انسانی تاریخ کا منفرد خلائی مشن: مریخ کے چاند سے نمونے زمین پر لانے کی تیاری، اب اپنا چاند اکیلا چاند نہیں رہنے والا
جاپان کی خلائی تحقیقاتی ایجنسی ایک تاریخی خلائی مشن روانہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس کا مقصد مریخ کے ایک چاند سے مٹی اور دیگر مواد کے نمونے جمع کرکے زمین پر واپس لانا ہے،کامیابی کی صورت میں یہ زمین کے چاند کے علاوہ کسی دوسرے چاند سے نمونے لا کر زمین پر پہنچانے والا پہلا مشن ہوگا
جاپان کی خلائی تحقیقاتی ایجنسی کے اس منصوبے کا نام مارسین مونز ایکسپلوریشن (ایم ایم ایکس) ہے،اس مشن کے ذریعے سائنس دان مریخ کے دو چاندوں، فوبوس اور ڈیموس، کا مطالعہ کریں گے تاکہ ان کی تشکیل، ساخت اور مریخ کی تاریخ کے بارے میں اہم معلومات حاصل کی جا سکیں
سائنس دانوں نے 1965 میں امریکی خلائی مشن میرینر 4 کے ذریعے مریخ کی پہلی قریبی تصاویر حاصل کی تھیں،اس کے بعد متعدد خلائی جہازوں، لینڈرز اور روبوٹس نے مریخ کا جائزہ لیا، جس سے سرخ سیارے کے بارے میں انسانی علم میں نمایاں اضافہ ہوا،تاہم، اس کے دونوں چاندوں کے بارے میں اب بھی بہت سے بنیادی سوالات کے جواب نہیں مل سکے
امریکی خلائی ادارے ناسا کے ایم ایم ایکس پروگرام کے سربراہ اور سائنس دان ٹام اسٹیٹلر نے مشن سے قبل نیوز کانفرنس میں کہا کہ یہ پہلا خلائی جہاز ہوگا جو مریخ کے نظام سے زمین پر واپس آئے گا،ان کے مطابق، فوبوس سے حاصل کیے جانے والے نمونے تاریخی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ زمین کے چاند کے علاوہ کسی دوسرے چاند سے حاصل کیے گئے پہلے نمونے ہوں گے جو زمین پر لائے جائیں گے
مشن کا ایک اہم مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ فوبوس اور ڈیموس کیسے وجود میں آئے،سائنس دان یہ جاننے کی کوشش بھی کریں گے کہ آیا ان چاندوں کی تشکیل مریخ کے گرد موجود ابتدائی مادے سے ہوئی یا وہ کسی دوسرے فلکیاتی جسم کے مریخ سے ٹکرانے کے نتیجے میں وجود میں آئے
ان نمونوں کے تجزیے سے مریخ کے ابتدائی ماحول، اس کی ارتقائی تاریخ اور نظام شمسی کی تشکیل کے بارے میں نئی معلومات ملنے کی امید ہے،یہ تحقیق زمین اور دوسرے سیاروں کی ابتدائی تاریخ سمجھنے میں بھی مدد دے سکتی ہے
خبر کے مطابق، مشن کو پیر 19 اکتوبر کو امریکی مشرقی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 41 منٹ پر جاپان کے تانیگاشیما خلائی مرکز سے روانہ کرنے کا منصوبہ تھا،یہ وقت مقررہ لانچ شیڈول تھا، اس لیے کامیاب روانگی کی تصدیق کے لیے تازہ معلومات ضروری ہوں گی
اگر ایم ایم ایکس اپنے تمام مراحل کامیابی سے مکمل کرتا ہے تو یہ سیاروں اور ان کے چاندوں کی تحقیق میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور سائنس دانوں کو زمین کے چاند سے آگے کسی دوسرے چاند کے مادے کا براہ راست تجربہ گاہوں میں تجزیہ کرنے کا موقع ملے گا






