دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران وفاق اور خیبر پختونخوا میں سیاسی محاذ آرائی تیز
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے دوران صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں پولیس اور کسٹمز کی چیک پوسٹ پر حملے کے بعد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاق سے صوبے کو جدید اسلحہ اور ضروری سکیورٹی وسائل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ وفاقی وزرا نے صوبائی حکومت پر دہشت گردی سے نمٹنے میں ناکامی کے الزامات عائد کیے ہیں
درازندہ میں ہونے والے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ حملہ آوروں نے زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس پر بھی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2 امدادی کارکن مارے گئے۔ حملے کے بعد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی صورتحال کو قومی انسداد دہشت گردی پالیسی میں مناسب طور پر شامل کیا جانا چاہیے تاکہ پالیسی زمینی حقائق کے مطابق بنائی جا سکے ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کو اعتماد میں لیے بغیر پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا انہوں نے یہ بھی شکایت کی کہ مرکز کی جانب سے جدید ہتھیار اور دیگر ضروری سامان فراہم نہیں کیا جا رہا، حالانکہ صوبہ اس مقصد کے لیے ادائیگیاں کر رہا ہے
تاہم وزیر اعلیٰ کے بیان کے ساتھ ہی سیاسی تنازع بھی سامنے آگیا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کے بعض عناصر پر ملک میں سیاسی تقسیم بڑھانے کا الزام عائد کیا اور صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کی دھمکی پر وفاق کو جواب دیا
وفاقی حکومت کے وزرا نے اس کے جواب میں خیبر پختونخوا کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا وزیر مملکت برائے داخلہ نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت سکیورٹی فورسز کو مطلوبہ قیادت، وسائل اور اختیارات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر افغانستان کے معاملے میں نرم رویہ رکھنے کا الزام بھی عائد کیا وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی کو کالعدم ٹی ٹی پی کا ’’بی ٹیم‘‘ قرار دیا، جس پر سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی
اس دوران یہ معاملہ بھی سامنے آیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا موجودہ بحران کسی ایک سیاسی جماعت کے دور تک محدود نہیں صوبہ طویل عرصے سے دہشت گردی اور شدت پسندی سے متاثر رہا ہے اور حالیہ حملوں میں مسلسل جانی نقصان ہو رہا ہے
سیاسی اختلافات کے درمیان صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی، وسائل کی فراہمی اور افغانستان سے متعلق پالیسی پر اختلافات نمایاں ہوگئے ہیں موجودہ صورتحال میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان بہتر رابطے اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے






