Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

خیبر پختونخوا میں گورنر راج سے سیاسی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ

خیبر پختونخوا میں گورنر راج سے سیاسی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کے نفاذ، منتخب صوبائی حکومت کے خاتمے اور گورنر راج کے بعد سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے معروف پاکستانی صحافی زاہد حسین کے مطابق، صوبے میں طاقت کے ذریعے انتظام چلانے کی کوشش سیاسی بے چینی، دہشت گردی اور وفاقی حکومت کے ساتھ اختلافات کو مزید گہرا کرسکتی ہے ان کے نزدیک یہ اقدام پاکستان میں جمہوری نظام کے بجائے سخت گیر حکمرانی کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کی علامت ہے
اسلام آباد اور پشاور کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کرنے کا اعلان کیا وفاقی دارالحکومت میں کنٹینر لگا کر راستے بند کیے گئے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی کوششیں شروع ہوئیں، لیکن طویل ملاقاتوں اور پس پردہ رابطوں کے باوجود اختلافات ختم نہ ہوسکے
زاہد حسین کے مطابق، مذاکرات میں بنیادی رکاوٹ عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ تھا تحریک انصاف چاہتی تھی کہ اس کے بانی اور زیر حراست سابق وزیر اعظم سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کیا جائے دوسری جانب وفاقی حکومت کا مؤقف تھا کہ مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مطلوبہ تعاون نہیں کررہی تھی
وفاقی حکومت کے بعض وزرا نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھنے کے الزامات بھی عائد کیے تاہم، کالم نگار کے مطابق، صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف پالیسی سازی میں اپنا مؤقف شامل کرنے کی شرط پر تعاون کے لیے تیار تھی ان کے خیال میں سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا تھا، لیکن اس کے بجائے سخت اقدام کیا گیا
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی آخری وقت میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان رابطے کرانے کی کوشش کی ان کے مطابق، تحریک انصاف اپنا احتجاجی مارچ واپس لینے پر آمادہ ہوسکتی تھی، بشرطیکہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جاتی تاہم، ان کی کوششیں کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہی خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی کالم نگار کے نزدیک، اس صورت حال نے سیاسی حل کے امکانات محدود کردیے
زاہد حسین کا کہنا ہے کہ صوبے میں باقاعدہ اعلان سے پہلے ہی عملاً گورنر راج جیسی صورت حال پیدا ہوچکی تھی وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی احتجاجی مارچ کی قیادت کررہے تھے، جبکہ چیف سیکریٹری اور پولیس سربراہ کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ گورنر اور اسلام آباد سے احکامات لے رہے تھے صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر کابینہ کے بعض ارکان اور قانون سازوں کو حراست میں لیے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا
ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد صوبائی حکومت ختم کردی گئی اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سمیت کابینہ کے بعض ارکان کو حراست میں لے لیا گیا کالم نگار کے مطابق، سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کے دیگر مقامی رہنماؤں کے خلاف 9 مئی کے واقعات میں مبینہ کردار کے حوالے سے مقدمات چلانے اور انہیں نااہل قرار دینے کے امکانات بھی ظاہر کیے جارہے ہیں یہ الزامات ہیں اور ان کے بارے میں کسی حتمی عدالتی فیصلے کو پیشگی حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے
صوبے کا انتظام چلانے کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کی گئی ہے، جس میں زیادہ تر ماہرین اور غیر منتخب شخصیات شامل ہیں اس کونسل کی نگرانی نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے سپرد کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے تاہم، کالم نگار کا مؤقف ہے کہ اصل اختیار اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے
