حماس رہنما کا الزام، اسرائیل غزہ کے خون کو انتخابی مہم کے لیے استعمال کرے گا
حماس کے رہنما خلیل الحیہ نے کہا ہے کہ اسرائیل میں ہونے والے آئندہ انتخابات میں غزہ کے فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور مصائب کو سیاسی مہم کے لیے استعمال کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ اسرائیل میں اقتدار میں آنے والی کسی بھی جماعت سے فلسطینی عوام کو زیادہ امید نہیں، کیونکہ ان کے بقول فلسطینیوں نے تمام اسرائیلی جماعتوں کے ادوار میں مشکلات برداشت کی ہیں
اسرائیل میں انتخابات 27 اکتوبر کو ہونے ہیں اور وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو دوبارہ اقتدار میں رہنے کے لیے انتخابی مقابلے میں شامل ہیں نیتن یاہو نے انتخابی مہم کے دوران غزہ سے اسرائیلی فوج واپس نہ بلانے کا عزم ظاہر کیا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے امن منصوبے کو بھی مسترد کیا ہے
خلیل الحیہ نے کہا کہ حماس فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ فلسطینی دھڑوں کے درمیان حقیقی اتحاد کے لیے مشترکہ پروگرام تشکیل دیا جا سکے فلسطینی اتھارٹی نے 28 نومبر کو قانون ساز انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے، تاہم ان انتخابات کے انعقاد کے بارے میں اب بھی شکوک موجود ہیں
انہوں نے مزید کہا کہ حماس سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش بھی کر چکی ہے اور امید ہے کہ اس پیشکش کو قبول کیا جائے گا





