ہمالیہ پگھل رہا ہے، پاکستان اور نیپال موسمیاتی خطرے کے مقابلے کے لیے قریب آنے لگے
پاکستان اور نیپال ہمالیہ اور ہندوکش کے خطے میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون کے نئے امکانات تلاش کر سکتے ہیں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، پانی کی قلت اور شدید موسمی واقعات نے پہاڑی علاقوں کو خاص طور پر متاثر کیا ہے، جبکہ ان خطرات کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔ خطے میں حالیہ قدرتی آفات نے بھی سرحد پار معلومات کے تبادلے اور مشترکہ پیشگی انتباہی نظام کی ضرورت کو نمایاں کیا ہے
ہمالیہ اور ہندوکش کا پہاڑی نظام جنوبی ایشیا کے لیے پانی کا ایک اہم ذریعہ ہے گلیشیئرز اور برف سے نکلنے والے دریاؤں کا پانی لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کی زراعت، پینے کے پانی اور بجلی کی ضروریات سے جڑا ہوا ہے موسمیاتی تبدیلی کے باعث برف باری کے انداز میں تبدیلی، گلیشیئرز کے سکڑنے اور اچانک سیلاب جیسے خطرات بڑھ رہے ہیں، جس کے باعث پہاڑی ممالک کے درمیان تعاون کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے
نیپال نے حالیہ دنوں میں موسمیاتی سفارت کاری کو اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ ملک عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بہت معمولی حصہ ڈالتا ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا غیر معمولی شدت سے کر رہا ہے نیپال موسمیاتی انصاف، مالی معاونت، قدرتی آفات سے تحفظ اور پہاڑی علاقوں کی بحالی کو عالمی مذاکرات میں نمایاں کرنے کی کوشش کر رہا ہے
پاکستان کے لیے بھی یہ معاملہ اہم ہے کیونکہ ملک کے شمالی علاقوں میں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے گلیشیئرز دریائی نظام اور پانی کی دستیابی سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں گلیشیئرز، سیلاب اور پانی کے نظام میں آنے والی تبدیلیاں پاکستان کے لیے طویل مدتی ماحولیاتی اور معاشی چیلنج بن سکتی ہیں
اس پس منظر میں پاکستان اور نیپال گلیشیئرز کی نگرانی، موسمیاتی اعداد و شمار کے تبادلے، سیلاب کی پیشگی اطلاع، پہاڑی علاقوں میں محفوظ انفراسٹرکچر اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے طریقوں پر مشترکہ کام کر سکتے ہیں ایسے تعاون میں سائنسی اداروں اور ماہرین کا کردار بھی اہم ہو سکتا ہے کیونکہ خطے میں پہلے ہی تحقیق اور معلومات کے تبادلے کے لیے علاقائی ادارے موجود ہیں ہندوکش ہمالیہ کے 8 ممالک پر مشتمل بین الاقوامی مرکز برائے مربوط پہاڑی ترقی بھی گلیشیئرز اور موسمیاتی خطرات کی نگرانی پر کام کر رہا ہے
نیپال کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پہاڑی ممالک موسمیاتی تبدیلی کو صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ علاقائی تعاون اور عالمی سفارت کاری کا معاملہ بھی سمجھ رہے ہیں نیپال نے بھارت اور چین کے ساتھ مل کر گلیشیئرز کی نگرانی، سیٹلائٹ معلومات کے تبادلے، ابتدائی انتباہی نظام اور قدرتی آفات سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے لیے ہمالیائی نظام بنانے کی تجویز بھی پیش کی ہے
پاکستان اور نیپال کے درمیان اس نوعیت کا تعاون دونوں ملکوں کو عالمی موسمیاتی مذاکرات میں اپنے مشترکہ مسائل زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرنے کا موقع دے سکتا ہے موسمیاتی مالی معاونت، قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کے ازالے اور پہاڑی علاقوں میں لچکدار انفراسٹرکچر کے لیے عالمی تعاون حاصل کرنا بھی اس سفارتی کوشش کا حصہ بن سکتا ہے
ہمالیائی خطے میں موسمیاتی خطرات بڑھنے کے ساتھ یہ ضرورت بھی بڑھ رہی ہے کہ متاثرہ ممالک صرف آفات کے بعد امداد پر انحصار کرنے کے بجائے پہلے سے معلومات کا تبادلہ، مشترکہ منصوبہ بندی اور پیشگی انتباہی نظام قائم کریں اسی وجہ سے موسمیاتی تعاون پاکستان اور نیپال کے باہمی تعلقات میں ایک نئی سمت پیدا کر سکتا ہے، جس میں ماحول، پانی، قدرتی آفات اور سائنسی تحقیق مشترکہ سفارتی ایجنڈے کا حصہ بنیں گے





