Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکا کی قدامت پسند سیاست کا طاقتور ترین قلعہ لرزنے لگا، ہیریٹیج فاؤنڈیشن سے عملے کی بڑی تعداد کی بغاوت، ٹرمپ کے سیاسی ایجنڈے پر بھی سوالات

امریکا کی قدامت پسند سیاست کا طاقتور ترین قلعہ لرزنے لگا، ہیریٹیج فاؤنڈیشن سے عملے کی بڑی تعداد کی بغاوت، ٹرمپ کے سیاسی ایجنڈے پر بھی سوالات

واشنگٹن:امریکا کی دائیں بازو کی قدامت پسند تنظیموں میں شامل ایک اہم ترین اور بااثر قدامت پسند تنظیم ہیریٹیج فاؤنڈیشن، جو کئی دہائیوں سے ریپبلکن سیاست اور حکومتی پالیسیوں پر اثرانداز رہی ہے، اندرونی نظریاتی اختلافات اور عملے کی بڑی تعداد کی علیحدگی کے باعث بحران سے دوچار ہے،دی نیو یارکر کی صحافی ایما گرین کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق، یہ کشمکش صرف ایک ادارے کے اندرونی معاملات تک محدود نہیں بلکہ ٹرمپ کے بعد امریکی قدامت پسند تحریک کی سمت اور قیادت کے لیے جاری جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے
ہیریٹیج فاؤنڈیشن کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے 1970 کی دہائی میں قیام کے بعد ری پبلکن جماعت کے نظریاتی ایجنڈے کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا،اس کے سابق ملازمین امریکی حکومت کے اہم عہدوں تک پہنچتے رہے اور ادارہ کئی دہائیوں تک قدامت پسند پالیسی سازوں کے لیے ایک مرکزی مرکز بنا رہا،اس کا سالانہ بجٹ تقریباً 100 ملین ڈالر اور محفوظ مالی وسائل 400 ملین ڈالر سے زیادہ بتائے گئے ہیں
ادارے کے موجودہ صدر کیون رابرٹس نے گزشتہ چند برسوں میں اسے ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی تحریک، یعنی میگا، کے زیادہ قریب لانے کی کوشش کی،اسی دوران قدامت پسند حلقوں میں نئی نسل ابھرنے لگی، جو روایتی ری پبلکن قیادت کی آزاد تجارت، بیرونی جنگوں اور بڑے کاروباروں کے حق میں پالیسیوں پر سوال اٹھاتی ہے،یہ نوجوان قوم پرستی، غیر قانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر ملک بدری، روایتی مذہبی اقدار اور امریکی خاندانوں کے معاشی مسائل کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں
اس تبدیلی نے تنظیم کے اندر مختلف نظریاتی گروہوں کے درمیان اختلافات کو گہرا کیا ہے،ایک گروہ ٹرمپ کی قوم پرستانہ سیاست کا حامی ہے، دوسرا اسرائیل کے حوالے سے سخت گیر خارجہ پالیسی کی حمایت کرتا ہے، جبکہ تیسرا گروہ آزاد منڈی، محدود حکومت اور روایتی قدامت پسند معاشی اصولوں کو ترجیح دیتا ہے،ان گروہوں کے درمیان اختلاف صرف پالیسیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ادارے کی قیادت اور مستقبل کی سمت بھی تنازعہ کا حصہ بن گئی ہے۔
تنازعہ کی ایک بڑی وجہ 2025ء کے صدارتی دور کے لیے تیار کیا گیا منصوبہ پروجیکٹ 2025 بھی ہے،ہیریٹیج فاؤنڈیشن کی قیادت میں 100 سے زیادہ تنظیموں نے اس منصوبے میں حصہ لیا تھا،اس میں ممکنہ حکومتی عہدے داروں کا ڈیٹا بیس اور تقریباً 900 صفحات پر مشتمل پالیسی تجاویز شامل تھیں،منصوبے کا مقصد قدامت پسند تحریک کو ایک مشترکہ حکومتی ایجنڈے پر متحد کرنا تھا، لیکن ڈیموکریٹس نے اسے انتخابی مہم میں ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کے لیے استعمال کیا،ٹرمپ نے بھی انتخابی مہم کے دوران اس منصوبے سے لاتعلقی ظاہر کی تھی
