عالمی تنازعات، توانائی کی فراہمی میں رکاوٹوں اور بین الاقوامی منڈیوں کے حالات کو بھی اہم قرار دیتی ہیں
فرانس میں 2018 کے پیلی جیکٹ مظاہرے اس حوالے سے ایک اہم مثال ہیں، جب ایندھن پر مجوزہ ٹیکس میں اضافے کے خلاف شروع ہونے والی تحریک نے ملک گیر احتجاج کی شکل اختیار کر لی تھی اس وقت بھی دیہی علاقوں کے شہریوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ گاڑی ان کے لیے عیاشی نہیں بلکہ کام اور روزمرہ زندگی کی ضرورت ہے موجودہ بحران میں بھی یہی مسئلہ دوبارہ نمایاں ہو رہا ہے
موجودہ احتجاج یورپی حکومتوں کے لیے دوہرا چیلنج بن چکا ہے انہیں عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کے ساتھ سرکاری مالیات کو بھی مستحکم رکھنا ہے اگر ایندھن پر ٹیکس کم کیا جاتا ہے تو حکومتوں کی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ قیمتوں میں کمی نہ ہونے کی صورت میں عوامی بے چینی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے
فرانس اور یورپ کے دیگر ممالک میں بڑھتے ہوئے مظاہروں نے واضح کر دیا ہے کہ مہنگائی اب محض معاشی مسئلہ نہیں رہی بلکہ انتخابی سیاست، حکومتی استحکام اور عوام کے اعتماد سے بھی براہ راست جڑ گئی ہے آئندہ انتخابات میں ایندھن، رہائش، اجرتوں اور روزمرہ اخراجات سے متعلق وعدے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومتیں عوامی مطالبات کا کس حد تک عملی جواب دیتی ہیں اور احتجاج سے پیدا ہونے والی سیاسی تبدیلی مستقل شکل اختیار کرتی ہے یا نہیں

قومی خبریں سے مزید