عراق کے غار سے ملنے والی 75 ہزار سال پرانی ہڈیاں، نینڈرتھال انسانوں میں تشدد اور ہمدردی کے شواہد سامنے لے آئیں
عراق کے کردستان علاقے میں واقع شانیدر غار سے ملنے والی تقریباً 75 ہزار سال پرانی ہڈیاں قدیم نینڈرتھال انسانوں کی زندگی کے بارے میں اہم شواہد فراہم کر رہی ہیں محققین کو ایک ایسے فرد کی باقیات ملی ہیں جس کی موت غالباً نیزے کے وار سے ہوئی، لیکن اس کے جسم پر ایک پرانی شدید چوٹ کے آثار بھی موجود ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ موت سے کم از کم ایک سال پہلے وہ کسی تکلیف دہ حادثے یا حملے سے بچ گیا تھا اس عرصے میں اسے زندہ رہنے کے لیے دوسرے افراد کی مدد درکار رہی ہو گی lیہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ نینڈرتھال انسانوں کی زندگی میں تشدد کے ساتھ ساتھ ہمدردی اور ایک دوسرے کی دیکھ بھال بھی موجود تھی
یہ باقیات شمالی عراق کے زاگرس پہاڑی سلسلے میں واقع شانیدر غار سے دریافت ہوئی ہیں اس فرد کو محققین نے شانیدر اے کا نام دیا ہے اس کی عمر موت کے وقت تقریباً 40 سے 50 سال کے درمیان سمجھی جاتی ہے، جو اس دور کے انسانوں کے لیے خاصی قابلِ ذکر عمر تھی اس کی جنس کا تعین نہیں ہو سکا۔ ہڈیاں تقریباً 7.5 میٹر مٹی اور پتھروں کے نیچے محفوظ رہی تھیں، جس کی وجہ سے ہزاروں سال گزرنے کے باوجود ان کا اہم حصہ تحقیق کے قابل رہا
محققین کو اس کے بائیں کندھے کی ہڈی میں تقریباً 15 ملی میٹر چوڑا گول سوراخ ملا ہڈی کو پہنچنے والے نقصان اور سوراخ کی شکل سے اندازہ لگایا گیا کہ اس پر نوک دار لکڑی کے نیزے سے طاقتور وار کیا گیا تھا محققین کے مطابق نیزہ جسم کے سامنے سے داخل ہو کر سینے کے اندر پھیپھڑے اور ممکنہ طور پر دل کے قریب سے گزرا ہو گا اس وار کی سمت اور گہرائی سے یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں موت تیزی سے واقع ہوئی
تحقیق کی سربراہ اور کیمبرج یونیورسٹی سے وابستہ حیاتیاتی ماہرِ بشریات ایما پومرائے کے مطابق، یہ زخم کسی شکار کے سینے پر کیے جانے والے اس وار سے مشابہت رکھتا ہے جس کا مقصد دل کو نشانہ بنا کر جانور کو جلد ہلاک کرنا ہوتا ہے تاہم محققین نے واضح کیا کہ یہ تشریح ایک امکان ہے، حتمی نتیجہ نہیں۔ ان کے خیال میں یہ چوٹ غالباً کسی دوسرے نینڈرتھال کے ساتھ تصادم کے دوران لگی، خواہ حملہ اسی گروہ کے کسی فرد نے کیا ہو یا کسی مخالف گروہ کے رکن نے
اس دریافت کا دوسرا اہم پہلو اس فرد کے دانتوں پر ملنے والے نشانات ہیں اس کے اگلے دانت شدید طور پر ٹوٹے ہوئے تھے اور بعض دانت اپنی جگہ سے ہٹ گئے تھے ہڈیوں اور دانتوں کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ چوٹ موت سے کم از کم ایک سال پہلے لگی تھی ایسی حالت میں کھانا چبانا، پانی پینا اور روزمرہ کے کام انجام دینا انتہائی مشکل ہو سکتا تھا اس لیے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ صحت یابی کے دوران اسے اپنے گروہ کے دوسرے افراد کی مدد کی ضرورت پڑی ہو گی ممکن ہے کہ اسے نرم غذا فراہم کی جاتی رہی ہو اور آرام کرنے کے لیے محفوظ جگہ دی گئی ہو
یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ نینڈرتھال انسانوں کو ماضی میں اکثر قدیم، غیر مہذب اور صرف اپنی بقا کے لیے جدوجہد کرنے والی مخلوق کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ نئی دریافت اس تصور کو مزید پیچیدہ بناتی ہے اگر کسی زخمی فرد کو طویل عرصے تک خوراک اور تحفظ فراہم کیا گیا تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ان کے معاشرتی تعلقات محض شکار اور بقا تک محدود نہیں تھے بلکہ وہ اپنے کمزور ساتھیوں کی دیکھ بھال بھی کر سکتے تھے
شانیدر غار اس سے پہلے بھی قدیم انسانی تاریخ کی اہم دریافتوں کا مرکز رہا ہے یہاں سے ملنے والی باقیات نے کئی دہائیوں سے اس بحث کو جنم دیا ہے کہ نینڈرتھال اپنے مردوں کو کس طرح ٹھکانے لگاتے تھے اور کیا ان کے پاس موت سے متعلق کوئی سماجی یا علامتی تصورات موجود تھے نئی تحقیق میں شانیدر اے سمیت 5 افراد کی باقیات ایک ہی محدود حصے میں ملی ہیں، جن میں 4 بالغ افراد اور ایک شیر خوار بچہ شامل ہیں ان کی باقیات ایک بڑی چٹانی ستون نما ساخت کے پیچھے موجود تھیں محققین کے مطابق یہ ممکنہ طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ نینڈرتھال اپنے مردوں کو ایک مخصوص جگہ پر رکھتے تھے، اگرچہ اس عمل کی درست نوعیت اور مقصد پر مزید تحقیق درکار ہے
یہ نیا مطالعہ 15 اکتوبر 2026 کو سائنسی جریدے سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہوا اس میں آثارِ قدیمہ، ہڈیوں کی ساخت اور زخموں کے نشانات کا جائزہ لے کر شانیدر اے کی زندگی اور موت کے حالات سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے محققین کے مطابق لکڑی کے نیزے سے کسی انسان کو جان لیوا زخم لگنے کا یہ قدیم ترین معلوم شواہد میں سے ایک ہو سکتا ہے، تاہم اس تشریح کو حتمی قرار دینے کے بجائے محتاط انداز میں دیکھا جا رہا ہے
نینڈرتھال انسان جدید انسانوں کے قریبی ارتقائی رشتہ دار تھے وہ تقریباً 4 لاکھ سال پہلے سے لے کر 40 ہزار سال پہلے کے بعد تک یوریشیا کے مختلف علاقوں میں آباد رہے وہ شکار کرتے، خوراک جمع کرتے اور اپنے ماحول کے مطابق زندگی گزارتے تھے جدید انسانوں اور نینڈرتھال کے درمیان اختلاط بھی ہوا، اسی لیے آج افریقہ سے باہر آباد بہت سی انسانی آبادیوں کے جینیاتی مادے میں نینڈرتھال سے وراثت میں ملنے والے آثار موجود ہیں
شانیدر اے کی باقیات قدیم انسانوں کے بارے میں ایک اہم حقیقت سامنے لاتی ہیں ایک ہی فرد کی ہڈیوں میں پہلے شدید چوٹ سے بچ جانے اور بعد میں ممکنہ طور پر جان لیوا حملے کے شواہد ملنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ تشدد اور ہمدردی دونوں انسانی معاشرتی تاریخ کے پیچیدہ پہلو رہے ہیں یہ دریافت نہ صرف نینڈرتھال کی زندگی کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ اس سوال پر بھی روشنی ڈالتی ہے کہ انسانوں میں دوسروں کی دیکھ بھال کرنے کی صلاحیت کتنی قدیم ہے





