Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اندرون سندھ کے بچے امتحانوں میں ٹاپ، پھر عالمی سائنس اور ٹیکنالوجی میں کہاں؟ سندھ کا تعلیمی معجزہ یا نظام پر بڑا سوال؟

اندرون سندھ کے بچے امتحانوں میں ٹاپ، پھر عالمی سائنس اور ٹیکنالوجی میں کہاں؟ سندھ کا تعلیمی معجزہ یا نظام پر بڑا سوال؟

اگر زرداری اور مراد علی شاہ کی حکومتوں کے زیرِ انتظام سندھ کا یہی تعلیمی نظام چلتا رہا تو شاید ایک دن سندھ کو دنیا کی نئی سائنس کا بانی قرار دے دیا جائے گا،میڈیکل سائنس سے انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت سے جدید ٹیکنالوجی تک ہر میدان میں اندرون سندھ کے بچے دنیا فتح کرتے دکھائی دیں گے، جبکہ کراچی والے پان اور گٹکا فروخت کرنے میں اپنی صلاحیتیں استعمال کر رہے ہوں گے!

لیکن طنز سے ہٹ کر اصل سوال اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ ہے
سندھ کے تازہ ایم ڈی کیٹ نتائج میں 33,336 امیدواروں میں سے 19,323 کامیاب قرار پائے اور کامیابی کی شرح 57.96 فیصد رہی،ٹاپ 20 میں کراچی کا کوئی طالب علم شامل نہیں، جبکہ تھرپارکر سمیت اندرون سندھ کے کئی طلبہ نے غیر معمولی نمبر حاصل کیے
یہ کامیابی یقیناً ان بچوں کی محنت اور قابلیت کا ثبوت ہو سکتی ہے،لیکن اسی مقام پر سندھ کے تعلیمی نظام سے ایک بنیادی سوال پوچھنا ضروری ہے
اگر اندرون سندھ کے بچے مسلسل میٹرک، انٹرمیڈیٹ اور داخلہ امتحانات میں غیر معمولی نمبر حاصل کر رہے ہیں، تو پھر یہ ذہانت اعلیٰ تعلیم کے اگلے مرحلے میں کہاں جاتی ہے؟
دنیا کی بڑی جامعات میں، جدید تحقیق میں، عالمی نجی کمپنیوں میں، مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ، طب، بایوٹیکنالوجی اور نئی ٹیکنالوجی کی صنعتوں میں اندرون سندھ سے نکلنے والے ان غیر معمولی ذہین بچوں کی تعداد اسی تناسب سے کیوں دکھائی نہیں دیتی؟
یہ سوال کراچی بمقابلہ اندرون سندھ کا نہیں،اصل سوال امتحانی نمبروں اور حقیقی تعلیمی صلاحیت کے درمیان تعلق کا ہے
اگر کوئی طالب علم 180 میں 176، 177، 178 یا 179 نمبر حاصل کرتا ہے تو قدرتی طور پر توقع پیدا ہوتی ہے کہ چند برس بعد یہی نوجوان عالمی معیار کی یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں اور نجی شعبے کی اعلیٰ ملازمتوں میں بھی نظر آئے گا،اگر ایسا نہیں ہو رہا تو ہمیں بچے پر نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام پر سوال اٹھانا چاہیے
کیا ہمارا امتحانی نظام واقعی تخلیقی صلاحیت، تحقیق، مسئلہ حل کرنے کی قابلیت، تنقیدی سوچ اور عملی علم کو ناپ رہا ہے؟ یا ہم بچوں کو ایک ایسے امتحانی طریقۂ کار کے لیے تیار کر رہے ہیں جس میں زیادہ نمبر حاصل کرنا ہی کامیابی کا آخری معیار بن جاتا ہے؟
اور اگر اندرون سندھ کی یہی نسل واقعی غیر معمولی ذہانت رکھتی ہے تو پھر ایک اور سوال بھی ناگزیر ہے،یہ ذہانت نجی شعبے، عالمی جامعات اور جدید معیشت میں کتنی تبدیل ہو رہی ہے؟
کیونکہ قومیں صرف امتحانوں میں زیادہ نمبر لے کر ترقی نہیں کرتیں،قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب امتحان میں حاصل کیا گیا علم تحقیق، ایجاد، کاروبار، صنعت، طب، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی میں تبدیل ہوتا ہے
ورنہ ایک عجیب صورت حال پیدا ہو جاتی ہے،امتحانوں میں شاندار نمبروں کی قطاریں، سرکاری ملازمتوں کے لیے طویل دوڑ، لیکن عالمی سائنس، نجی صنعت اور جدید ٹیکنالوجی میں وہی چہرے کہیں دکھائی نہیں دیتے
یہاں سندھ حکومت سے زیادہ بڑا سوال پورے معاشرے اور تعلیمی نظام سے ہے
اگر ہمارے سب سے ذہین بچے صرف امتحانی نمبروں، سرکاری میڈیکل و انجنئیرنگ کالجوں اور سرکاری ملازمتوں تک محدود رہ جائیں تو پھر ان نمبروں کا قومی ترقی میں حقیقی فائدہ کہاں ہے؟
تعلیم کا مقصد صرف یہ نہیں کہ بچہ امتحان میں اول آئے،اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ نئی دوا بنائے، نئی مشین ایجاد کرے، مصنوعی ذہانت میں نئی تحقیق کرے، عالمی کمپنی قائم کرے، دنیا کی کسی بڑی یونیورسٹی میں تحقیق کرے یا اپنے معاشرے کا کوئی بڑا مسئلہ حل کرے
اگر امتحانی نتائج اور عملی دنیا کی کامیابی کے درمیان یہ فاصلہ برقرار رہا تو سندھ میں ہر سال نئے “ٹاپر” پیدا ہوتے رہیں گے، مگر قوم ترقی، خوشحالی، تحقیق اور روزگار کے میدان میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکے گی جس کی اس کے بچوں کی مبینہ صلاحیت اجازت دیتی ہے
اصل سوال یہ نہیں کہ سندھ کا بچہ کتنے نمبر لیتا ہے،اصل سوال یہ ہے کہ ان نمبروں سے سندھ اور پاکستان کو کتنی نئی سائنس، کتنی نئی ٹیکنالوجی اور کتنی نئی معاشی طاقت ملتی ہے

قومی خبریں سے مزید