حالیہ بحران کو مزید گہرا کرنے والا واقعہ قدامت پسند میڈیا شخصیت ٹکر کارلسن کا سفید فام قوم پرست نک فیوینٹس کے ساتھ انٹرویو بنا،انٹرویو کے بعد امریکی قدامت پسند حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی کہ نسل پرستانہ اور یہود مخالف خیالات رکھنے والی شخصیات کو کس حد تک پلیٹ فارم دیا جانا چاہیے۔
رابرٹس نے اس تنازعہ پر ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت پر تنقید کو لازماً یہود دشمنی قرار نہیں دیا جا سکتا،انہوں نے فیوینٹس کے خیالات کی مخالفت بھی کی، تاہم کارلسن کے دفاع اور انٹرویو پر ردعمل کے انداز نے خود ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے اندر اختلافات پیدا کر دیے،بعض قدامت پسندوں نے رابرٹس کے مؤقف کو آزادی اظہار کا دفاع قرار دیا، جبکہ دوسرے حلقوں نے ان پر یہود دشمنی کے خلاف واضح اور غیر مبہم مؤقف اختیار نہ کرنے پر تنقید کی
اس تنازعہ کے دوران رابرٹس کے چیف آف اسٹاف ریان نیوہاس نے استعفیٰ دے دیا،ادارے کے اندر اس واقعے کی ذمہ داری اور ویڈیو کی تیاری کے طریقہ کار پر مختلف دعوے سامنے آئے،اس کے بعد ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے 6 ارکان بھی الگ ہو گئے، جبکہ یہود دشمنی کے خلاف قائم ایک ٹاسک فورس کے بعض ارکان نے ادارے سے تعلق ختم کر لیا،تنظیم کی میڈیا سرگرمیوں میں بھی نمایاں کمی رپورٹ کی گئی
اس کے بعد معاشی پالیسی کے ماہر رچرڈ اسٹرن اور قانونی شعبے کے سابق سربراہ جان میلکم سے وابستہ اختلافات نے عملے کی علیحدگی کو مزید نمایاں کر دیا،رپورٹ کے مطابق، اسٹرن کے ساتھ 14 ملازمین نے ادارہ چھوڑ دیا،ان میں سے کئی افراد سابق نائب صدر مائیک پینس کی قائم کردہ قدامت پسند تنظیم ایڈوانسنگ امریکن فریڈم میں شامل ہو گئے،اس تنظیم نے دسمبر 2025ء میں ہیریٹیج سے ناخوش ملازمین کو بھرتی کرنے کے لیے 15 ملین ڈالر جمع کیے تھے
یہ پیش رفت امریکی قدامت پسند سیاست میں ایک بنیادی سوال کو نمایاں کرتی ہے،کیا ٹرمپ کے بعد ری پبلکن تحریک کی قیادت روایتی پالیسی اداروں کے ہاتھ میں رہے گی یا نئی نسل کے سیاسی کارکنوں، میڈیا شخصیات اور قوم پرست حلقوں کو زیادہ اختیار ملے گا؟ ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے پاس اب بھی وسیع مالی وسائل اور کئی دہائیوں کا ادارہ جاتی اثر و رسوخ موجود ہے، لیکن اس کی اندرونی تقسیم ظاہر کرتی ہے کہ مالی طاقت اور تاریخی شہرت نظریاتی اختلافات ختم کرنے کے لیے کافی نہیں،
دی نیو یارکر کی رپورٹ کے مطابق، ہیریٹیج فاؤنڈیشن کا بحران دراصل امریکی قدامت پسند تحریک کے اندر جاری وسیع تر تبدیلی کا حصہ ہے،ٹرمپ کے بعد کے سیاسی دور میں اس تحریک کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ اس کے مختلف گروہ اپنی ترجیحات پر کس حد تک اتفاق کر پاتے ہیں اور نئی نسل کے بدلتے سیاسی رجحانات کے ساتھ روایتی قدامت پسند ادارے کس طرح مطابقت پیدا کرتے ہیں

قومی خبریں سے مزید