Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

سیاست میں غیر منطقی دعووں کا دور کیوں بڑھ رہا ہے؟

سیاست میں غیر منطقی دعووں کا دور کیوں بڑھ رہا ہے؟

دنیا بھر میں سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایسے بیانات میں اضافہ ہوا ہے جو منطق، سائنسی حقائق یا تاریخی شواہد سے مطابقت نہیں رکھتے، لیکن سوشل میڈیا کے ذریعے یہی دعوے اپنے حامیوں میں مقبول بھی ہو جاتے ہیں مضمون کے مطابق یہ تبدیلی صرف سیاست دانوں کے بیانات کا مسئلہ نہیں بلکہ اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ لوگ سیاسی معلومات کو کس طرح دیکھتے اور قبول کرتے ہیں
مضمون میں پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسلاف سیکورسکی، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، سابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان، برازیل کے سابق صدر جائر بولسونارو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مختلف بیانات کو مثالوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے مضمون نگار کے مطابق ان بیانات پر تنقید ہونے کے باوجود متعلقہ سیاسی رہنماؤں کے حامیوں نے انہیں مسترد کرنے کے بجائے دفاع کیا
مضمون میں امریکی ماہر ڈین کاہن کے نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جب سیاسی شناخت کسی جماعت یا گروہ کے ساتھ بہت مضبوطی سے جڑ جائے تو لوگ معلومات کو غیر جانب دارانہ طور پر جانچنے کے بجائے اپنے گروہ سے وفاداری برقرار رکھنے کے لیے قبول یا مسترد کرنے لگتے ہیں ماہرین کے مطابق سیاسی وابستگی بعض اوقات معلومات کو پرکھنے کے عمل پر اثر انداز ہونے والی ایک ذہنی عینک بن جاتی ہے
سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید بڑھایا ہے مضمون کے مطابق الگورتھمز اکثر ایسے مواد کو زیادہ نمایاں کرتے ہیں جو شدید ردعمل اور زیادہ توجہ حاصل کرے۔ کسی دعوے کو بار بار دیکھنے سے وہ لوگوں کو زیادہ مانوس اور بعض اوقات زیادہ قابل قبول محسوس ہونے لگتا ہے، چاہے اس کے حق میں ٹھوس ثبوت موجود نہ ہوں
مضمون میں غلط معلومات پر تحقیق کرنے والے ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مسلسل اور بار بار کیے جانے والے جھوٹے یا گمراہ کن دعوے عوام کو ذہنی طور پر تھکا سکتے ہیں جب ایک ہی وقت میں بہت سے متضاد دعوے گردش کر رہے ہوں تو حقائق کی جانچ کرنے والے اداروں کے لیے ہر دعوے کا جواب دینا مشکل ہو جاتا ہے
پاکستان کے سیاسی ماحول کا ذکر کرتے ہوئے مضمون میں ماضی کے ایسے سیاسی رہنماؤں کی مثالیں بھی دی گئی ہیں جن کے غیر معمولی سیاسی دعووں کو میڈیا اور سیاسی مخالفین طنز کا نشانہ بناتے تھے مضمون نگار کے مطابق سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں سیاسی وابستگی نے ایسے بیانات کے بارے میں عوامی ردعمل کو بھی تبدیل کر دیا ہے
مضمون میں امریکی سیاسی ماہرین کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے یہ مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ بعض سیاست دان مسلسل متنازع یا غیر مصدقہ دعوے اس لیے بھی دہرا سکتے ہیں کہ ان کا مقصد ہر شخص کو قائل کرنا نہیں بلکہ عوامی بحث کو مسلسل اپنے گرد رکھنا اور مخالف ذرائع ابلاغ یا حقائق جانچنے والے اداروں پر اعتماد کم کرنا ہوتا ہے
مضمون کے مطابق جب معاشرے میں ماہرین، ذرائع ابلاغ اور ریاستی اداروں پر اعتماد کم ہو جائے تو کسی سیاسی رہنما کا غیر معمولی دعویٰ بھی بعض حامیوں کو حقیقت سے زیادہ سیاسی وفاداری کی علامت محسوس ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں سیاسی اختلاف حقائق پر بحث کے بجائے شناخت اور گروہی وابستگی کا معاملہ بن جاتا ہے

قومی خبریں سے مزید