ساؤتھکیرولائنا میں سینیٹ کا اہم مباحثہ، ٹرمپ کی وفاداری، امیدواروں کی اہلیت اور ایران جنگ پر تلخی، لنڈزے گراہم کی روایتی نشست بھی مقابلے کی نشستوں میں شامل
امریکی ریاست ساؤتھ کیرولائنا میں سینیٹ کی نشست کے لیے پہلے اور واحد طے شدہ انتخابی مباحثے میں ری پبلکن امیدوار ڈارلین گراہم اور ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر اینی اینڈریوز کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا،اتوار، 11 اکتوبر 2026 کو کولمبیا شہر میں ہونے والے مباحثے میں ایران جنگ، قومی سلامتی، معیشت، مصنوعی ذہانت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سیاسی تعلقات نمایاں موضوعات رہے۔ تیسرے امیدوار، لبرٹیرین جماعت کی کاسی وٹینر نے بھی مباحثے میں شرکت کی
مباحثے کا بنیادی تنازعہ اس سوال کے گرد گھومتا رہا کہ جنوبی کیرولائنا کی نمائندگی کے لیے کون زیادہ اہل ہے،ڈارلین گراہم نے اپنے ڈیموکریٹ حریف کو ترقی پسند اور سوشلسٹ سیاست سے جوڑنے کی کوشش کی، جبکہ ڈاکٹر اینڈریوز نے گراہم کے تجربے اور آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھائے،اینڈریوز کا مؤقف تھا کہ سینیٹر کا فرض ریاست کے عوام کی نمائندگی کرنا ہے، نہ کہ وائٹ ہاؤس کی ہدایات پر عمل کرنا
اس انتخابی مقابلے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ سابق سینیٹر لنڈسے گراہم جولائی میں اچانک انتقال کر گئے تھے،ان کی بہن ڈارلین گراہم کو خالی ہونے والی نشست پر مقرر کیا گیا اور بعد میں صدر ٹرمپ کی حمایت سے انہوں نے ری پبلکن پارٹی کا خصوصی پرائمری انتخاب جیت لیا،اب انہیں مکمل 6 سالہ مدت کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کا چیلنج درپیش ہے،مذکورہ سینٹ کی یہ نشست روایتی ریپبلیکن نشست سمجھی جاتی رہی ہے تاہم آئندہ مڈ ٹرم انتخابات میں اب اس نشست پر ریپبلکن امیدوار گراہم 46 فیصد اور ڈیموکریٹ امیدوار اینی اینڈریوز 45 فیصد پر ہیں، جبکہ رسمن ریپورٹس کے الگ سروے میں گراہم 49 فیصد اور اینڈریوز 45 فیصد پر دکھائی گئی ہیں۔
ڈاکٹر اینڈریوز نے گراہم کی قومی سلامتی سے متعلق سابقہ بیان بازی کو بھی ہدف بنایا،ری پبلکن پرائمری مباحثے میں تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے گراہم نے کہا تھا کہ قومی سلامتی ان کا خاص شعبہ نہیں،اینڈریوز نے اس بیان کو بنیاد بنا کر سوال اٹھایا کہ آیا گراہم عالمی تنازعات اور خارجہ پالیسی جیسے اہم معاملات پر سینیٹ میں مؤثر کردار ادا کر سکیں گی،گراہم نے جواب میں اینڈریوز پر ووٹروں کو گمراہ کرنے اور اپنے مؤقف بار بار بدلنے کا الزام لگایا
ایران جنگ کے معاملے پر بھی دونوں امیدواروں کے درمیان اختلاف سامنے آیا،اینڈریوز نے جنگ جاری رکھنے کے فیصلوں اور ان کے معاشی اثرات پر تنقید کی، جبکہ گراہم نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی حمایت کی اور ایران کے خلاف پابندیوں کے حق میں اپنا مؤقف پیش کیا،مباحثے میں گیس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں سمیت عام شہریوں پر جنگ کے ممکنہ معاشی اثرات بھی زیر بحث آئے
مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس پر حکومتی نگرانی کے سوال پر بھی بحث امیدواروں کی اہلیت کے تنازعہ میں تبدیل ہوگئی،گراہم نے مصنوعی ذہانت سے متعلق ٹرمپ کے اقدامات کی حمایت کی، جبکہ اینڈریوز نے کہا کہ گراہم عبوری سینیٹر کی حیثیت سے مناسب انتخاب ہو سکتی تھیں، لیکن اب تک یہ ثابت نہیں کر سکیں کہ وہ مکمل مدت کے لیے اس منصب کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی اہل ہیں،گراہم نے جواب دیا کہ وہ بھی اینڈریوز جتنی ہی اہل ہیں
مباحثے میں ذاتی نام کے استعمال پر بھی تنازعہ ہوا،اینڈریوز نے گراہم کے نام کے معاملے کو سیاسی فائدے سے جوڑا، جبکہ گراہم نے وضاحت کی کہ ان کا قانونی نام ہمیشہ گراہم ہی رہا ہے اور وہ اپنے والدین کی یاد سے وابستگی کے باعث یہ نام برقرار رکھتی ہیں،انہوں نے اینڈریوز کے اعتراض کو ذاتی اور تکلیف دہ قرار دیا
ڈاکٹر اینڈریوز نے خود کو ڈیموکریٹ پارٹی کے بائیں بازو سے الگ دکھانے کی بھی کوشش کی،انہوں نے میڈیکیئر فار آل کی حمایت نہیں کی اور امیگریشن کے معاملے پر ڈیموکریٹس کی ناکامیوں پر بھی تنقید کی،دوسری جانب گراہم نے انہیں سوشلسٹ سیاست سے جوڑتے ہوئے قدامت پسند ووٹروں کو متوجہ کرنے کی کوشش قرار دیا ،یوں مباحثہ صرف دونوں امیدواروں کی اہلیت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹ جماعتوں کے اندر جاری نظریاتی اختلافات بھی نمایاں ہوئے
ساؤتھ کیرولائنا میں اس بار سینیٹ کی نشست کے لیے مقابلہ قومی توجہ حاصل کر رہا ہے،ری پبلکن جماعت روایتی طور پر اس ریاست میں مضبوط رہی ہے، لیکن حالیہ انتخابی مہم نے مقابلے کو زیادہ نمایاں بنا دیا ہے،دونوں امیدواروں کے درمیان ہونے والے مباحثے سے یہ واضح ہوا کہ انتخابی مہم میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں سے وابستگی، قومی سلامتی پر مہارت اور عام شہریوں کے معاشی مسائل اہم موضوعات رہیں گے،ریاست میں قبل از وقت ووٹنگ 19 اکتوبر سے شروع ہونا ہے




