Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج میں تاخیر کیوں ہوگی؟ بعض حلقوں میں فاتح کا فیصلہ کئی دن بعد ہونے کا امکان

امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج میں تاخیر کیوں ہوگی؟ بعض حلقوں میں فاتح کا فیصلہ کئی دن بعد ہونے کا امکان
امریکہ میں رواں سال وسط مدتی انتخابات کے دوران کانگریس کے بعض سخت مقابلے والے حلقوں میں نتائج کا حتمی فیصلہ انتخابی دن کے کئی روز بعد تک مؤخر ہو سکتا ہے،اس کی وجہ صرف کیلیفورنیا میں ووٹوں کی گنتی کا سست عمل نہیں بلکہ ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں، انتخابی قوانین، ووٹوں کی تصدیق اور انتخابی عملے کو درپیش انتظامی مشکلات سمیت کئی عوامل ہیں
ایریزونا کی ماریکوپا کاؤنٹی کے سابق انتخابی عہدیدار اسٹیفن رچرر اس دباؤ سے بخوبی واقف ہیں،وہ ملک کی چوتھی بڑی کاؤنٹی میں انتخابات کے کلرک اور ریکارڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں،ان کے مطابق، انتخابی رات پولنگ ختم ہونے کے بعد ان کے سامنے دس لاکھ سے زیادہ بیلٹ پیپرز کی گنتی کا مرحلہ ہوتا تھا،جب تک تمام ووٹوں کی گنتی مکمل نہ ہو، ہر گزرتے لمحے کے ساتھ سوشل میڈیا پر انتخابی دھاندلی اور سازشی نظریات سے متعلق نئے دعوے سامنے آنے لگتے تھے
رچرر، جو ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ محدود عملے اور جگہ کے باوجود انتخابی اہلکار پوری کوشش کرتے تھے کہ گنتی جلد مکمل ہو جائے، لیکن انہیں مسلسل فون کالز اور پیغامات کے ذریعے دباؤ کا سامنا رہتا تھا،بعض افراد ان پر نااہلی، بدعنوانی اور اس سے بھی زیادہ سنگین الزامات عائد کرتے تھے
امریکہ میں اس سال وسط مدتی انتخابات کے دوران کانگریس کے ان حلقوں میں بھی انتخابی اہلکاروں کو اسی نوعیت کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جہاں دونوں بڑی جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ انتہائی سخت ہو،ایسے حلقوں میں ابتدائی نتائج سے فاتح کا تعین کرنا مشکل ہو سکتا ہے اور معمولی ووٹوں کا فرق بھی حتمی فیصلے کو کئی دن تک مؤخر کر سکتا ہے
امریکی انتخابی نظام میں مختلف ریاستوں کے قوانین اور ووٹوں کی گنتی کے طریقہ کار میں فرق بھی نتائج کے اعلان پر اثر انداز ہوتا ہے،ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹوں کی تصدیق، بیلٹ پیپرز کی وصولی اور گنتی کے مراحل مکمل ہونے میں وقت لگ سکتا ہے،اسی لیے انتخابی رات سامنے آنے والے ابتدائی نتائج کو ہمیشہ حتمی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے
این پی آر کی رپورٹ میں اس بات پر توجہ دلائی گئی ہے کہ انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر لازماً انتخابی بے ضابطگی یا دھاندلی کا ثبوت نہیں ہوتی،بعض حلقوں میں ووٹوں کی مکمل اور درست گنتی کے لیے اضافی وقت درکار ہوتا ہے، خصوصاً اس وقت جب امیدواروں کے درمیان فرق بہت کم ہو
رواں سال کے انتخابات میں اصل سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ کون سی جماعت کتنی نشستیں جیتتی ہے، بلکہ یہ بھی ہوگا کہ سخت مقابلے والے حلقوں میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے اور فاتح کا باضابطہ تعین کرنے میں کتنا وقت لگے گا

قومی خبریں سے مزید