Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

‎لیری ایلیسن کی طاقت، دولت اور سیاست کا وسیع جال، مصنوعی ذہانت سے امریکی میڈیا اور وائٹ ہاؤس تک اثر و رسوخ کی کہانی

‎لیری ایلیسن کی طاقت، دولت اور سیاست کا وسیع جال، مصنوعی
ذہانت سے امریکی میڈیا اور وائٹ ہاؤس تک اثر و رسوخ کی کہانی

امریکی ٹیکنالوجی صنعت کے ارب پتی کاروباری شخصیت لیری ایلیسن نے اپنی دولت اور کاروباری سلطنت کو صرف سافٹ ویئر تک محدود نہیں رکھا،ان کا اثر و رسوخ مصنوعی ذہانت کے لیے بڑے ڈیٹا مراکز، ٹک ٹاک، ہالی وڈ کے بڑے فلمی اداروں، امریکی ذرائع ابلاغ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایوانِ صدر تک پھیل چکا ہے،امریکی جریدے وینٹی فیئر کی تفصیلی پروفائل میں صحافی ٹام ڈوٹن نے اس وسیع کاروباری اور سیاسی نیٹ ورک کا جائزہ لیا ہے اور بتایا ہے کہ ایلیسن کس طرح ٹیکنالوجی، میڈیا اور سیاسی طاقت کے اہم مراکز میں اپنی جگہ مضبوط کر رہے ہیں
ایلیسن کی کہانی محض ایک کامیاب کاروباری شخصیت کی دولت میں اضافے کی داستان نہیں، بلکہ یہ بھی دکھاتی ہے کہ جب ایک شخص کے پاس بے پناہ سرمایہ، ٹیکنالوجی کا بنیادی ڈھانچہ، ذرائع ابلاغ اور بااثر سیاسی شخصیات تک رسائی جمع ہو جائے تو اس کا اثر و رسوخ کس قدر وسیع ہو سکتا ہے
اوریکل سے مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ تک
لیری ایلیسن نے 1977 میں اوریکل کی بنیاد رکھنے کے بعد ڈیٹا بیس سافٹ ویئر کے کاروبار میں اپنی جگہ بنائی،وقت کے ساتھ ان کی کمپنی دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شامل ہو گئی،وینٹی فیئر کے مطابق، ایلیسن کی کاروباری حکمت عملی کا ایک اہم پہلو کمپنی کے حصص پر اپنی گرفت مضبوط رکھنا رہا ہے،اوریکل کی جانب سے اپنے حصص واپس خریدنے کے نتیجے میں کمپنی میں ایلیسن کی ملکیت کا تناسب بھی بڑھا
مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت نے انہیں ایک نیا موقع فراہم کیا،اوریکل نے بڑے ڈیٹا مراکز کی تعمیر اور کمپیوٹنگ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری شروع کر دی،ان منصوبوں میں مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی اہم شراکت دار بن گئی
جنوری 2025 میں صدر ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں پہلے مکمل دن کے موقع پر ایلیسن، اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین اور سافٹ بینک کے سربراہ ماسایوشی سون کے ساتھ ایک بڑے ڈیٹا سینٹر منصوبے، اسٹارگیٹ، کے اعلان میں شریک ہوئے،اس منصوبے کے لیے 500 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کا ہدف پیش کیا گیا تھا
لیکن اس توسیع کے ساتھ مالی خطرات بھی بڑھ گئے،وینٹی فیئر کی رپورٹ کے مطابق اوریکل کے قرضوں کا حجم تقریباً 130 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور کمپنی کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا،اوپن اے آئی کے ساتھ بڑے معاہدوں پر انحصار نے بھی سرمایہ کاروں کے سامنے سوالات کھڑے کیے کہ اگر مصنوعی ذہانت کی صنعت کی ترقی توقعات سے کم رہی تو اوریکل کی بھاری سرمایہ کاری کا کیا بنے گا
یہاں ایلیسن کی حکمت عملی کا بنیادی تضاد سامنے آتا ہے،ایک طرف وہ اوریکل کو مصنوعی ذہانت کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کا اہم فراہم کنندہ بنانا چاہتے ہیں، دوسری طرف اس مقصد کے لیے قرض اور مستقبل کے معاہدوں پر انحصار کمپنی کے لیے خطرات بڑھا سکتا ہے