ان کے مطابق، خیبر پختونخوا میں ایسی کارروائی کسی منتخب صوبائی حکومت کو ہٹانے کی پہلی مثال نہیں، لیکن حالیہ تاریخ میں اسمبلی میں دو تہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کے خلاف اس نوعیت کا وسیع اقدام غیر معمولی ہے ان کا کہنا ہے کہ ایک ایسے صوبے کو چلانا مزید مشکل ہوگا جہاں تحریک انصاف کو عوامی حمایت حاصل ہے، دہشت گردی دوبارہ بڑھ رہی ہے اور سرحدی حالات بھی کشیدہ ہیں
سیاسی بحران کے ساتھ ساتھ معمولات زندگی بھی متاثر ہوئے ہیں پشاور میں سرکاری عمارتوں اور اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں، تعلیمی اداروں کی بندش کی اطلاعات ہیں اور متعدد علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بحال نہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے کالم نگار کے مطابق، بظاہر خاموشی کے باوجود صوبے میں بے چینی موجود ہے اور یہ صورت حال کسی بڑے سیاسی تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبے کو اسلام آباد یا راولپنڈی سے سخت انتظامی کنٹرول کے ذریعے چلانے کی کوشش کی گئی تو اس سے عوامی غصہ بڑھ سکتا ہے ان کے خیال میں، سیاسی طور پر سرگرم آبادی رکھنے والے صوبے میں مقامی منتخب قیادت کو ہٹا کر محض انتظامی احکامات کے ذریعے استحکام قائم کرنا آسان نہیں ہوگا
سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو داخلی سلامتی سے متعلق ہے کالم نگار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تحریک انصاف کے ناراض کارکنوں اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان کسی قسم کا غیر مطلوبہ تعلق پیدا ہونے سے دہشت گردی کے خلاف مشکلات بڑھ سکتی ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا اتحاد قائم ہوچکا ہے، بلکہ یہ ایک ممکنہ خطرے کے طور پر پیش کیا گیا ہے ان کے مطابق، کسی بڑی سیاسی جماعت کو مزید تقسیم یا تنہا کرنے کے نتائج بھی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہوسکتے ہیں
مضمون میں 1971 کے مشرقی پاکستان کے فوجی آپریشن کے بعد دیے گئے ایک سیاسی بیان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس میں پاکستان کے بچ جانے پر خوشی کا اظہار کیا گیا تھا، حالانکہ بعد میں مشرقی پاکستان الگ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا زاہد حسین واضح کرتے ہیں کہ دونوں حالات کا براہ راست موازنہ مکمل طور پر درست نہیں، تاہم ان کا مقصد یہ بتانا ہے کہ کسی سیاسی بحران کو طاقت کے ذریعے ختم کرنے کے دعوے بعض اوقات اس کے برعکس نتائج پیدا کرسکتے ہیں
کالم نگار کے مطابق، خیبر پختونخوا میں ہونے والی کارروائی پاکستان میں بڑھتی ہوئی سخت گیر حکمرانی کی ایک اور مثال ہے ان کا مؤقف ہے کہ تحریک انصاف کو دبانے اور اس کی منتخب صوبائی حکومت ختم کرنے سے سیاسی استحکام کے بجائے مزید بے یقینی پیدا ہوسکتی ہے وہ وفاقی حکومت کے اس مؤقف سے بھی اختلاف کرتے ہیں کہ ہنگامی حالت کے نفاذ نے صوبے اور پاکستان کو بچا لیا ہے
مضمون میں ملک کے موجودہ سیاسی نظام کو ازسرنو ترتیب دینے کی بحث کا بھی ذکر کیا گیا ہے زاہد حسین کے مطابق، بعض حلقوں میں موجودہ نظام کی ناکامی کے بارے میں آوازیں اٹھ رہی ہیں، لیکن ان کے خیال میں مجوزہ تبدیلی کا مقصد جمہوریت کو بحال کرنے کے بجائے حکومتی اختیار کو مزید مضبوط بنانا ہوسکتا ہے
وہ عدلیہ کی آزادی اور آزادی اظہار پر عائد پابندیوں کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کرتے ہیں ان کے مطابق، 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم اور اظہار رائے کو محدود کرنے والے قوانین نے ایسے حالات پیدا کیے ہیں جن میں حکومتی اختیارات پر مؤثر نگرانی مشکل ہوسکتی ہے
خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت اور گورنر راج کا نفاذ صرف صوبائی حکومت کی تبدیلی تک محدود معاملہ نہیں، بلکہ اس کے اثرات پورے پاکستان کے سیاسی اور سلامتی کے ماحول پر پڑسکتے ہیں ان کے نزدیک، مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کے بجائے طاقت کے استعمال سے بحران وقتی طور پر دب تو سکتا ہے، لیکن اس کے بنیادی اسباب ختم نہیں ہوں گے اگر منتخب نمائندگی، عوامی حمایت اور سیاسی اختلافات کو حل کرنے کے راستے مزید محدود کیے گئے تو ملک میں عدم استحکام بڑھنے کا خطرہ موجود رہے گا

قومی خبریں سے مزید