پاکستان میں قانون سب کے لیے برابر کب ہوگا؟ طاقتور کے لیے رعایت، غریب کے لیے سزا
پاکستان میں قوانین کی کمی نہیں، آئین بھی موجود ہے، عدالتیں بھی قائم ہیں، پولیس بھی ہے اور احتساب کے ادارے بھی کام کررہے ہیں دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے نئے ضابطے بنائے جاتے ہیں، منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائیوں کے دعوے کیے جاتے ہیں اور عام شہریوں کو قانون کی پابندی کا پابند بنایا جاتا ہے، لیکن ایک بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا پاکستان میں قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے؟ اگر قانون کی خلاف ورزی کرنے والا شخص غریب ہو تو اسے فوری کارروائی، گرفتاری اور مقدمے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اگر ملزم کسی طاقتور سیاسی خاندان، بااثر کاروباری حلقے یا مقتدر طبقے سے تعلق رکھتا ہو تو کیا اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جاتا ہے؟
پاکستان میں عام شہری معمولی نوعیت کے مقدمات میں برسوں عدالتوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں غریب شخص کے لیے وکیل کی فیس، مقدمے کے اخراجات، روزگار سے چھٹی اور عدالت تک آنے جانے کا خرچ برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے کئی خاندان مقدمات کی پیروی کرتے کرتے اپنی جمع پونجی ختم کردیتے ہیں، جبکہ بااثر افراد مہنگے وکیلوں، قانونی موشگافیوں اور طویل عدالتی کارروائیوں سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اگر کسی غریب کو معمولی الزام میں گرفتار کرلیا جائے تو اس کے لیے ضمانت حاصل کرنا بھی مشکل ہوسکتا ہے، جبکہ بااثر ملزمان کو قانونی ریلیف ملنے کی خبریں بار بار سامنے آتی رہتی ہیں اگرچہ ہر مقدمے کے حالات مختلف ہوتے ہیں، لیکن انصاف تک رسائی میں معاشی فرق ایک سنجیدہ مسئلہ ہے
پاکستان میں طاقتور افراد کے احتساب کی بحث کا ایک اہم واقعہ پاناما پیپرز کا معاملہ تھا۔ 2016 میں سامنے آنے والی دستاویزات میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے خاندان سے متعلق بیرون ملک کمپنیوں اور جائیدادوں کے معاملات زیر بحث آئے اس معاملے پر سپریم کورٹ میں مقدمہ چلا اور جولائی 2017 میں عدالت نے نواز شریف کو عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیا بعد ازاں احتساب عدالت میں بھی مقدمات چلے
یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین سیاسی عہدے پر فائز شخص بھی عدالتی کارروائی کی زد میں آسکتا ہے تاہم، اس کے بعد مختلف مقدمات میں بریت، سزاؤں کی معطلی اور دیگر عدالتی فیصلوں نے یہ بحث بھی جاری رکھی کہ احتساب کا نظام تمام سیاسی جماعتوں اور بااثر افراد کے لیے یکساں معیار پر کام کرتا ہے یا نہیں کسی مقدمے میں بریت یا سزا کا خاتمہ بذات خود ناانصافی کا ثبوت نہیں، کیونکہ ہر ملزم کو منصفانہ سماعت اور اپیل کا حق حاصل ہے اصل سوال یہ ہے کہ کیا تمام افراد کے خلاف تحقیقات غیر جانب دارانہ اور قانون کے مطابق ہوتی
پاکستان میں سیاسی احتجاج کے دوران عام کارکنوں اور مظاہرین کی گرفتاریوں، مقدمات اور طویل حراست کے معاملات بارہا سامنے آئے ہیں۔ 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد بڑی تعداد میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور مختلف مقدمات درج ہوئے۔ بعض افراد کو ضمانت ملی، بعض مقدمات میں کارروائیاں جاری رہیں اور متعدد ملزمان کے خلاف قانونی عمل مختلف مراحل سے گزرا
ان واقعات نے فوجی تنصیبات پر حملوں، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور سیاسی احتجاج کے دوران تشدد میں ملوث افراد کی جواب دہی کے ساتھ ساتھ منصفانہ ٹرائل، گرفتاریوں کے طریقہ کار اور شہری حقوق کے تحفظ پر بھی سوالات اٹھائے اگر کوئی شخص جرم میں ملوث ہو تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، لیکن محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کسی کو سزا دینا بھی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے قانون کی بالادستی اسی وقت قائم ہوسکتی ہے جب جرم ثابت کرنے کے لیے شواہد پیش کیے جائیں اور عدالتیں بغیر کسی دباؤ کے فیصلہ کریں
17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کارروائی کے دوران پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں سمیت 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے اس واقعے نے پولیس کے اختیارات، سیاسی ذمہ داری اور سرکاری طاقت کے استعمال پر ملک گیر بحث چھیڑ دی واقعے کی تحقیقات، مختلف مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کے باوجود متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف اور ذمہ داروں کے تعین کا معاملہ طویل عرصے تک تنازع کا شکار رہا