ہالی وڈ اور امریکی ذرائع ابلاغ میں خاندانی سلطنت
ایلیسن کے اثر و رسوخ کا دوسرا بڑا میدان ذرائع ابلاغ ہے،ان کے بیٹے ڈیوڈ ایلیسن کی کمپنی اسکائی ڈانس نے پیراماؤنٹ کو اپنے کاروباری دائرے میں شامل کیا، جس کے نتیجے میں سی بی ایس نیوز بھی اس خاندانی کاروباری سلطنت کے دائرے میں آ گیا،اس کے بعد وارنر برادرز ڈسکوری کے حصول کے لیے تقریباً 110 ارب ڈالر مالیت کا سودا بھی رپورٹ کا اہم حصہ ہے
اس طرح ایک ہی خاندان کی مالی طاقت کا دائرہ فلم سازی، ٹیلی وژن، خبروں اور تفریحی مواد کی صنعت تک پھیلنے لگا ہے،ایلیسن کے بیٹے کی قیادت میں ہونے والی ان خریداریوں میں والد کی مالی معاونت اور ضمانتوں نے اہم کردار ادا کیا
وینٹی فیئر کے مطابق، ڈیوڈ ایلیسن نے اپنے والد کی مالی پشت پناہی سے ہالی وڈ میں ایک بڑے کاروباری گروپ تشکیل دیا ہے ، اس پیش رفت نے ذرائع ابلاغ کی ملکیت کے ارتکاز اور خبروں کی ادارتی آزادی سے متعلق سوالات بھی پیدا کیے ہیں
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے جریدے سے گفتگو میں اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ اتنے بڑے میڈیا اداروں کی ملکیت ایک ہی خاندان کے پاس جمع ہو رہی ہے، بالخصوص ایسے خاندان کے پاس جس نے صدر ٹرمپ اور دائیں بازو کی تنظیموں کی حمایت میں لاکھوں ڈالر کے عطیات دیے ہیں
ایلیسن کا خاندان ٹک ٹاک کے امریکی کاروبار سے بھی وابستہ ہے،اس طرح فلموں اور ٹیلی وژن سے لے کر سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک ان کے کاروباری مفادات پھیل چکے ہیں
ٹرمپ، ریپبلکن سیاست اور اسرائیل سے تعلقات
لیری ایلیسن کی سیاسی سرگرمیوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات خاص اہمیت رکھتے ہیں،وینٹی فیئر کے مطابق، ایلیسن نے ٹیکنالوجی صنعت کے ان کاروباری رہنماؤں کی صف میں جگہ بنائی جو ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو اہم سمجھتے ہیں، تاہم ان کا سیاسی کردار ہمیشہ نمایاں اور علانیہ نہیں رہا
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایلیسن نے 2024 میں ٹرمپ کے حامی ایک غیر منافع بخش ادارے کو 45 ملین ڈالر عطیہ دیے تھے،اس کے باوجود جریدے کا کہنا ہے کہ ان کی تمام سیاسی سرگرمیوں کو کسی ایک منظم سیاسی منصوبے کا حصہ قرار دینا آسان نہیں،ان کے بعض قریبی حلقے انہیں روایتی جماعتی سیاست سے بالاتر کاروباری شخصیت کے طور پر پیش کرتے ہیں
اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ایلیسن کے قریبی تعلقات بھی رپورٹ میں نمایاں ہیں،ایلیسن اسرائیل کے مستقل حامی رہے ہیں اور انہوں نے نیتن یاہو کی میزبانی بھی کی،جریدے کے مطابق، ایران کے جوہری معاہدے پر ایلیسن کو شدید اعتراض تھا اور اسرائیل کے بارے میں سابق صدر براک اوباما کی پالیسیوں سے بھی وہ ناخوش تھے
برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ ان کے تعلقات بھی محض ذاتی دوستی تک محدود نہیں،ایلیسن کی فاؤنڈیشن نے ٹونی بلیئر انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل چینج کو بڑی مالی امداد فراہم کی،اس ادارے کا مقصد حکومتوں کو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور انتظامی اصلاحات کے استعمال کی طرف راغب کرنا ہے
رپورٹ کے مطابق، 2023 میں ایلیسن فاؤنڈیشن کے خیراتی عطیات کا 97 فیصد سے زیادہ، تقریباً 52.5 ملین ڈالر، اسی ادارے کو دیا گیا،2024 میں اس کی تقریباً 70 ملین ڈالر کی تمام امداد بھی اسی ادارے کو ملی،عطیات کے سرکاری ریکارڈ میں ان کا مقصد افریقہ میں مؤثر حکمرانی کے منصوبوں کی معاونت بتایا گیا
