برازیل میں لولا دا سلوا کی آخری انتخابی دوڑ، بولسونارو کی واپسی کے خدشے نے صدارتی مہم تیز کردی
برازیلیا: برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا 2026 کے صدارتی انتخابات سے قبل ایک مرتبہ پھر سیاسی میدان میں اپنی آخری مدت کے لیے انتخاب لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں،ان کے دیرینہ دوست اور ڈومینیکن مذہبی مفکر فری بیٹو کے مطابق لولا سماجی مسائل اور سماجی انصاف کو اپنی سیاسی زندگی کا مرکزی مقصد سمجھتے ہیں اور برازیل کے مستقبل کے حوالے سے گہری تشویش رکھتے ہیں
فری بیٹو نے بتایا کہ یکم جنوری 2023 کو تیسری مرتبہ صدر کا منصب سنبھالنے کے چند گھنٹے بعد لولا سیاسی رہنماؤں اور سفارت کاروں سے بھری تقریب سے الگ ہوکر اپنے پرانے دوست کے ساتھ کھانا کھانے چلے گئے تھے،اسی موقع پر فری بیٹو نے لولا سے کہا تھا کہ یہ ان کی “قبل از آخری مدت” ہے، یعنی اس کے بعد ان کے پاس صرف ایک مزید صدارتی مدت کا امکان باقی رہے گا
لولا، جو برازیل میں بائیں بازو کی سیاست کی ایک اہم شخصیت ہیں، پہلے بھی دو مرتبہ صدر رہ چکے ہیں،2023 میں اقتدار میں واپسی کے بعد ان کی حکومت نے غربت، بھوک اور سماجی عدم مساوات کم کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا
تاہم 2026 کا انتخاب برازیل کی سیاست میں ایک اہم موڑ بن گیا ہے،لولا کے سیاسی حلقوں میں یہ خدشہ موجود ہے کہ سابق صدر جائر بولسونارو کے سیاسی اثر و رسوخ کی واپسی ملک کی سمت تبدیل کرسکتی ہے،بولسونارو خود مختلف قانونی پابندیوں اور عدالتی معاملات کے باعث سیاسی طور پر محدود ہیں، لیکن ان کا سیاسی حلقہ اب بھی برازیل کی دائیں بازو کی سیاست میں نمایاں کردار رکھتا ہے
لولا کے قریبی ساتھیوں کے مطابق صدر کے لیے موجودہ انتخاب محض ایک اور انتخابی مقابلہ نہیں بلکہ ان کے نزدیک برازیل کے سماجی اور سیاسی مستقبل کا سوال بھی ہے،تاہم انتخابی مہم ابھی جاری ہے اور مختلف امیدواروں کی پوزیشن، عوامی رائے اور اتحاد آنے والے مہینوں میں تبدیل ہوسکتے ہیں
لولا کی عمر اور طویل سیاسی سفر بھی اس انتخاب کو ان کے کیریئر کا ممکنہ آخری بڑا انتخابی مقابلہ بناتا ہے،ان کے حامی اسے سماجی پالیسیوں کے تسلسل کا موقع قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالف سیاسی قوتیں برازیل کی معیشت، حکومتی اخراجات، امن و امان اور ریاستی پالیسیوں پر مختلف ترجیحات پیش کر رہی ہیں
برازیل کا آئندہ صدارتی انتخاب اس لیے بھی اہم سمجھا جارہا ہے کہ اس کے نتائج لاطینی امریکا کی سب سے بڑی معیشت کی معاشی پالیسی، سماجی پروگراموں اور خارجہ تعلقات کی سمت پر اثر انداز ہوسکتے ہیں





