Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ترکی میں اپوزیشن میڈیا کے خلاف کارروائیاں تیز، پانچ بڑے ٹی وی چینلز حکومتی تحویل میں، خلق ٹی وی کی نشریات بھی بند، اردگان جلد بادشاہت قائم کرلیں گے

ترکی میں اپوزیشن میڈیا کے خلاف کارروائیاں تیز، پانچ بڑے ٹی وی چینلز حکومتی تحویل میں، خلق ٹی وی کی نشریات بھی بند، اردگان جلد بادشاہت قائم کرلیں گے

انقرہ:ترکی میں صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کے ناقد ذرائع ابلاغ کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے،پولیس نے 14 اکتوبر کو ملک کے معروف حکومت مخالف ٹی وی چینل خلق ٹی وی کے استنبول میں واقع دفتر پر چھاپہ مارا، براہِ راست نشریات بند کر دیں اور چینل کا انتظام سرکاری نگران کے حوالے کر دیا،اس کارروائی کے ساتھ خلق ٹی وی ان پانچ بڑے میڈیا اداروں میں شامل ہو گیا ہے جن کا انتظام حالیہ عرصے میں سرکاری نگرانوں کے سپرد کیا گیا ہے،ان میں فلیش ٹی وی، ایکو ترک، حبرترک اور ٹیلی ون بھی شامل ہیں
ترکی میں ذرائع ابلاغ پر سرکاری کنٹرول کے اس رجحان نے صحافتی آزادی اور حزبِ اختلاف کی آواز دبانے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے،جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، خلق ٹی وی کی تحویل میں لیے جانے سے پہلے مختلف قانونی تحقیقات کے تحت ان چار دیگر نشریاتی اداروں کے انتظامات بھی سرکاری تحویل میں دیے جا چکے تھے،ان کارروائیوں کی قانونی وجوہات ہر معاملے میں الگ الگ بیان کی گئی ہیں، تاہم ناقدین ان واقعات کو ترکی میں آزاد اور حکومت پر تنقید کرنے والے میڈیا کے لیے سکڑتی ہوئی گنجائش کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں
خلق ٹی وی کے دفتر پر چھاپے کے دوران سینکڑوں پولیس اہلکار عمارت میں داخل ہوئے اور تلاشی کا عمل شروع کیا گیا،چینل کے مطابق، صبح تقریباً 6 بج کر 30 منٹ پر اس کی براہِ راست نشریات منقطع کر دی گئیں، جس کے بعد پہلے سے ریکارڈ شدہ پروگرام نشر ہونے لگے،حکام نے چینل کے انتظام کے لیے سرکاری نگران مقرر کیا، جبکہ صحافیوں کو ابتدا میں عمارت میں داخل ہونے سے بھی روکا گیا
استنبول کے چیف پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق، چینل کے سربراہ جعفر ماہیر اوغلو کے خلاف رشوت، سرکاری ٹھیکوں میں مبینہ ردوبدل اور غیر قانونی ذرائع سے حاصل ہونے والی دولت کو سفید کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں،حکام نے 17 افراد کے خلاف حراست کے احکامات جاری کیے، جن میں سے 11 افراد کو گرفتار کیا گیا،ماہیر اوغلو ترکی سے باہر ہیں اور انہوں نے کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے الزامات کی تردید کی ہے،حکومت کی جانب سے ان الزامات کی بنیاد پر کارروائی کی گئی ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کا اثر ملک میں آزاد صحافت پر پڑ رہا ہے
اس کارروائی کا وقت بھی خاص اہمیت رکھتا ہے،اسی روز استنبول کے گرفتار میئر اکرم امام اوغلو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے میں دفاع کے دلائل شروع ہونا تھے،امام اوغلو کو اردوان کا اہم سیاسی حریف سمجھا جاتا ہے اور خلق ٹی وی ان کے مقدمے سمیت حکومت اور حزبِ اختلاف سے متعلق سیاسی معاملات کی نمایاں کوریج کرتا رہا ہے،انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ چینل پر چھاپے اور سرکاری نگران کی تقرری سے اظہارِ رائے کی آزادی کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور حکام سے چینل کی آزادانہ نشریات بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے
ترکی میں اس سے پہلے فلیش ٹی وی کو مارچ 2025 میں اس کے مالک سے متعلق غیر قانونی جوئے اور مالیاتی جرائم کی تحقیقات کے دوران سرکاری تحویل میں لیا گیا تھا،اگست 2025 میں ایکو ترک کے انتظام پر بھی غیر قانونی جوئے سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں سرکاری کنٹرول قائم کیا گیا،حبرترک سمیت کئی میڈیا ادارے ستمبر 2025 میں کین ہولڈنگ کے خلاف تحقیقات کے بعد سرکاری نگرانوں کے حوالے کیے گئے،اکتوبر 2025 میں ٹیلی ون کا انتظام بھی ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے سرکاری تحویل میں دے دیا گیا،ان معاملات میں حکام نے مختلف قانونی تحقیقات کا حوالہ دیا، جبکہ صحافتی حلقوں نے ان اقدامات کے مجموعی اثرات پر سوالات اٹھائے ہیں
یورپی پارلیمان میں ترکی سے متعلق امور کے نمائندے ناچو سانچیز امور نے خلق ٹی وی کے خلاف کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکام میڈیا کے بڑے حصے پر کنٹرول کے باوجود مزید مکمل غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں،ترکی کی حزبِ اختلاف نے بھی اس اقدام کو عوام تک متبادل خبریں پہنچنے سے روکنے کی کوشش قرار دیا ہے
ترکی میں صحافتی آزادی کی صورتِ حال پہلے ہی عالمی سطح پر تشویش کا موضوع رہی ہے،رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے عالمی آزادیٔ صحافت اشاریے میں ترکی 180 ممالک میں 163ویں نمبر پر ہے،خلق ٹی وی کے خلاف تازہ کارروائی نے یہ سوال مزید نمایاں کر دیا ہے کہ آیا بدعنوانی اور مالی جرائم کی تحقیقات کے نام پر ہونے والے اقدامات قانونی احتساب تک محدود رہیں گے یا ان کے نتیجے میں حکومت پر تنقید کرنے والے ذرائع ابلاغ کی آزادی مزید محدود ہوتی جائے گی

قومی خبریں سے مزید