اس نوعیت کی مالی معاونت سے ایلیسن کے لیے ایسے بین الاقوامی حلقوں تک رسائی ممکن ہوتی ہے جہاں ٹیکنالوجی کی کمپنیاں اپنی مصنوعات اور خدمات متعارف کرانا چاہتی ہیں،تاہم، اس تعلق سے کسی مخصوص حکومت کے فیصلے پر ایلیسن کے براہ راست اثر و رسوخ کا تعین کرنے کے لیے الگ شواہد درکار ہوں گے
دولت، خاندان اور ذاتی زندگی
ایلیسن کی زندگی میں غیر معمولی دولت اور کاروباری کامیابی کے ساتھ ذاتی نقصان اور خاندانی تعلقات بھی اہم رہے ہیں،رپورٹ کے مطابق، انہوں نے اپنی دولت کا بڑا حصہ اوریکل کے حصص میں برقرار رکھا اور ذاتی اخراجات کے لیے حصص فروخت کرنے کے بجائے ان کے عوض قرض لینے کا طریقہ اپنایا،ان کے حصص کا ایک بڑا حصہ ذاتی قرضوں کے لیے ضمانت کے طور پر بھی استعمال ہوا
ان کے بیٹے ڈیوڈ کی کاروباری کامیابیوں میں سرمایہ کاری اور ہالی وڈ میں توسیع ان کی خاندانی ترجیحات کی عکاسی کرتی ہے،۱دوسری جانب ان کی بیٹی میگن ایلیسن نے فلم سازی کے نسبتاً مختلف راستے کا انتخاب کیا اور اناپورنا پکچرز کے ذریعے فنکارانہ نوعیت کی فلموں میں سرمایہ کاری کی
ایلیسن کی زندگی میں صحت اور سرطان کے علاج کی تحقیق بھی اہم ہو گئی ہے،قریبی دوستوں اور اہل خانہ کو سرطان کے باعث کھونے کے بعد انہوں نے صحت، طبی تحقیق اور علاج کے نئے طریقوں میں اربوں ڈالر لگائے،تاہم، ان سرمایہ کاریوں کے نتیجے میں سرطان کے علاج میں کتنی عملی پیش رفت ہوئی ہے، اس کا واضح تعین کرنا ابھی مشکل ہے
ہوائی کے جزیرے لانائی میں ان کی وسیع ملکیت بھی ان کی دولت اور مقامی زندگی پر اثر و رسوخ کی مثال ہے،جزیرے کی بڑی تعداد میں جائیدادوں اور کاروباری سرگرمیوں پر ان کی گرفت ہے،وینٹی فیئر کے مطابق، مقامی باشندے ان کی سرمایہ کاری سے پیدا ہونے والی سہولتوں اور معاشی سرگرمیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، لیکن جزیرے کی زندگی پر ایک ارب پتی کی غیر معمولی گرفت بھی اس انتظام کا حصہ ہے
اصل سوال: ایک فرد کے ہاتھ میں کتنی طاقت جمع ہو سکتی ہے؟
وینٹی فیئر کی رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ لیری ایلیسن کی طاقت کو صرف ان کی دولت سے نہیں سمجھا جا سکتا،ان کی کاروباری سلطنت ایسے شعبوں میں موجود ہے جو جدید معیشت اور سیاست کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں،مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا مراکز، سوشل میڈیا، فلم اور ٹیلی وژن، حکومتی ٹیکنالوجی اور بااثر سیاسی شخصیات تک رسائی
یہ تمام شعبے ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے ہیں،مصنوعی ذہانت کو بڑے ڈیٹا مراکز درکار ہیں، میڈیا عوامی مباحثے اور معلومات کی ترسیل پر اثر انداز ہوتا ہے، جبکہ حکومتیں ٹیکنالوجی کے ضابطوں، سرکاری معاہدوں اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کے بارے میں فیصلے کرتی ہیں،ایسے ماحول میں ایک ہی کاروباری خاندان کی متعدد شعبوں میں موجودگی اس کے اثر و رسوخ کو مزید بڑھا سکتی ہے
تاہم، یہ فرق برقرار رکھنا ضروری ہے کہ کاروباری ملکیت، سیاسی عطیات اور بااثر شخصیات سے تعلقات بذات خود کسی مخصوص سیاسی فیصلے کو کنٹرول کرنے کا ثبوت نہیں ہیں،وینٹی فیئر کی رپورٹ ان تعلقات اور مفادات کے باہمی امتزاج کو سامنے لاتی ہے، جبکہ ان کے حقیقی سیاسی اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے ہر معاملے کے شواہد الگ دیکھنا ضروری ہے

قومی خبریں سے مزید