پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے 30 سے زائد بچوں کی ہلاکت کے بعد نجی تعلیمی اداروں کی حفاظت پر سنگین سوالات
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 30 بچے اور ایک استاد جاں بحق ہو گئے، جبکہ درجنوں طلبہ زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے یہ افسوس ناک حادثہ صبح تدریسی سرگرمیوں کے دوران پیش آیا، جب بچے معمول کے مطابق کلاسوں میں بیٹھے تعلیم حاصل کر رہے تھے اچانک چھت گرنے سے عمارت کا ملبہ طلبہ اور اساتذہ پر آ گرا اور کئی بچے اس کے نیچے دب گئے
حادثے کا شکار ہونے والا اسکول پشاور میں قائم الخیر نامی نجی تعلیمی ادارہ تھا۔ حادثے کے بعد امدادی کارکنوں نے ملبے میں پھنسے بچوں اور دیگر افراد کو نکالنے کے لیے کئی گھنٹے کارروائی کی دوسری جانب والدین اسکول کے باہر جمع ہو گئے اور اپنے بچوں کی خیریت معلوم کرنے کے لیے بے چینی سے انتظار کرتے رہے بہت سے خاندانوں کے لیے یہ ایک ایسا سانحہ تھا جس نے معمول کی تعلیمی صبح کو زندگی بھر کے دکھ میں تبدیل کر دیا
ابتدائی اطلاعات کے مطابق عمارت کی ساخت کمزور تھی اور چھت پر اضافی تعمیرات کے باعث اس پر مقررہ گنجائش سے زیادہ بوجھ پڑ رہا تھا۔ اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں حکام کو یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ عمارت کی حالت کے بارے میں پہلے سے کوئی شکایت یا انتباہ سامنے آیا تھا یا نہیں، اور اگر ایسا تھا تو اس کے باوجود بچوں کو وہاں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت کیوں دی گئی
اس حادثے نے پاکستان میں نجی اسکولوں، ٹیوشن مراکز اور رہائشی عمارتوں میں قائم تعلیمی اداروں کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں ملک کے مختلف شہروں میں کئی تعلیمی ادارے ایسے گھروں یا عمارتوں میں قائم ہیں جنہیں بڑی تعداد میں طلبہ کی آمدورفت اور روزانہ کی تدریسی سرگرمیوں کے لیے تعمیر نہیں کیا گیا تھا بعض عمارتوں میں اضافی منزلیں، غیر محفوظ کمرے اور ایسی چھتیں بنا دی جاتی ہیں جو اپنے اوپر پڑنے والے بوجھ کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں
یہ مسئلہ صرف پشاور تک محدود نہیں جون 2026 میں لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہو گئے تھے اس واقعے کے صرف 2 دن بعد لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں ایک اور اسکول کی چھت گرنے سے 8 سالہ بچہ ہلاک ہو گیا تھا چند ماہ کے اندر پیش آنے والے ان حادثات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت کے لیے موجودہ نگرانی اور معائنہ نظام پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے
کاہنہ کے واقعے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ٹیوشن سینٹر ایک غیر رجسٹرڈ رہائشی مکان میں قائم تھا پشاور کے معاملے میں صورتحال مزید تشویش ناک ہے، کیونکہ خیبر پختونخوا کے نجی اسکولوں کے نگران ادارے کے مطابق الخیر اسکول کو مارچ میں رجسٹر کیا گیا تھا، لیکن اس کے معائنے کے وقت تکنیکی ماہرین موجود نہیں تھے اس سے یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی اسکول کو عمارت کی ساخت کا مناسب جائزہ لیے بغیر رجسٹریشن دے دی جائے تو اس رجسٹریشن سے بچوں کی حفاظت کی کیا ضمانت ملتی ہے
اسکول کی رجسٹریشن صرف کاغذی کارروائی نہیں ہونی چاہیے کسی بھی تعلیمی ادارے کو بچوں کے لیے کھولنے سے پہلے عمارت کی مضبوطی، ہنگامی راستوں، آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور دیگر حفاظتی ضروریات کا معائنہ ضروری ہے اس کے علاوہ اگر اسکول کی عمارت میں بعد میں اضافی منزل یا کوئی نئی تعمیر کی جائے تو اس کی بھی باقاعدہ منظوری اور جانچ ہونی چاہیے
خیبر پختونخوا کی حکومت نے واقعے کے بعد ضلعی سطح پر کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جنہیں نجی اسکولوں کی عمارتوں کا معائنہ کرکے خطرات کی نشاندہی اور اپنی رپورٹ 3 دن کے اندر پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ ان رپورٹوں پر فوری عمل درآمد کیا جائے، خطرناک عمارتوں کو بند کیا جائے اور آزاد ماہرین کی جانب سے عمارت کے محفوظ قرار دیے جانے کے بعد ہی انہیں دوبارہ کھولنے کی اجازت دی جائے
اس طرح کے معائنے صرف سرکاری اور نجی اسکولوں تک محدود نہیں رہنے چاہییں بلکہ ٹیوشن سینٹرز اور رہائشی عمارتوں میں قائم تعلیمی اداروں کو بھی ان کے دائرے میں شامل کیا جانا چاہیے اسکول کی رجسٹریشن، عمارت کی تعمیر کی منظوری اور وقتاً فوقتاً حفاظتی سرٹیفکیٹ کے حصول کو ایک دوسرے سے منسلک کرنا ضروری ہے، تاکہ کوئی بھی ادارہ بنیادی حفاظتی شرائط پوری کیے بغیر بچوں کو داخلہ نہ دے سکے
ذمہ داری صرف اسکول مالکان تک محدود نہیں ہونی چاہیے اگر کسی مالک نے عمارت میں خطرناک تبدیلیاں کی ہیں تو اسے قانون کے مطابق جواب دہ ہونا چاہیے اسی طرح اگر کسی سرکاری اہلکار نے معائنے میں غفلت برتی، خطرات کو نظر انداز کیا یا غیر محفوظ عمارت کو اجازت دی تو اس کا احتساب بھی ہونا چاہیے تحقیقات کا مقصد صرف کسی ایک فرد کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ یہ معلوم کرنا ہونا چاہیے کہ پورا حفاظتی نظام کہاں ناکام ہوا
والدین اپنے بچوں کو اسکول اس اعتماد کے ساتھ بھیجتے ہیں کہ وہاں انہیں تعلیم کے ساتھ محفوظ ماحول بھی میسر ہوگا ان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ خود تعمیرات کے ماہر بن کر ہر اسکول کی چھت، دیواروں اور ستونوں کی مضبوطی کا اندازہ لگائیں یہ ذمہ داری حکومت، تعلیمی اداروں کے مالکان اور متعلقہ نگران محکموں کی ہے کہ بچوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں
پشاور کا یہ سانحہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات کو نظر انداز کرنے کی قیمت معصوم بچوں کی جانوں سے ادا نہیں ہونی چاہیے اگر ہر حادثے کے بعد تعزیتی بیانات، گرفتاریوں اور تحقیقاتی کمیٹیوں کے قیام تک ہی کارروائی محدود رہی تو ایسے واقعات دوبارہ پیش آنے کا خطرہ برقرار رہے گا ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک بھر میں تعلیمی عمارتوں کی فوری جانچ، خطرناک عمارتوں کی بندش اور ذمہ دار افراد کے احتساب کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے وقت ان کی جان کے بارے میں خوف زدہ نہ ہوں





