اے آئی پر امریکہ کی تاریخ کی سب سے بڑی معاشی بازی، 10.3 ٹریلین ڈالر داؤ پر
واشنگٹن: مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ اب صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ امریکہ کی پوری معیشت کے لیے ایک ایسی تاریخی سرمایہ کاری بن چکی ہے جس میں کھربوں ڈالر داؤ پر لگ چکے ہیں،وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق 2025 سے 2032 تک امریکہ میں ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی سے متعلق بنیادی ڈھانچے پر مجموعی طور پر تقریباً 10.3 ٹریلین ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے
یہ سرمایہ کاری اوسطاً امریکی مجموعی قومی پیداوار کے 3.6 فیصد کے برابر بنتی ہے،رپورٹ کے مطابق امریکی تاریخ میں اس سے پہلے کسی ایک نئی صنعت کے انفراسٹرکچر پر معیشت کا اتنا بڑا حصہ منحصر نہیں ہوا،19ویں صدی کے آخر میں ریل روڈ کی تعمیر کے دور میں بھی ایک نئی صنعت کی تعمیر نے امریکی معیشت میں اسی نوعیت کا بڑا حصہ حاصل کیا تھا
اے آئی کا یہ غیر معمولی پھیلاؤ امریکی معیشت کے مختلف شعبوں کو تیزی سے تبدیل کر رہا ہے،2026 کے پہلے 7 ماہ میں نجی ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر 37 ارب ڈالر خرچ ہوئے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے سے تقریباً 9 ارب ڈالر زیادہ ہیں،اس کے برعکس گھروں، اپارٹمنٹس، شاپنگ سینٹرز اور دیگر نجی تعمیرات پر خرچ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 46 ارب ڈالر کم رہا
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ڈیٹا سینٹرز بجلی، زمین اور ہنرمند کارکنوں کے لیے دوسری صنعتوں سے مقابلہ کر رہے ہیں،بعض علاقوں میں بجلی کی محدود دستیابی کے باعث صنعتی منصوبے دوسری ریاستوں کا رخ کر رہے ہیں، جبکہ ڈیٹا سینٹرز کی طلب زمین کی قیمتوں پر بھی دباؤ ڈال رہی ہے
اے آئی بوم کا ایک بڑا فائدہ روزگار میں نظر آ رہا ہے،LinkedIn کے اندازوں کے مطابق 2023 سے 2026 تک امریکہ میں اے آئی سے متعلق 750,000 سے زیادہ نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں،اے آئی سے متعلق ملازمتوں کی اوسط تنخواہ تقریباً 180,000 ڈالر سالانہ ہے، جبکہ تمام شعبوں کی ملازمتوں کی اوسط تقریباً 80,000 ڈالر ہے،2024 کے آغاز سے ڈیٹا سینٹرز میں بھی 117,000 ملازمتیں شامل ہوئی ہیں
لیکن اس تاریخی سرمایہ کاری کا دوسرا رخ مالی خطرہ ہے،Alphabet، Amazon، Meta، Microsoft اور Oracle سمیت 5 بڑی ٹیک کمپنیوں کی 2026 سے 2029 تک سرمایہ کاری تقریباً 4.2 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے،اس اخراجات میں قرض کے ذریعے سرمایہ کاری کا حصہ بڑھ رہا ہے
ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر اے آئی سے حاصل ہونے والی آمدنی ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے لیے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے کافی نہ ہوئی تو اس کے اثرات صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مالیاتی نظام تک پھیل سکتے ہیں
اے آئی بوم نے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں دولت میں بھی زبردست اضافہ کیا ہے،فیڈرل ریزرو کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی تک امریکی اسٹاک اور میوچل فنڈز کی مجموعی مالیت 63 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی، جو 2022 کے اختتام کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے،تاہم اس اضافے کا بڑا فائدہ ان امریکیوں کو پہنچ رہا ہے جن کے اثاثوں میں اسٹاک کا حصہ زیادہ ہے
دوسری طرف اے آئی انفراسٹرکچر کی بڑھتی ہوئی طلب مہنگائی کے لیے بھی دباؤ پیدا کر رہی ہے،اگست میں کمپیوٹرز، متعلقہ آلات اور سیمی کنڈکٹرز کے درآمد کنندگان کی ادا کردہ قیمتیں ایک سال پہلے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ تھیں،ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب نے بعض علاقوں میں بجلی کے بلوں میں بھی اضافہ کیا ہے
یوں امریکہ اس وقت تاریخ کی ایک غیر معمولی معاشی شرط لگا رہا ہے،کھربوں ڈالر اے آئی کے ڈیٹا سینٹرز، چپس، بجلی اور بنیادی ڈھانچے میں منتقل ہو رہے ہیں، نئی ملازمتیں اور دولت پیدا ہو رہی ہیں، لیکن ساتھ ہی رہائش، مینوفیکچرنگ، بجلی کی قیمتوں، مہنگائی اور مالیاتی استحکام پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے
اصل سوال اب یہ نہیں کہ اے آئی امریکی معیشت کو تبدیل کر رہا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اے آئی سے پیدا ہونے والی آمدنی اتنی تیزی سے بڑھے گی کہ 10.3 ٹریلین ڈالر کی اس تاریخی سرمایہ کاری کو معاشی کامیابی میں تبدیل کر سکے





