Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکا نے بچوں کے بین الاقوامی اغوا کے مقدمات میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے ویزے روکنے کا اعلان کردیا

امریکا نے بچوں کے بین الاقوامی اغوا کے مقدمات میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے ویزے روکنے کا اعلان کردیا

امریکا نے ایسے غیر ملکی حکام، ججوں، عدالتی منتظمین، قانون نافذ کرنے والے افسران اور دیگر افراد کے خلاف نئی ویزا پابندیوں کا اعلان کیا ہے جو والدین کی جانب سے بچوں کو ایک ملک سے دوسرے ملک لے جانے یا وہاں روک لیے جانے کے مقدمات کے فوری حل میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالتے ہیں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 28 ستمبر کو اعلان کیا کہ ایسے افراد کے امریکی ویزے محدود کیے جا سکتے ہیں جو بین الاقوامی سطح پر بچوں کے اغوا کے مقدمات کے حل میں رکاوٹ ڈالنے کے ذمہ دار ہوں یا اس میں شریک ہوں یہ پابندیاں ایسے افراد کے قریبی اہل خانہ تک بھی بڑھائی جا سکتی ہیں
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد ان بچوں کی اپنے معمول کی رہائش والے ملک واپسی میں مدد کرنا ہے جنہیں والدین یا سرپرست کے تنازع کے دوران دوسرے ملک لے جایا گیا ہو یا وہاں روک لیا گیا ہو۔ بین الاقوامی والدین کے بچوں کے اغوا سے مراد ایسی صورتحال ہے جس میں بچے کو اس ملک سے باہر لے جایا جائے یا وہاں روکا جائے جہاں وہ معمول کے طور پر رہتا تھا اور اس عمل سے دوسرے والدین کے قانونی حقوق متاثر ہوتے ہوں
نئی پالیسی کے تحت ان افراد کو نشانہ بنایا جائے گا جو متعلقہ قوانین، عدالتی احکامات یا پالیسیوں پر عمل درآمد نہ کرکے بچوں کی واپسی کے عمل کو جان بوجھ کر روکیں امریکی حکومت کے مطابق اس اقدام سے ان ممالک پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک اضافی قانونی ذریعہ حاصل ہوگا جو بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے
اس معاملے کا پاکستان سے بھی تعلق ہے کیونکہ پاکستان اور امریکا دونوں 1980 کے ہیگ کنونشن برائے بین الاقوامی بچوں کے اغوا کے فریق ہیں اس معاہدے کا بنیادی مقصد ایسے بچوں کی فوری واپسی کے لیے قانونی طریقہ کار فراہم کرنا ہے جنہیں ان کے معمول کی رہائش والے ملک سے غلط طور پر دوسرے ملک منتقل کیا گیا ہو یا وہاں روک لیا گیا ہو
تاہم نئی پابندی پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے تمام شہریوں کے خلاف عمومی ویزا پابندی نہیں ہے اس کا اطلاق مخصوص افراد پر اس وقت ہوگا جب امریکی حکومت یہ طے کرے گی کہ وہ نئی پالیسی میں بیان کردہ شرائط کے تحت بچوں کی واپسی یا مقدمات کے فوری حل میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے میں ملوث ہیں
امریکی قانون کے تحت محکمہ خارجہ پہلے ہی بین الاقوامی بچوں کے اغوا کے مقدمات کی نگرانی اور ان کے حل کے لیے مختلف اقدامات کرتا ہے۔ 2026 کی امریکی رپورٹ کے مطابق ایسے معاملات میں ان ممالک کی کارکردگی بھی دیکھی جاتی ہے جہاں بچوں کی واپسی کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کے تحت ذمہ داریاں پوری نہ ہونے کے خدشات ہوں
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ نئی ویزا پالیسی کا مقصد بچوں کو ان کے والدین سے دوبارہ ملانے اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت ذمہ داریوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے جواب دہی کا ایک اضافی طریقہ فراہم کرنا ہے

قومی خبریں سے مزید