ایران پاکستان سرحد پر بڑھتی کشیدگی نے بلوچستان کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے
مغربی ایشیا میں جاری جنگ اور سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے درمیان پاکستان اور ایران کی تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ایک بار پھر علاقائی سلامتی کے اہم مراکز میں شامل ہو گئی ہے سرحدی علاقے میں پہلے سے موجود مسلح گروہوں، مذہبی اور قوم پرست شورش پسند تنظیموں اور سرحد پار جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی موجودگی نے موجودہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے تجزیے کے مطابق ایران اور پاکستان دونوں کے لیے یہ خطرہ اہم ہے کہ وسیع علاقائی جنگ کا اثر ان کے سرحدی علاقوں تک نہ پھیل جائے
12 ستمبر کو ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کے سرحدی علاقے سراوان میں ایرانی سکیورٹی فورسز اور نامعلوم مسلح افراد کے درمیان شدید لڑائی ہوئی اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے فوجی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا جبکہ متعدد ایرانی سکیورٹی اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے حملہ آور گروہ کی شناخت فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی، تاہم بعض تجزیہ کاروں نے اس واقعے کو جیش العدل یا پیپلز فائٹرز فرنٹ سے جوڑا ہے
یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا جب مغربی ایشیا میں جنگ نے پورے خطے کے سکیورٹی ماحول کو تبدیل کر دیا ہے بلوچستان میں پہلے ہی بلوچستان لبریشن آرمی اور اس سے منسلک دیگر مسلح گروہوں کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے ان گروہوں کی جانب سے اعلان کردہ معاشی ناکہ بندی کے باعث آمدورفت متاثر ہوئی اور خاص طور پر معدنی شعبے میں کاروباری سرگرمیاں رکنے کی اطلاعات سامنے آئیں افغانستان کے ساتھ سرحد کی بندش اور ایران کے ساتھ سرحد کی جزوی بندش نے بھی بلوچستان کی معیشت اور روزمرہ زندگی پر دباؤ بڑھایا ہے
پاکستان ایران سرحد کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحد بند ہونے کی صورتحال میں ایران پاکستان کے لیے تجارت کا ایک متبادل زمینی راستہ بن سکتا ہے، اگرچہ یہ راستہ مہنگا ہے ایسے حالات میں سرحدی بدامنی نہ صرف سکیورٹی بلکہ تجارت اور مقامی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے
پاکستان اور ایران کے تعلقات میں جنوری 2024 کے واقعات نے بھی ایک اہم تبدیلی پیدا کی تھی۔ 16 جنوری 2024 کو ایران نے پاکستان کے اندر جیش العدل کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے حملہ کیا، جس کے جواب میں پاکستان نے ایران میں مسلح گروہوں کے مبینہ ٹھکانوں پر کارروائی کی اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوئی، تاہم بعد میں دونوں طرف سے سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے کی کوششیں بھی کی گئیں
موجودہ جنگ میں ایک نیا خدشہ یہ ہے کہ اگر ایران کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں، آبنائے ہرمز اور خلیج میں فوجی سرگرمیوں پر زیادہ وسائل صرف کرنا پڑے تو سیستان بلوچستان جیسے نسبتاً دور دراز سرحدی علاقے ایرانی سکیورٹی ترجیحات میں پیچھے جا سکتے ہیں ایسی صورت حال میں مسلح گروہوں کو کارروائیوں کے لیے زیادہ مواقع ملنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے
بلوچستان میں سرگرم بعض مسلح گروہوں نے بھی موجودہ علاقائی جنگ کو اپنے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھا ہے بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے ایران پر امریکی حملوں کی حمایت میں بعض بیانات سامنے آئے ہیں تجزیے کے مطابق ممکن ہے کہ گروہ یہ سمجھتے ہوں کہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں انہیں کسی بڑی طاقت کے لیے ممکنہ اتحادی یا پراکسی کے طور پر اہمیت حاصل ہو سکتی ہے، تاہم ایسی حکمت عملی کے نتائج کے بارے میں کوئی یقینی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا
دوسری طرف ایران میں جیش العدل اور بعض چھوٹے مسلح گروہوں کی سرگرمیوں نے بھی سرحدی صورتحال کو حساس بنا رکھا ہے گزشتہ اگست میں ایرانی سکیورٹی فورسز نے مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران جیش العدل کے بعض ارکان کو گرفتار کرنے اور ایک کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا ایرانی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران کلاشنکوف رائفلیں، دستی بم، آر پی جی 7 لانچر، تقریباً 20 کلوگرام سی 4 دھماکا خیز مواد، گولیاں اور اسٹار لنک کے سیٹلائٹ انٹرنیٹ آلات بھی برآمد کیے گئے
سراوان کے حالیہ حملے کے بارے میں مختلف نظریات گردش کر رہے ہیں اور بعض حلقے اسے سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں سے جوڑ رہے ہیں تاہم ان رابطوں کے بارے میں حتمی شواہد سامنے نہیں آئے اسی طرح بلوچستان میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ اگر ایران سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کو پراکسی کے طور پر استعمال کر سکتا ہے تو سعودی عرب کی جانب سے ایران کے قریب موجود سنی مسلح گروہوں کی ممکنہ حمایت کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے لیکن یہ ایک علاقائی تاثر اور قیاس ہے، کسی ثابت شدہ سعودی حکمت عملی کا ثبوت نہیں
پاکستان کے لیے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کسی بھی صورت اس کے مفاد میں نہیں ایک طرف پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے نئے دفاعی تعاون اور مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے عزم کا اظہار کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران اس کا اہم ہمسایہ ہے ایسی صورتحال میں پاکستان کو ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اپنے وعدوں کو برقرار رکھنا ہے اور دوسری طرف ایران کے ساتھ سرحدی امن اور دوطرفہ تعلقات کو بھی خراب ہونے سے بچانا ہے
بلوچستان میں پہلے ہی شورش، دہشت گردی، سرحدی تجارت میں رکاوٹ، افغانستان اور ایران کی سرحدوں پر مشکلات اور مقامی معاشی مسائل موجود ہیں اگر مشرق وسطیٰ کی جنگ کا اثر مزید سرحدی علاقوں تک پہنچتا ہے تو مسلح گروہوں کو نئی بھرتی، مالی معاونت اور کارروائیوں کے مواقع مل سکتے ہیں، جبکہ عام شہریوں اور مقامی کاروبار کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوگا
اس صورتحال میں سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ایران سرحد کو کسی بڑی علاقائی جنگ کا نیا محاذ بننے سے روکنا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے بلوچستان پہلے ہی متعدد سکیورٹی اور معاشی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے کسی نئی علاقائی پراکسی جنگ یا سرحد پار مسلح کارروائیوں کا پھیلاؤ پاکستان کی داخلی سلامتی کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے





