Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

جنگ کا نیا دور، ڈرونز، مصنوعی ذہانت اور معاشی دباؤ نے جنگوں کی شکل بدل دی

جنگ کا نیا دور، ڈرونز، مصنوعی ذہانت اور معاشی دباؤ نے جنگوں کی شکل بدل دی

آج کی جنگیں ماضی کی طرح صرف میدان جنگ میں فوجوں کے درمیان لڑائی تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں، سمندری تجارت، سائبر حملوں اور بین الاقوامی سیاست تک پھیل چکے ہیں۔ یوکرین، روس، ایران اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات نے واضح کیا ہے کہ جدید جنگ میں جدید ہتھیاروں کے ساتھ طویل عرصے تک لڑنے کی صلاحیت، صنعتی پیداوار، معاشی وسائل اور سیاسی حکمت عملی بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں
جنگ کی نوعیت میں اس تبدیلی کا ایک اہم سبب ڈرونز، مصنوعی ذہانت، میزائلوں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا تیزی سے پھیلاؤ ہے یوکرین اور روس کی جنگ میں ڈرونز نے نگرانی، ہدف کی نشاندہی اور حملوں کے طریقوں کو بدل دیا ہے اب نسبتاً کم قیمت کے ڈرونز بھی مہنگے فوجی نظاموں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اس لیے صرف جدید اور مہنگے ہتھیار خریدنا کافی نہیں، بلکہ ان سے دفاع، ان کی مرمت اور انہیں مسلسل استعمال کے قابل رکھنا بھی ضروری ہو گیا ہے
جنگ کے اثرات اب سرحدوں تک محدود نہیں رہتے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے یا تیل کی تنصیبات پر حملوں سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایندھن، خوراک، خام مال اور نقل و حمل مہنگی ہو سکتی ہے مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی بڑھنے سے عام لوگوں کے قرضوں اور گھروں کی قسطوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے یوں ایک خطے میں شروع ہونے والی جنگ ہزاروں میل دور رہنے والے لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر سکتی ہے
ماضی میں بڑی فوجی طاقتیں مختصر مدت میں فیصلہ کن فتح حاصل کرنے کے لیے جدید ہتھیاروں پر انحصار کرتی تھیں، لیکن موجودہ جنگوں نے طویل لڑائی کے لیے مسلسل اسلحہ، گولہ بارود، ایندھن، فاضل پرزوں اور صنعتی پیداوار کی اہمیت دوبارہ نمایاں کر دی ہے اگر کوئی ملک اپنے استعمال شدہ ہتھیاروں کی جگہ نئے ہتھیار تیزی سے تیار نہیں کر سکتا تو اس کی معاشی طاقت لازماً میدان جنگ میں کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی
مضمون میں بین الاقوامی نظام کی کمزوری کو بھی موجودہ بحران کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ، عالمی اداروں، بین الاقوامی قوانین اور سفارت کاری سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ بڑے تنازعات کو روکنے اور ممالک کے درمیان اختلافات حل کرنے میں کردار ادا کریں گے تاہم بڑی طاقتوں کی باہمی رقابت، پابندیوں، تجارتی دباؤ اور فوجی کارروائیوں نے ان اداروں کی مؤثریت پر سوالات اٹھائے ہیں امریکہ، چین اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت بھی عالمی سیاست کو زیادہ پیچیدہ بنا رہی ہے
جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے اسلحے پر قابو پانے کے معاہدوں اور بڑی طاقتوں کے درمیان اعتماد میں کمی سے غلط اندازوں اور کشیدگی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں مصنوعی ذہانت کے ذریعے فوجی اہداف کی شناخت اور حملوں کی منصوبہ بندی نے اخلاقی اور قانونی سوالات بھی پیدا کیے ہیں، خصوصاً اس بارے میں کہ خودکار نظاموں کے فیصلوں کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی
پاکستان کے لیے بھی ان تبدیلیوں کو سمجھنا ضروری ہے افغانستان میں مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیوں، بھارت کے ساتھ ممکنہ تنازع اور خطے کی جغرافیائی صورت حال کے تقاضے ایک جیسے نہیں ہیں ایران کی جغرافیائی گہرائی، دشوار گزار علاقے اور سرحدی حالات اسے دفاع کے بعض ایسے مواقع دیتے ہیں جو پاکستان کو اسی انداز میں حاصل نہیں پاکستان کے بڑے آبادی کے مراکز، شہری ڈھانچے اور اہم آمدورفت کے راستے بھارت کی جانب سے ممکنہ پیش قدمی کے راستوں کے نسبتاً قریب ہیں اس لیے ہر ملک کو اپنی جغرافیائی، معاشی اور عسکری ضروریات کے مطابق دفاعی حکمت عملی بنانا پڑتی ہے
مضمون میں فوجی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد بعض ماہرین کا خیال تھا کہ میدان جنگ میں پیدل فوج کی اہمیت ختم ہو جائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا ٹینکوں اور بڑے بحری جہازوں کے بارے میں بھی وقتاً فوقتاً ایسے سوالات اٹھتے رہے، مگر ان کی افادیت ختم نہیں ہوئی بلکہ انہیں نئے خطرات کے مطابق تبدیل کیا گیا اسی طرح مستقبل میں روبوٹس اور خودکار ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود یہ کہنا مشکل ہے کہ جنگ کی موجودہ شکل مستقل طور پر برقرار رہے گی یا نہیں
مضمون کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہر جنگ سے سبق حاصل کرنا ضروری ہے، لیکن ایک جنگ کے تجربات کو ہر دوسرے تنازع پر جوں کا توں لاگو نہیں کیا جا سکتا یوکرین میں روس کے خلاف جنگ کے حالات، ایران کے خلاف جنگ اور پاکستان کی سرحدی صورت حال میں بنیادی فرق موجود ہیں ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے کچھ اصول مشترک ہو سکتے ہیں، لیکن کامیاب حکمت عملی کے لیے مقامی حالات کو سمجھنا لازمی ہے
آخر میں مصنف اعجاز حیدر اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جنگ کے بارے میں کوئی ایک نظریہ مستقبل کے تمام واقعات کی درست پیش گوئی نہیں کر سکتا ٹیکنالوجی بدلتی رہتی ہے، ممالک کے مفادات تبدیل ہوتے ہیں اور سیاسی فیصلے غیر متوقع نتائج پیدا کر سکتے ہیں جدید دور میں جنگیں زیادہ طویل، ایک دوسرے سے زیادہ منسلک اور حل کرنے میں زیادہ مشکل ہوتی جا رہی ہیں اس لیے اصل چیلنج صرف جنگ جیتنا نہیں بلکہ اس کے معاشی، سیاسی اور انسانی اثرات کو سمجھنا اور ایسے فیصلے کرنا ہے جو تنازعات کو مزید پھیلنے سے روک سکیں

قومی خبریں سے مزید