Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

میانمار میں بازار پر فوجی فضائی حملہ، 33 افراد ہلاک، 36 زخمی

میانمار میں بازار پر فوجی فضائی حملہ، 33 افراد ہلاک، 36 زخمی

میانمار کی ریاست رخائن کے شہر کیاوک تاؤ میں ایک بازار اور اس سے ملحقہ پل پر فوجی فضائی حملے میں کم از کم 33 افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوگئے حملہ پیر کو دوپہر کے وقت کیا گیا اور ہلاکتوں میں بازار کے دکاندار، خریدار اور راہ گیر بھی شامل ہیں رخائن میں علاقے پر کنٹرول رکھنے والی اراکان آرمی اور امدادی کارکنوں نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے
اراکان آرمی کے مطابق ایک لڑاکا طیارے نے بازار کے قریب 2 بم گرائے تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ زخمیوں کی حالت اور ملبے میں پھنسے افراد کے باعث ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے ایک امدادی کارکن نے بتایا کہ حملے کے بعد علاقے میں عمارتوں میں آگ لگ گئی، گاڑیاں تباہ ہوئیں اور قریبی پل کو بھی نقصان پہنچا
ایک عینی شاہد کے مطابق حملے کے بعد بازار کے قریب 30 سے زیادہ لاشیں دیکھی گئیں جبکہ امدادی کارکن ملبے سے لاشیں نکالتے رہے ایک خاتون نے بتایا کہ اس کی بہن بازار میں پھل فروخت کرتی تھی لیکن حملے کے بعد نہ اس کا اسٹال ملا اور نہ ہی اس کی بہن کا کچھ پتا چل سکا
کیاوک تاؤ رخائن کا ایک اہم تجارتی مرکز ہے جہاں ریاست کے مختلف علاقوں سے تاجر اور خریدار آتے ہیں یہ علاقہ دریائی راستے کے قریب واقع ہے اور رخائن کو میانمار کے دوسرے حصوں سے جوڑنے والے اہم تجارتی راستوں میں شمار ہوتا ہے طویل عرصے سے جاری لڑائی کے باعث رخائن پہلے ہی خوراک کی قلت اور غربت کا شکار ہے، جبکہ تجارتی راستوں پر پابندیوں نے صورتحال مزید مشکل بنا دی ہے
میانمار کی فوج نے فوری طور پر اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ فوج ماضی میں کہتی رہی ہے کہ اس کی فضائی کارروائیوں کا ہدف مسلح مزاحمتی گروہ ہوتے ہیں اور اس نے مزاحمتی تنظیموں پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے ہیں تاہم اس حملے میں شہری ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں
رخائن میں 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے جاری خانہ جنگی کے دوران حالات انتہائی خراب ہوچکے ہیں اراکان آرمی نے نومبر 2023 میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کیں اور اب ریاست کے 17 میں سے 14 ٹاؤن شپ پر کنٹرول کا دعویٰ کرتی ہے، جبکہ میانمار کی فوج اپنے زیر قبضہ علاقوں کو فضائی طاقت کے ذریعے برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق لڑائی کے باعث رخائن میں تقریباً 5 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں میانمار میں 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد شروع ہونے والے تنازع میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ مختلف مسلح گروہوں اور فوج کے درمیان لڑائی ملک کے کئی علاقوں میں جاری ہے
رخائن میں اس سے پہلے بھی شہری علاقوں پر فضائی حملوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوچکی ہیں گزشتہ دسمبر میں ریاست کے ایک اسپتال پر فوجی فضائی حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے تھے تازہ حملہ خطے میں جاری جنگ کے دوران شہری آبادی کو درپیش خطرات میں مزید اضافے کی نشاندہی کرتا ہے

قومی خبریں سے مزید