Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پنوّں کا بھارت کا نقشہ بدلنے کا دعویٰ، پاکستان میں خبر مگر امریکی مین اسٹریم میں خاموشی

پنوّں کا بھارت کا نقشہ بدلنے کا دعویٰ، پاکستان میں خبر مگر امریکی مین اسٹریم میں خاموشی

نیویارک: امریکہ میں مقیم سکھ علیحدگی پسند رہنما اور Sikhs for Justice کے جنرل کونسل گُرپت ونت سنگھ پنوّن کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر کی گئی تازہ پریس کانفرنس میں بھارت کے مستقبل، خالصتان اور کشمیر کے حوالے سے بڑے دعووں نے پاکستان کے بعض میڈیا اداروں میں جگہ بنائی، لیکن 23 اور 24 ستمبر کی دستیاب کوریج کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ امریکی مین اسٹریم میڈیا میں تقریباً نمایاں نہیں ہوا، جبکہ بھارتی مین اسٹریم میڈیا میں بھی اس مخصوص پریس کانفرنس کی وسیع کوریج نظر نہیں آتی
پاکستانی میڈیا میں 24 ستمبر کونے پنوّن کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ان کے مطابق بھارت 2047 تک 9 الگ حصوں میں تقسیم ہو سکتا ہے،رپورٹ کے مطابق انہوں نے اقوام متحدہ سے بھارتی پنجاب کو “مقبوضہ علاقہ” قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ خالصتان کے لیے ریفرنڈم اور ووٹنگ کی مہم جاری رہے گی، جبکہ کامیاب ریفرنڈم کے بعد بھارتی پنجاب کے بارے میں اقوام متحدہ میں باضابطہ درخواست دی جائے گی
اسی رپورٹ کے مطابق پنوّن نے پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مبینہ تعلق کا الزام بھی عائد کیا، بھارتی حکومت پر سکھوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور بتایا کہ خالصتان ریفرنڈم کا اگلا مرحلہ 18 اکتوبر کو ہوگا،
پاکستانی میڈیا میں اس خبر کی موجودگی کے باوجود یہ کوریج ملک کے بڑے پیمانے پر جاری اہم سیاسی اور سلامتی کے واقعات کے مقابلے میں ایک محدود خبر دکھائی دیتی ہے۔ Dawn کی 23 ستمبر کی اسی نوعیت کی Sikh-related coverage، مثال کے طور پر، پنوّن کی پریس کانفرنس کے بجائے Kartarpur Corridor کی بندش کے خلاف سکھ یاتریوں کے احتجاج پر مرکوز تھی
بھارتی میڈیا کے تازہ سرچ نتائج میں 23–24 ستمبر کو پنوّن کی اس مخصوص پریس کانفرنس کی کوئی ایسی بڑی، نمایاں رپورٹ سامنے نہیں آئی جو اسے قومی سطح کی اہم خبر بنا رہی ہو،البتہ بھارت میں پنوّن پہلے ہی انتہائی حساس سلامتی کے موضوع کے طور پر زیرِ بحث ہیں،ستمبر کے آغاز میں دہلی کے سنگھو بارڈر پر خالصتان نواز اور بھارت مخالف graffiti کے معاملے میں تین افراد کی گرفتاری کی خبر سامنے آئی تھی اور پولیس نے پنوّن اور SFJ سے تعلق کی تفتیش کا ذکر کیا تھا
امریکی میڈیا میں صورت حال اس سے بھی زیادہ واضح ہے۔ 23–24 ستمبر کی دستیاب امریکی قومی میڈیا سرچ میں پنوّن کی اس پریس کانفرنس پر New York Times، Washington Post، Wall Street Journal، CNN، Fox News، NBC، CBS، ABC، USA Today، Bloomberg، Politico یا Newsweek کی کوئی نمایاں الگ رپورٹ نہیں ملی،یہ بات اہم ہے کیونکہ پنوّن امریکہ میں موجود ہیں اور ان کا معاملہ امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے پہلے ہی حساس بن چکا ہے
اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی میڈیا پنوّن کو نظرانداز کرتا رہا ہے،اگست 2026 میں Associated Press نے رپورٹ کیا تھا کہ FBI اور Royal Canadian Mounted Police نے پنوّن کو ان کی جان کو لاحق ایک نئے “credible threat” کے بارے میں خبردار کیا تھا،اس سے قبل امریکی عدالت میں نکھل گپتا نے پنوّن کے قتل کی سازش سے متعلق الزامات میں جرم قبول کیا تھا اور اس کیس کی اگلی سزا نومبر 2026 کے لیے مقرر ہے
یہی پس منظر موجودہ خاموشی کو زیادہ قابلِ توجہ بناتا ہے،جس شخص کے خلاف مبینہ قتل کی سازش امریکی عدالت تک پہنچ چکی ہے، اور جسے FBI نے حال ہی میں نئی جان کے خطرے سے خبردار کیا، اس کی اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران بھارت کی ممکنہ تقسیم اور کشمیر سمیت خطے کے نقشے سے متعلق تازہ سیاسی پیش گوئیوں نے 23–24 ستمبر کو امریکی قومی میڈیا میں کوئی نمایاں جگہ نہیں بنائی
پنوّن کے حالیہ بیانات میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ان کی مہم اب صرف خالصتان تک محدود سیاسی نعرے کے طور پر پیش نہیں کی جا رہی، بلکہ ان کے تازہ بیان میں بھارتی پنجاب کی حیثیت کو اقوام متحدہ میں اٹھانے، ریفرنڈم کو “self-determination” کے عمل کے طور پر پیش کرنے اور کشمیر سمیت دوسرے علاقوں کے حقِ خودارادیت سے جوڑنے کی کوشش بھی نظر آتی ہے،اگست میں Indianapolis میں SFJ کے ایک ریفرنڈم اجتماع کے دوران Shimla کو مجوزہ Khalistan کا دارالحکومت قرار دینے اور ایک وسیع تر نقشہ پیش کرنے کی خبر بھی شائع ہوئی تھی
خبر کی اہمیت کا محتاط جائزہ یہ ہے کہ اس پریس کانفرنس کا فوری میڈیا اثر پاکستان میں محدود مگر قابلِ ذکر، بھارت میں نسبتاً کم اور امریکی مین اسٹریم میں تقریباً نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتا ہے،تاہم اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ اس بیان کا سیاسی یا سفارتی اثر نہیں ہوگا،اس کے حقیقی اثر کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا SFJ اسے 18 اکتوبر کے referendum، اقوام متحدہ میں اپنی آئندہ قانونی مہم، یا امریکہ اور کینیڈا میں موجود اپنے سیاسی و قانونی مقدمات کے ساتھ جوڑ کر مزید آگے لے جاتی ہے
پنوّن کی مہم کے بارے میں بھارتی حکومت کا بنیادی مؤقف اس کے برعکس ہے،بھارت انہیں دہشت گرد قرار دے چکا ہے اور SFJ کو ممنوع تنظیم سمجھتا ہے،2026 میں بھارتی عدالت نے پنوّن کی مبینہ ترغیب پر خالصتان کا جھنڈا لہرانے والے دو افراد کو سزا بھی دی ہے
یوں 23–24 ستمبر کی میڈیا تصویر میں سب سے چونکا دینے والا پہلو خود بیان سے زیادہ اس بیان کی میڈیا پہنچ ہے،ایک ایسے وقت میں جب پنوّن نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے ماحول میں بھارت کے ممکنہ بٹوارے، خالصتان اور کشمیر کو ایک ہی سیاسی فریم میں لا رہے ہیں، اس مخصوص پریس کانفرنس کی نمایاں بین الاقوامی کوریج ابھی تک نظر نہیں آتی، جبکہ پاکستان کے کم از کم ایک نیوز ادارے نے اسے نمایاں headline کے ساتھ شائع کیا ہے

قومی خبریں سے مزید