افغان میڈیکل اسٹوڈنٹس نے ملک بدری سے استثنیٰ مانگ لیا، تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دینے کی اپیل
پاکستان میں زیر تعلیم افغان میڈیکل اسٹوڈنٹس اور اسپتالوں میں اعلیٰ طبی تربیت حاصل کرنے والے افغان ڈاکٹروں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت پر عمل درآمد کی مقررہ مدت 10 اکتوبر کو ختم ہوگئی، جس کے بعد متاثرہ طلبہ نے حکومت سے استثنیٰ دینے اور اپنی ڈگریاں مکمل کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے
افغان طلبہ کا کہنا ہے کہ جن طالب علموں نے قانونی طریقے سے پاکستان میں داخلہ لیا، میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج داخلہ ٹیسٹ پاس کیا اور افغان طلبہ کے لیے مختص نشستوں پر تعلیم شروع کی، انہیں اپنی تعلیم مکمل کرنے کا موقع ملنا چاہیے ان کے مطابق کئی طلبہ برسوں سے پاکستان کے میڈیکل کالجوں میں زیر تعلیم ہیں اور اچانک تعلیم ختم ہونے سے ان کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے
افغان طلبہ کے رابطہ کار عنایت اللہ کے مطابق افغان کوٹے کے تحت ہر سال 12 طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ہے اور خیبر پختونخوا میں کم از کم 80 افغان طلبہ قانونی طریقے سے داخلہ حاصل کرنے کے بعد زیر تعلیم ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض طلبہ کی ویزا درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں جبکہ کچھ کی درخواستوں پر تاحال فیصلہ نہیں ہوا
طلبہ کے نمائندے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 1,000 افغان میڈیکل اسٹوڈنٹس متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں تقریباً 350 خواتین شامل ہیں ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ان طلبہ کے لیے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے مناسب مواقع موجود نہیں، خصوصاً افغان خواتین کو طالبان حکومت کی جانب سے تعلیم پر عائد پابندیوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے حکومت کی ہدایات کے تحت افغان طلبہ اور ڈاکٹروں سے مطلوبہ دستاویزات پیش کرنے یا ملک چھوڑنے کے لیے کہا تھا ان ہدایات میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں، اسپتالوں اور متعلقہ اداروں کو پابند کیا گیا کہ وہ متاثرہ افغان طلبہ اور ڈاکٹروں کو فیصلے سے آگاہ کریں اور اس پر عمل درآمد یقینی بنائیں
حکام کے مطابق ایف سی پی ایس، ایم سی پی ایس، ایم ڈی اور ایم ایس سمیت مختلف اعلیٰ طبی تربیتی پروگراموں میں شامل افغان ڈاکٹروں اور ہاؤس افسران کو بھی 10 اکتوبر تک واپس جانے کی ہدایت دی گئی تھی کالجوں اور اسپتالوں سے کہا گیا تھا کہ وہ ان کی تربیت اور طبی فرائض جاری نہ رہنے دیں، جب تک متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی نئی ہدایت جاری نہ ہو
متاثرہ طلبہ کو افغان پاسپورٹ، درست ویزا یا قیام کی اجازت اور اسلام آباد میں وزارت داخلہ کی جانب سے عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ یا متعلقہ منظوری پیش کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے حکام نے کالجوں اور اسپتالوں سے افغان طلبہ اور زیر تربیت ڈاکٹروں کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں
یہ تنازع گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے پہلے افغان طلبہ کے داخلوں اور تعلیم جاری رکھنے سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں، جنہیں متاثرہ طلبہ نے عدالتوں میں چیلنج کیا۔ طلبہ کا مؤقف ہے کہ انہوں نے قانونی طور پر داخلہ حاصل کیا تھا اور کئی سال کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں اچانک واپس بھیجنا ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کو نقصان پہنچائے گا
5 اکتوبر کو پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے سرکاری میڈیکل کالجوں میں زیر تعلیم 86 افغان طلبہ کی ملک بدری عارضی طور پر روک دی تھی اور انہیں اگلی سماعت تک تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی تھی، بشرطیکہ ان کی تعلیم روکنے کی کوئی دوسری قانونی وجہ موجود نہ ہو عدالت نے متعلقہ وفاقی حکام اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے جواب بھی طلب کیا تھا اس مقدمے کی اگلی سماعت 12 اکتوبر کے لیے مقرر کی گئی تھی
اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ میں بھی افغان میڈیکل اسٹوڈنٹس نے ملک واپسی کے احکامات کو چیلنج کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں 87 افغان طلبہ کے قیام اور تعلیمی ویزوں سے متعلق معاملہ بھی سامنے آیا، جس میں وزارت داخلہ کو ان کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کی ہدایت دی گئی
افغان طلبہ کا مطالبہ ہے کہ حکومت نئی داخلہ پالیسی یا دستاویزات کی شرائط کے معاملے کو پہلے سے زیر تعلیم طلبہ سے الگ رکھے اور انہیں ڈگری مکمل کرنے تک پاکستان میں رہنے کی اجازت دے ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نئے داخلوں کے بارے میں کوئی نئی پالیسی بنانا چاہتی ہے تو اس پر آئندہ آنے والے طلبہ کے لیے عمل کیا جا سکتا ہے، لیکن پہلے سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو درمیان میں تعلیم چھوڑنے پر مجبور نہ کیا جائے
اس معاملے میں حکومت کی پالیسی، طلبہ کی قانونی حیثیت اور عدالتوں کے عبوری احکامات اہم ہیں متاثرہ طلبہ کے لیے حتمی صورت حال کا انحصار متعلقہ حکام کے فیصلوں اور زیر سماعت مقدمات کے نتائج پر ہوگا





