Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکا اور چین میں ٹیرف جنگ کے بعد نئی پیش رفت، 60 ارب ڈالر کی باہمی تجارت پر ڈیوٹی میں نرمی، امریکی صارفین کو محدود ریلیف کی امید

امریکا اور چین میں ٹیرف جنگ کے بعد نئی پیش رفت، 60 ارب ڈالر کی باہمی تجارت پر ڈیوٹی میں نرمی، امریکی صارفین کو محدود ریلیف کی امید

رپورٹ عامر آرائیں
واشنگٹن: امریکا اور چین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے تین روزہ واشنگٹن اجلاس کے اختتام پر دونوں سمتوں میں مجموعی طور پر 60 ارب ڈالر مالیت کی غیر حساس اشیا کے لیے زیادہ سازگار ٹیرف پالیسی کی سفارشات پر اتفاق کیا ہے،وائٹ ہاؤس کے مطابق ہر ملک سے دوسرے ملک جانے والی تقریباً 30 ارب ڈالر کی اشیا اس انتظام کے دائرے میں آئیں گی
امریکی برآمدات میں زرعی اجناس، مچھلی اور سمندری خوراک، لکڑی، کاسمیٹکس اور طبی آلات شامل ہیں، جبکہ چین سے امریکا آنے والی اشیا میں چھوٹے گھریلو آلات، کھلونے، تعطیلات کی سجاوٹ اور بچوں کی کار سیٹیں شامل کی گئی ہیں،دونوں حکومتوں نے تجارت سے متعلق مسائل کے لیے امریکا،چین بورڈ آف ٹریڈ کو فعال کرنے اور زرعی منڈی تک رسائی کی رکاوٹوں پر ایک خصوصی ورکنگ گروپ بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے
اس پیش رفت کی اہمیت سمجھنے کے لیے گزشتہ ڈیڑھ سال کی ٹیرف جنگ کو دیکھنا ضروری ہے،ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ مدت شروع ہونے سے پہلے 2017 میں امریکا کی طرف سے چینی اشیا پر اوسط ٹیرف تقریباً 2.7 فیصد تھا، جبکہ چین کی جانب سے امریکی اشیا پر اوسط شرح تقریباً 8 فیصد تھی،تجارتی جنگ کے دوران امریکی اوسط شرح 2023 تک تقریباً 19 فیصد اور چینی شرح تقریباً 21 فیصد تک پہنچ چکی تھی
2025 میں صورتحال انتہائی تیزی سے بگڑی،اپریل کے وسط میں امریکی چینی درآمدات پر اوسط ٹیرف تقریباً 164 فیصد اور چین کا امریکی اشیا پر تقریباً 146 فیصد تک پہنچ گیا تھا،مئی 2025 میں دونوں ممالک نے شدید کشیدگی کم کرتے ہوئے یہ اوسط شرحیں بالترتیب تقریباً 49 فیصد اور 31 فیصد تک نیچے لائیں
بعد کے معاہدوں کے نتیجے میں امریکی جانب چینی درآمدات پر مجموعی اوسط شرح 2025 کے آخر تک تقریباً 39 فیصد اور فروری 2026 میں تقریباً 34 فیصد رہی، جبکہ جولائی 2026 میں امریکی اوسط شرح تقریباً 36.5 فیصد اور چین کی جانب سے امریکی اشیا پر تقریباً 31 فیصد تھی،یہ اوسط شرحیں تمام اشیا پر یکساں لاگو نہیں ہوتیں بلکہ مختلف مصنوعات پر پرانے سیکشن 301 اور دیگر مخصوص محصولات بھی شامل ہو سکتے ہیں
اہم بات یہ ہے کہ موجودہ نئے معاہدے میں وائٹ ہاؤس نے ابھی ہر مخصوص شے کے لیے نئی حتمی فیصد شرح جاری نہیں کی،اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ مثلاً ہر چینی کھلونے یا ہر امریکی زرعی شے پر ٹیرف لازماً کسی ایک مخصوص شرح تک کم ہوگیا ہے،فی الحال دونوں ملکوں نے 30، 30 ارب ڈالر کی غیر حساس اشیا کے لیے زیادہ سازگار ٹیرف سلوک کی سفارشات پر اتفاق کیا ہے، جنہیں تجارتی اداروں اور حکومتی مذاکرات کے ذریعے عملی شکل دی جائے گی
امریکی درآمد کنندگان اور چینی برآمد کنندگان کے لیے اس کا فوری فائدہ یہ ہوگا کہ معاہدے میں شامل مصنوعات کی درآمدی لاگت کم ہوسکتی ہے،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا میں چینی ساختہ ہر چیز سستی ہوجائے گی،ایک درآمد کنندہ کو ٹیرف میں کمی کا پورا فائدہ صارف تک منتقل کرنا ضروری نہیں، کیونکہ خوردہ قیمت میں شپنگ، گودام، اجرت، توانائی، منافع اور دیگر اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں
اسی طرح امریکی صارفین کے لیے اس معاہدے سے کسی حد تک قیمتوں میں کمی کا امکان موجود ہے، خاص طور پر ان مصنوعات میں جن پر نئی رعایت براہ راست لاگو ہوگی، مگر موجودہ معلومات کی بنیاد پر اسے مجموعی امریکی مہنگائی میں بڑی کمی قرار دینا قبل از وقت ہوگا،30 ارب ڈالر کی امریکی درآمدات، امریکی معیشت کے مجموعی حجم کے مقابلے میں محدود حصہ ہیں، جبکہ بہت سی چینی اشیا اب بھی مختلف دیگر محصولات اور تجارتی پابندیوں کے دائرے میں رہیں گی
دوسری جانب امریکی کسانوں اور لکڑی، سمندری خوراک اور دیگر برآمدی شعبوں کو چین میں بہتر رسائی مل سکتی ہے،وائٹ ہاؤس کے مطابق چین نے 2027 اور 2028 میں امریکا سے کم از کم 10 ملین میٹرک ٹن کوئلہ خریدنے پر بھی اتفاق کیا ہے
دونوں ممالک نے مصنوعی ذہانت کے بجائے “سپر انٹیلی جنس” کی اصطلاح استعمال کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے اور اس ٹیکنالوجی کے فوائد، خطرات اور ممکنہ حادثات سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی رابطہ نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے،اگلے مذاکرات نومبر 2026 تک ہوں گے،وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں ملک سپر انٹیلی جنس سے متعلق واقعات کے لیے دوطرفہ مواصلاتی چینل بھی قائم کریں گے
چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کوالالمپور میں ہونے والے سابقہ مذاکرات کے نتائج کو آگے بڑھائیں گے اور تجارت کے لیے نیا رابطہ نظام برقرار رکھیں گے،دونوں حکومتوں نے موجودہ تجارتی جنگ بندی کو بھی مزید دو ماہ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جس سے مذاکرات کے لیے اضافی وقت مل گیا ہے
شی جن پنگ تین روزہ دورہ امریکا مکمل کرکے بیجنگ واپس پہنچ گئے ہیں،تاہم اس اجلاس نے امریکا اور چین کے درمیان بنیادی تجارتی اختلافات ختم نہیں کیے،ٹیرف میں نرمی کا موجودہ فیصلہ زیادہ تر مخصوص غیر حساس مصنوعات تک محدود ہے، جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان ٹیکنالوجی، نایاب معدنیات، قومی سلامتی، صنعتی پالیسی اور وسیع تجارتی عدم توازن کے بڑے سوالات اب بھی مذاکرات کی میز پر موجود ہیں

قومی خبریں سے مزید