Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پشاور ہائیکورٹ کا لاپتا صوبائی وزیر کی بازیابی کے لیے پولیس کو تحقیقات کا حکم

پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کے مبینہ اغوا کی تحقیقات اور ان کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کا حکم دے دیا ہے عدالت نے صوبائی پولیس کے انسپکٹر جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ معاملے کی تحقیقات کرکے ایک ہفتے کے اندر وزیر کے بارے میں معلومات عدالت میں پیش کریں
2 رکنی بینچ جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل تھا عدالت میں فضل شکور خان کے بھائی انور عزیز کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ صوبائی وزیر کو 21 ستمبر کو پشاور اسلام آباد موٹروے ٹول پلازہ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے مبینہ طور پر اغوا کیا تھا
درخواست کے مطابق فضل شکور خان اپنے 2 ساتھیوں کے ہمراہ گاڑی میں سفر کر رہے تھے جب مسلح افراد نے انہیں روکا۔ پولیس نے واقعے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ بھی درج کیا ہے
تحقیقات کے دوران پولیس افسر نے عدالت کو بتایا کہ وزیر کے ساتھ موجود 2 افراد بعد میں بحفاظت گھروں کو واپس پہنچ گئے اور انہوں نے اپنے بیانات بھی ریکارڈ کرائے ان بیانات کے مطابق تقریباً 14 افراد نے انہیں بھی اپنے ساتھ لے جاکر ایک نامعلوم مقام پر رکھا، تاہم بعد میں دونوں کو رہا کردیا گیا جبکہ صوبائی وزیر بدستور لاپتا ہیں
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کے مقام کے قریب پولیس کی چیک پوسٹیں موجود تھیں لیکن مبینہ اغوا کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی وکیل نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ صوبائی وزیر کے بارے میں فوری طور پر معلومات حاصل کی جائیں اور اگر انہیں کسی ادارے یا شخص نے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا ہوا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے
عدالت نے پولیس کو وزیر کی بازیابی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے اور تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مقدمے کی آئندہ سماعت 1 اکتوبر کو ہوگی
اس سے قبل عدالت میں یہ معاملہ بھی سامنے آیا تھا کہ درخواست گزار نے موٹروے ٹول پلازہ اور اطراف کی سڑکوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے اور واقعے سے متعلق دیگر شواہد کا جائزہ لینے کی درخواست کی تھی۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی

قومی خبریں سے مزید