Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹورنٹو میں اغوا کی تحقیقات، کینیڈین فوج کے 3 اہلکاروں سمیت 7 افراد پر 82 الزامات

ٹورنٹو میں اغوا کی تحقیقات، کینیڈین فوج کے 3 اہلکاروں سمیت 7 افراد پر 82 الزامات

ٹورنٹو پولیس نے اغوا کے ایک مقدمے کی تحقیقات کے دوران کینیڈین مسلح افواج کے 3 اہلکاروں سمیت 7 افراد پر مجموعی طور پر 82 الزامات عائد کیے ہیں پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران فوجی گولہ بارود، آتشیں اسلحہ، منشیات اور دیگر مشتبہ سامان بھی برآمد ہوا ہے ابتدائی طور پر ایک شخص کے اغوا کی تحقیقات شروع ہوئی تھیں، لیکن بعد میں یہ معاملہ اسلحے اور منشیات سے متعلق وسیع تر فوجداری تحقیقات میں تبدیل ہوگیا
پولیس کے مطابق یہ واقعہ 25 جولائی 2026 کو ٹورنٹو میں فنچ اور بے ویو ایونیو کے قریب پیش آیا، جہاں ایک شخص کو مبینہ طور پر اس کی گاڑی کے قریب پہنچنے پر بندوق دکھا کر اغوا کر لیا گیا پولیس چیف مائرن ڈیمکیو کے مطابق ملزمان نے متاثرہ شخص کو ہتھکڑیاں لگائیں اور تشدد کا نشانہ بنایا الزام ہے کہ اغوا کار اس کے کرپٹو کرنسی اثاثوں تک رسائی حاصل کرنا چاہتے تھے متاثرہ شخص کو بعد میں رہا کر دیا گیا، تاہم مبینہ طور پر اسے پولیس سے رابطہ نہ کرنے کی دھمکی بھی دی گئی
پولیس نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد ابتدائی گرفتاریاں عمل میں آئیں اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا اگست اور ستمبر کے دوران مزید مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ گریٹر ٹورنٹو ایریا میں مختلف مقامات پر تلاشی کے وارنٹ بھی جاری کیے گئے۔ 24 ستمبر تک 7 افراد کو گرفتار کیا جا چکا تھا اور ان کے خلاف مجموعی طور پر 82 الزامات عائد کیے گئے
گرفتار افراد میں کینیڈین فوج کے 3 ریزرو اہلکار بھی شامل ہیں ان میں 22 سالہ ساچنتھا فرنینڈو، 29 سالہ جیمز مورو اور 24 سالہ جیک مائلی شامل ہیں تینوں کا تعلق ٹورنٹو رجمنٹ کی ساتویں یونٹ سے بتایا گیا ہے
فرنینڈو اور مورو کو 11 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا دونوں کے خلاف مجموعی طور پر 49 الزامات ہیں، جن میں تاوان کے لیے اغوا، غیر قانونی طور پر کسی شخص کو قید میں رکھنا اور سنگین جرم کے دوران آتشیں اسلحہ استعمال کرنے کے الزامات شامل ہیں مائلی کے خلاف بھی تاوان کے لیے اسلحے کے زور پر اغوا، گاڑی میں غیر مجاز اسلحہ رکھنے اور مجرمانہ سازش سمیت متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں
محکمہ قومی دفاع کے مطابق تینوں اہلکاروں کو گرفتاری کے بعد فوجی فرائض سے ہٹا دیا گیا اور فوجی سازوسامان، تنصیبات اور اڈوں تک ان کی رسائی محدود کر دی گئی ہے تاہم، انتظامی جائزہ مکمل ہونے تک وہ فوج کے رکن رہیں گے محکمہ قومی دفاع کی فوجی پولیس بھی اس معاملے کی تحقیقات میں شریک ہے
تفتیش کے دوران پولیس نے متعدد آتشیں ہتھیار، گولہ بارود، 2 خاموش کنندے، موبائل فون، رابطے کے لیے استعمال ہونے والے ریڈیو، رقم گننے والی مشین، اسلحہ رکھنے کے ڈبے، کوکین اور میتھ ایمفیٹامین نامی منشیات برآمد کرنے کی اطلاع دی برآمد شدہ سامان میں تقریباً 2,500 گولیاں بھی شامل تھیں جن کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کینیڈین فوج کی ملکیت تھیں
پولیس نے یہ بھی بتایا کہ بعض برآمد شدہ ہتھیاروں میں 3D پرنٹنگ کے ذریعے تیار کیے گئے حصے استعمال ہوئے تھے فوجی گولہ بارود کی موجودگی نے اسلحے کے ذخیرے، اس کی نگرانی اور فوجی سامان کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق سوالات کو مزید اہم بنا دیا ہے محکمہ قومی دفاع نے کہا ہے کہ وہ گولہ بارود کے ریکارڈ، گنتی اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات کر رہا ہے تاکہ ہر قسم کے فوجی سامان کا حساب زیادہ درست اور قابل اعتماد بنایا جا سکے
اس مقدمے میں گرفتار دیگر 4 افراد میں ٹورنٹو کے رہائشی 24 سالہ رحیم بشپ جیکسن، 22 سالہ سیف الدین آدم، 39 سالہ کرسچن دربانڈی اور 39 سالہ سہیب الکوزائی شامل ہیں ان کے خلاف بھی مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں
پولیس سپرنٹنڈنٹ جو میتھیوز کے مطابق تحقیقات کے آغاز میں صرف اغوا کا معاملہ سامنے آیا تھا، لیکن بعد میں اسلحے، منشیات اور دیگر مبینہ جرائم کے شواہد ملنے پر تفتیش کا دائرہ وسیع کرنا پڑا پولیس نے کہا ہے کہ فی الحال مزید مشتبہ افراد کی تلاش نہیں کی جا رہی، تاہم تحقیقات جاری ہیں
یہ مقدمہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں فوجی تربیت یافتہ افراد، مبینہ اغوا، کرپٹو کرنسی اثاثوں تک رسائی کی کوشش اور فوجی گولہ بارود کی برآمدگی جیسے معاملات ایک ساتھ سامنے آئے ہیں تاہم، تمام ملزمان کے خلاف الزامات ابھی عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں، اور ان کی قانونی حیثیت کا فیصلہ عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا

قومی خبریں سے مزید