ماڈل ٹاؤن کا واقعہ اس سوال کو نمایاں کرتا ہے کہ جب شہریوں کی جان سرکاری کارروائی کے دوران ضائع ہو تو ذمہ داری کا تعین کتنی شفافیت سے کیا جاتا ہے اگر عام شہری پر تشدد کرنے والا شخص قانون کے سامنے جواب دہ ہے تو وردی، سرکاری عہدہ یا سیاسی تعلق رکھنے والے فرد کو بھی اسی معیار پر پرکھا جانا چاہیے سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی میں بھی شواہد اور قانونی طریقہ کار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، لیکن تحقیقات کا غیر ضروری طور پر طویل ہونا عوام کا اعتماد کم کرتا ہے
سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نومبر 2007 میں آئین معطل کرنے اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے معاملے پر سنگین غداری کا مقدمہ چلایا گیا۔ دسمبر 2019 میں خصوصی عدالت نے ان کی غیر موجودگی میں انہیں سزائے موت سنائی بعد ازاں جنوری 2020 میں لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کی تشکیل اور کارروائی سے متعلق قانونی بنیادوں پر فیصلہ کالعدم قرار دیا اس معاملے میں عدالتی فیصلوں اور اپیلوں نے یہ واضح کیا کہ طاقتور ترین عہدوں پر رہنے والے افراد کے خلاف کارروائی بھی پیچیدہ آئینی اور قانونی مراحل سے گزرتی ہے
اس مقدمے کو صرف سزا یا بریت کی بحث تک محدود نہیں کیا جاسکتا اصل سوال یہ ہے کہ آئین کی خلاف ورزی کے الزامات کی تحقیقات اور فیصلہ سازی ایسے شفاف طریقے سے ہونی چاہیے کہ کسی عہدے یا ادارے کی طاقت انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے
عام شہری کی زندگی میں قانون کا سامنا اکثر ٹریفک چالان، بجلی کے بل، ٹیکس، پولیس کے رویے، زمین کے تنازع یا معمولی فوجداری مقدمے کی صورت میں ہوتا ہے ان معاملات میں ایک غریب شخص کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے بھی وقت اور رقم خرچ کرنا پڑسکتی ہے اس کے برعکس، بڑے مالیاتی جرائم، سرکاری وسائل کے مبینہ غلط استعمال، ٹیکس چوری یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمات میں کارروائی کی رفتار اور نتائج پر عوام اکثر سوال اٹھاتے ہیں
یہ کہنا درست نہیں کہ ہر طاقتور شخص قانون سے بچ جاتا ہے یا ہر غریب شخص کو سزا ہوجاتی ہے پاکستان میں بااثر افراد کو سزائیں بھی ہوئی ہیں اور کمزور مالی حیثیت رکھنے والے افراد بری بھی ہوئے ہیں لیکن اگر عوام کو مسلسل یہ محسوس ہو کہ انصاف حاصل کرنے کے امکانات ان کے وسائل، تعلقات اور سیاسی حیثیت سے متاثر ہوتے ہیں تو یہ احساس خود نظام عدل پر اعتماد کے لیے خطرناک ہے
پاکستان میں دہشت گردی کی مالی معاونت، منی لانڈرنگ اور غیر قانونی مالی لین دین روکنے کے لیے قوانین اور نگرانی کے ضابطے مزید سخت کیے جارہے ہیں یہ اقدامات اس وقت مؤثر ثابت ہوں گے جب ان کا اطلاق عام شہری سے لے کر بڑے کاروباری گروپوں، سیاسی شخصیات اور ریاستی عہدے داروں تک یکساں طور پر ہو اگر مالیاتی اداروں سے غریب صارف کی معمولی رقم کا حساب مانگا جائے لیکن اربوں روپے کے مشتبہ لین دین کی تحقیقات غیر شفاف رہیں تو قانون کے مقصد پر سوال اٹھیں گے
اسی طرح احتساب کے اداروں کو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر کام کرنا ہوگا حکومت میں موجود افراد، اپوزیشن کے رہنما، کاروباری شخصیات اور سرکاری افسران سب کے لیے ایک ہی قانونی معیار ہونا چاہیے کسی شخص کو صرف سیاسی مخالف ہونے کی وجہ سے نشانہ بنانا بھی غلط ہے اور کسی بااثر فرد کو تعلقات کی بنیاد پر رعایت دینا بھی انصاف کے خلاف ہے
پاکستان میں انصاف کا حقیقی امتحان یہ نہیں کہ کتنے قوانین بنائے گئے یا کتنے لوگوں کو گرفتار کیا گیا، بلکہ یہ ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ہر شخص کے خلاف شواہد کی بنیاد پر کارروائی ہوتی ہے یا نہیں غریب شہری کو بروقت سماعت، مفت یا کم خرچ قانونی مدد اور پولیس کے غیر جانب دارانہ رویے کی ضمانت ملنی چاہیے طاقتور ملزم کو بھی منصفانہ ٹرائل کا حق حاصل ہے، لیکن اسے اپنے عہدے، دولت یا تعلقات کی بنیاد پر خصوصی رعایت نہیں ملنی چاہیے
ریاست کا وقار اس میں نہیں کہ وہ کمزور کو سزا دینے کی کتنی طاقت رکھتی ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ طاقتور کو بھی قانون کے سامنے جواب دہ بنانے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے جب تک پاکستان میں قانون کا معیار دولت، عہدے، سیاسی تعلق اور اثر و رسوخ سے آزاد نہیں ہوگا، اس وقت تک قانون کی بالادستی کا دعویٰ عوام کے لیے ایک ادھورا وعدہ ہی رہے گا




