اقوام متحدہ میں پاکستانی وزیراعظم کی موجودگی کے باوجود امریکی میڈیا میں پاکستان کا ذکر نہ ہونے جیسا ، افغانستان اور عمران خان کا لانگ مارچ چھایا رہا
نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت اور نیویارک میں متعدد عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتوں کے باوجود 23 اور 24 ستمبر کو امریکہ کے قومی مین اسٹریم میڈیا میں پاکستان کی کوریج کا مرکزی موضوع وزیراعظم کا دورہ یا ان کی سفارتی سرگرمیاں نہیں بن سکیں، بلکہ پاکستان سے متعلق سب سے نمایاں خبریں افغانستان کے ساتھ بڑھتی فوجی کشیدگی اور عمران خان کے حامیوں کے متوقع لانگ مارچ سے پہلے اسلام آباد میں غیر معمولی سکیورٹی اقدامات رہیں
Associated Press اور Reuters کی خبریں امریکی میڈیا میں نمایاں ہوئیں جن میں پاکستان کے افغانستان کے اندر فضائی حملوں، سرحدی کشیدگی اور کابل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع کو مرکزی حیثیت دی گئی24 ستمبر کو پاکستان کی جانب سے افغانستان میں 10 مقامات کو نشانہ بنانے کی خبر اور افغان حکام کی جانب سے شہری ہلاکتوں کے دعوے نے پاکستان کو امریکی میڈیا کی تازہ علاقائی خبروں میں نمایاں کیا
دوسری بڑی Pakistan-related story عمران خان کے حامیوں کے 27 ستمبر کے متوقع اسلام آباد مارچ سے پہلے دارالحکومت کے داخلی راستوں کی بندش، کنٹینرز کی تنصیب اور بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی رہی،AFP اور دیگر international wire reports نے اس صورتحال کو نمایاں کیا، جبکہ عمران خان کے خاندان اور PTI کارکنوں کی گرفتاریوں کا بھی ذکر سامنے آیا
اس کے مقابلے میں وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں سفارتی سرگرمیاں امریکی قومی میڈیا میں نسبتاً محدود رہیں،وزیراعظم نے IMF کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا، شام کے صدر احمد الشرع، یورپی یونین کی قیادت اور دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جبکہ پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے
یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان خود کو امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے کے ایک ممکنہ پل کے طور پر پیش کر رہا ہے،وزیراعظم نے نیویارک میں کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ پاکستان کے سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد تہران کے ساتھ ایک متوازی رابطہ چینل پر کام کر رہا ہے
اسی طرح پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ نئے دفاعی تعاون، ترکی کے ساتھ سکیورٹی تعلقات اور سعودی سلامتی کے لیے اسلام آباد کی کھلی حمایت بھی موجودہ علاقائی منظرنامے میں اہم ہے،وزیراعظم نے 23 ستمبر کو سعودی قومی دن کے موقع پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی سلامتی اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا، مگر 23–24 ستمبر کی امریکی قومی میڈیا کوریج میں یہ معاملہ افغانستان اور اسلام آباد کے احتجاج کے مقابلے میں نمایاں Pakistan headline نہیں بن سکا
چین کے حوالے سے بھی وزیراعظم کی نیویارک میں ملاقاتیں ہوئیں، مگر امریکی قومی میڈیا کی 23–24 ستمبر کی پاکستان کوریج میں انہیں کوئی بڑی الگ پاکستان story نہیں بنایا گیا،اس عرصے میں امریکی میڈیا کی چین سے متعلق بڑی توجہ ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کی 24 ستمبر کی ملاقات پر مرکوز رہی، جس میں تجارت، ٹیرف، rare earths اور امریکہ-چین تعلقات بنیادی موضوعات تھے
ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے بھی صورتحال خاص توجہ طلب ہے۔ 23 ستمبر تک وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کے درمیان کوئی الگ باضابطہ دوطرفہ ملاقات سامنے نہیں آئی، اگرچہ اس ملاقات کی توقعات پہلے سے ظاہر کی گئی تھیں،ٹرمپ نے اپنے UNGA خطاب میں شہباز شریف کو “terrific man” کہا اور ایک مرتبہ پھر بھارت اور پاکستان کے درمیان 2025 کی جنگ بندی میں اپنے کردار کا دعویٰ کیا، تاہم امریکہ کے قومی میڈیا نے صدر ٹرمپ کی جانب سے شہباز شریف کی اس تعریف کو بھی نظر انداز کیا
وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنا خطاب ابھی 25 ستمبر کو ہونا ہے، اس لیے 23 اور 24 ستمبر کی امریکی میڈیا کوریج میں ان کی UN تقریر کا نہ ہونا غیرمعمولی نہیں بلکہ پروگرام کے مطابق ہے
یوں 23–24 ستمبر کی امریکی قومی میڈیا کوریج کا مجموعی تاثر یہ بنتا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم دنیا کے سب سے بڑے سفارتی اجتماع کے لیے نیویارک میں موجود تھے، متعدد اہم ملاقاتیں بھی کر رہے تھے اور امریکہ، ایران، سعودی عرب اور خطے کے درمیان سفارتی رابطوں میں پاکستان کا کردار بھی موجود تھا، لیکن امریکی مین اسٹریم میڈیا کی Pakistan-related news agenda میں وزیراعظم کا دورہ مرکزی کہانی نہیں بن سکا،افغانستان کے ساتھ بڑھتی فوجی کشیدگی اور عمران خان کے حامیوں کے اسلام آباد مارچ کی تیاریاں پاکستان سے متعلق زیادہ نمایاں خبریں رہیں






