سوئٹزرلینڈ میں غیر جانبداری کی نئی تعریف پر ووٹنگ
سوئٹزرلینڈ میں شہریوں نے ملک کی طویل عرصے سے جاری غیر جانبداری کو آئین میں مزید سخت اور واضح انداز میں شامل کرنے کی تجویز پر ووٹ دیا۔ یہ معاملہ اس بحث کے بعد اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ روس اور یوکرین کی جنگ کے دوران سوئٹزرلینڈ کو اپنی روایتی غیر جانبداری کس حد تک برقرار رکھنی چاہیے
سوئٹزرلینڈ کی غیر جانبداری کی تاریخ 1516 تک جاتی ہے جبکہ اسے بین الاقوامی سطح پر 1815 میں تسلیم کیا گیا تھا موجودہ نظام کے تحت ملک مسلح غیر جانبداری برقرار رکھتا ہے، یعنی وہ کسی جنگ میں فریق نہیں بنتا لیکن اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھتا ہے
نئی تجویز میں آئین میں یہ ضمانت دینے کی بات کی گئی تھی کہ سوئٹزرلینڈ کی غیر جانبداری مستقل اور مسلح ہو اس کے تحت ملک کے لیے نیٹو کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے پر پابندی عائد ہوتی اور کسی فوجی اتحاد میں شمولیت صرف اس صورت میں ممکن ہوتی جب خود سوئٹزرلینڈ پر حملہ کیا جائے تجویز میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ سوئٹزرلینڈ اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر کسی ملک پر پابندیاں عائد نہ کرے
یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب سوئٹزرلینڈ نے روس کے خلاف یورپی یونین کی عائد کردہ اقتصادی پابندیوں کی حمایت کی روس نے اس اقدام کو سوئٹزرلینڈ کی روایتی غیر جانبداری سے دوری قرار دیا، جبکہ ماسکو نے موجودہ تجویز کی حمایت کی ہے اس کے مخالفین نے اسے روس نواز قرار دیا ہے، تاہم تجویز کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد جنگوں سے دور رہنے اور سفارت کاری کو فروغ دینے کے لیے سوئٹزرلینڈ کی مستقل غیر جانبداری کو مضبوط بنانا ہے
سوئس حکومت اور پارلیمنٹ نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ غیر جانبداری کو انتہائی سخت آئینی اصولوں میں باندھنے سے بدلتے ہوئے عالمی حالات میں ملک کی سفارتی گنجائش محدود ہو سکتی ہے سوئٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ غیر جانبداری کا مطلب عالمی معاملات سے لاتعلقی نہیں ہے اور ملک بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند نہیں کر سکتا
ملک کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے بھی تجویز کی مخالفت کی، جبکہ سوئس پیپلز پارٹی نے اس کی حمایت کی ابتدائی جائزوں میں مقابلہ نسبتاً سخت دکھائی دے رہا تھا، لیکن آخری 2 رائے شماریوں میں 60 فیصد سے زیادہ ووٹروں کی جانب سے تجویز مسترد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا ووٹنگ سوئٹزرلینڈ کے براہ راست جمہوری نظام کے تحت ہوئی، جہاں شہری اہم آئینی اور قومی معاملات پر براہ راست ووٹ دے سکتے ہیں





