ملتان میں رحمان بابا ایکسپریس کی کئی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 4 افراد جاں بحق، 41 زخمی
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع ملتان میں منگل 13 اکتوبر کو پشاور جانے والی مسافر ٹرین رحمان بابا ایکسپریس حادثے کا شکار ہو گئی شیر شاہ ریلوے اسٹیشن کے قریب ٹرین کی کئی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، جس کے نتیجے میں کم از کم 4 مسافر جاں بحق اور 41 زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں کم عمر بچے بھی شامل ہیں حادثے کے بعد امدادی ٹیموں نے کارروائی شروع کی اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ملتان کے نشتر اسپتال منتقل کیا گیا
ریلوے کے وزیر حنیف عباسی نے 4 مسافروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے انہوں نے وفاقی حکومت کے انسپکٹر ریلوے کو حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقاتی افسر مقرر کیا ابتدائی اطلاعات میں ہلاکتوں کی تعداد 5 بھی بتائی گئی تھی، تاہم وزیر ریلوے کے مطابق ملتان میں ریلوے کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ نے 4 اموات کی تصدیق کی تھی
پاکستان ریلوے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے 41 افراد میں سے 3 کو اسپتال سے فارغ کر دیا گیا، جبکہ 38 افراد کو ملتان کے نشتر اسپتال منتقل کیا گیا زخمیوں میں کم از کم 13 بچے بھی شامل تھے حکام نے متاثرہ افراد کو طبی سہولتیں فراہم کرنے اور ان کے اہل خانہ کی مدد کے لیے اقدامات کیے
ٹرین کے ڈرائیور رضوان عباس نے بتایا کہ حادثے کے وقت ٹرین تقریباً 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہی تھی ان کے مطابق شیر شاہ اسٹیشن کے علاقے سے گزرتے ہوئے انہیں اچانک ایک زور دار جھٹکا محسوس ہوا انہوں نے فوری طور پر بریک لگائی اور ٹرین روکنے میں کامیاب ہو گئے انجن سے باہر نکل کر پیچھے دیکھا تو مسافر بوگیاں پٹری سے اتر چکی تھیں ڈرائیور نے دعویٰ کیا کہ سگنل کلیئر تھا اور ٹرین بھی درست حالت میں تھی تاہم حادثے کی اصل وجہ کا تعین تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی ہو سکے گا
حادثے کے وقت رحمان بابا ایکسپریس میں 500 سے زائد مسافر سوار تھے متاثرہ مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچانے کے لیے متبادل ٹرین روانہ کی گئی، جبکہ سڑک کے ذریعے سفر جاری رکھنے والوں کے لیے بسوں کا انتظام بھی کیا گیا ریلوے حکام نے بڑے اسٹیشنوں پر چوبیس گھنٹے معلومات اور معاونت کے مراکز قائم کیے تاکہ مسافروں کو متبادل سفری سہولتیں فراہم کی جا سکیں اور ضرورت کے مطابق ٹکٹوں کی رقم واپس کی جا سکے
ملتان کے کمشنر عامر کریم خان نے متاثرہ مسافروں اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ مسافروں کے لیے عارضی رہائش، نقل و حمل، ناشتے اور فوری طبی امداد کا بندوبست کیا جائے وزیر ریلوے نے بھی حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کو پاکستان ریلوے کی انشورنس پالیسی کے مطابق معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت کی
حادثے کے بعد ریلوے ٹریفک متاثر ہوئی، تاہم حکام کے مطابق لودھراں اور جہانیاں کے راستوں پر ٹرینوں کی آمدورفت بحال کر دی گئی
یہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب پاکستان ریلوے میں ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے واقعات مسلسل تشویش کا باعث بن رہے ہیں یکم اکتوبر کو شالیمار ایکسپریس اور پاکستان ایکسپریس پٹری سے اترنے کے بعد بڑے حادثات سے بال بال بچی تھیں، جبکہ جعفر ایکسپریس کو بھی گوجر خان کے قریب پٹری پر ایک حادثے کا سامنا کرنا پڑا تھا
اگست میں بھی مختلف مقامات پر ٹرینیں پٹری سے اتری تھیں ان واقعات میں یوسف والا کے قریب کوئلے سے بھری مال گاڑی، جہلم کے قریب راول ایکسپریس، حویلیاں جانے والی ہزارہ ایکسپریس اور بلھے شاہ مسافر ٹرین شامل تھیں جولائی میں بھی شالیمار ایکسپریس، تیزگام اور ہزارہ ایکسپریس سمیت متعدد ٹرینوں کو حادثات پیش آئے تھے
ریلوے کے چیف ایگزیکٹو افسر حفیظ اللہ نے یکم اکتوبر کے واقعات کے بعد کہا تھا کہ گزشتہ 5 سال کے دوران دیکھ بھال اور مرمت میں کمی ان حادثات کی ایک اہم وجہ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلوے نظام کی دیکھ بھال کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں تاہم حالیہ حادثے نے ایک مرتبہ پھر پٹریوں، سگنلوں، بوگیوں اور دیگر تکنیکی نظام کی حفاظت کے بارے میں سوالات پیدا کر دیے ہیں
پاکستان میں ریلوے لاکھوں افراد کے لیے طویل فاصلے کے سفر کا نسبتاً سستا ذریعہ ہے اس نظام میں خرابی یا حفاظتی انتظامات کی کمی سے نہ صرف قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں بلکہ مسافروں کو مالی نقصان، سفری مشکلات اور شدید ذہنی اذیت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ملتان حادثے کی تحقیقات میں یہ معلوم کرنا اہم ہو گا کہ پٹری میں خرابی، سگنلنگ کے نظام، بوگیوں یا کسی دوسرے تکنیکی مسئلے نے کس حد تک کردار ادا کیا مسلسل پیش آنے والے حادثات کے تناظر میں ریلوے کے حفاظتی انتظامات اور مرمت کے نظام کو مؤثر بنانا بھی ضروری ہے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے






