مسلمانوں کےساتھ اب عیسائی پھر نشانے پر؟ ہندوستان میں نفرت کی سیاست، دوہرا معیار، جو ریاست طے کرنے لگے کونسا خدا سچا ہے اسکی قیمت معشیت ادا کرتی ہے

مسلمانوں کےساتھ اب عیسائی پھر نشانے پر؟ ہندوستان میں نفرت کی سیاست، دوہرا معیار، جو ریاست طے کرنے لگے کونسا خدا سچا ہے اسکی قیمت معشیت ادا کرتی ہے
تحریر و تحقیق : آفاق فاروقی
ہندوستان کئی دہائیوں تک دنیا کے سامنے خود کو ایک ایسے جمہوری اور سیکولر ملک کے طور پر پیش کرتا رہا جہاں مختلف مذاہب، زبانیں اور ثقافتیں ایک ہی آئینی چھتری تلے زندگی گزار سکتی ہیں،آج بھی ہندوستان کی عالمی شناخت کا ایک بڑا حصہ اسی دعوے پر قائم ہے،لیکن ملک کے اندر گزشتہ ایک دہائی کے دوران مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد، نفرت انگیز و تقاریر، عبادت گاہوں پر حملوں اور مذہبی آزادی پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کے کے ساتھ ملکی عدلیہ کے تعصبات اعداد و شمار ایک مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں،

اب سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف برسوں سے جاری نفرت کی سیاست کیا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں عیسائی برادری بھی باقاعدہ نشانے پر آ رہی ہے؟
مغربی بنگال کے حالیہ واقعات اس سوال کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں
23 اگست کو ہاوڑہ کے اولوبیریا میں ایک کرائے کے مکان میں تقریباً 60 افراد اتوار کی عبادت کے لیے جمع تھے،پادری متھن ہاجرا کے مطابق دوپہر کے وقت ایک ہجوم اندر داخل ہوا، عبادت میں شریک لوگوں کو مارا پیٹا، خواتین کو بھی نہیں بخشا اور کرسیاں، میزیں، پنکھے اور ساؤنڈ سسٹم توڑ دیے،الزام یہ لگایا گیا کہ وہاں جبری مذہب تبدیل کروایا جارہا تھا پولیس نے پہنچ کر لوگوں کو باہر نکالا اور ایف آئی آر درج ہوئی، تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق فوری طور پر کوئی گرفتاری نہیں ہوئی،اس واقعے کے بعد علاقے میں گھروں کے اندر ہونے والی دعائیہ اجتماعات روک دیے گئے
یہ ایک isolated واقعہ نہیں تھا،25 اگست کو ہاوڑہ کے دھوسری میں دعائیہ اجتماع پر حملے کی اطلاع آئی، 26 اگست کو مشرقی مدنی پور میں ایک پادری اور اس کی اہلیہ کے ساتھ گھر میں عبادت کے دوران مبینہ مارپیٹ ہوئی، جبکہ 14 اگست کو مشرقی بردوان میں ایک مسیحی خاندان کو تدفین سے روکنے کا واقعہ سامنے آیا،تدفین کے لیے قبر میں اتارا گیا جسدِ خاکی بھیڑ کے دباؤ پر نکالنا پڑا اور اسے دوسرے قبرستان میں دفن کیا گیا
5 جولائی کو کلکتہ سے تقریباً 23 کلومیٹر دور سبھاش گرام میں زیر تعمیر ایک چھوٹے چرچ میں ہجوم کے داخل ہونے، صلیب توڑنے اور عمارت کو نقصان پہنچانے کی شکایت بھی سامنے آئی، جس کی ویڈیو وائرل ہے
ہر جگہ بنیادی الزام ایک ہی تھا، جبری مذہب تبدیلی
اگر واقعی جبری تبدیلی ہو رہی ہے تو اس کے لیے قانون موجود ہے،ایف آئی آر درج کیجیے، تحقیقات کیجیے، ثبوت پیش کیجیے اور عدالت سے فیصلہ لیجیے۔ لیکن کسی ہجوم کو یہ اختیار کہاں سے مل گیا کہ وہ کسی گھر میں داخل ہو کر خود فیصلہ کرے کہ وہاں ہونے والی عبادت جائز ہے یا ناجائز؟
یہی سوال اب ممبئی تک پہنچ چکا ہے
ہندوستان کے سب سے بڑے معاشی مرکز ممبئی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران 11 چرچوں پر حملوں کی اطلاع دی گئی ہے،ان واقعات کے ماحول میں بعض چرچوں نے اپنے عبادت گزاروں سے ایک ایسا خود اقراری فارم پُر کرانا شروع کیا ہے جس میں وہ تصویر، آدھار یا پین کارڈ کی تفصیل کے ساتھ یہ تحریری اعلان کرتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے عبادت کے لیے آئے ہیں اور ان پر کسی قسم کا دباؤ، لالچ یا دھمکی نہیں،یہ فارم کسی قانون کے تحت لازمی قرار نہیں دیا گیا بلکہ چرچ انتظامیہ اسے ممکنہ قانونی کارروائی سے بچاؤ کی ایک دستاویز کے طور پر دیکھ رہی ہے
اس خوف کی ایک وجہ مہاراشٹر کا نیا مذہب تبدیلی مخالف قانون بھی ہے، جو 28 اگست سے نافذ ہوا،قانون جبری، دھوکے یا لالچ کے ذریعے مذہب تبدیل کرانے کے خلاف ہے،اصولی طور پر ایسے جرائم کے خلاف قانون ہونا اپنی جگہ قابل فہم ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ جب عبادت کرنے والے شہریوں کو پہلے ہی یہ ثابت کرنے کے لیے فارم بھرنا پڑے کہ وہ اپنی مرضی سے عبادت کر رہے ہیں تو مذہبی آزادی کی عملی صورت کیا رہ جاتی ہے؟
یہ تاریخ اچانک شروع نہیں ہوئ
عیسائی برادری کے خلاف تشدد ہندوستان میں آج کا مسئلہ نہیں،1998 میں گجرات کے ڈانگ ضلع میں 25 دسمبر سے تقریباً 10 دن تک مسیحی برادری اور اس کے اداروں پر منظم حملے ہوئے،ہیومن رائٹس واچ نے اس دور کی تحقیقات میں بتایا کہ جنوری 1998 سے فروری 1999 کے درمیان ہندوستانی پارلیمنٹ کے مطابق ملک بھر میں عیسائیوں پر حملوں کے 116 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 94 گجرات میں تھے
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق دسمبر 1998 اور جنوری 1999 کے دوران ڈانگ اور آس پاس کے علاقوں میں کم از کم 25 دیہات میں چرچ، دعائیہ مراکز اور مسیحی ادارے نشانہ بنے،20 سے زیادہ چرچ جلائے یا تباہ کیے گئے اور کئی افراد کو گھروں سے نکال کر مارا پیٹا گیا
اس رپورٹ نے ان حملوں میں سنگھ پریوار سے وابستہ تنظیموں، خصوصاً وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے کردار اور مسیحیوں کے خلاف پروپیگنڈے کا ذکر کیا تھا،ہیومن رائٹس واچ نے اسی دور میں یہ بھی لکھا کہ عیسائیوں کے خلاف تشدد میں اضافہ بی جے پی کے مرکز میں اقتدار میں آنے کے بعد نمایاں ہوا تھا
پھر 22 جنوری 1999 کو اڑیسہ کے منوہر پور میں آسٹریلوی مشنری گراہم اسٹینز اپنے دو کم عمر بیٹوں، 10 سالہ فلپ اور 6 سالہ ٹموتھی کے ساتھ گاڑی میں سو رہے تھے،تقریباً 50 افراد کے ہجوم نے گاڑی کو گھیر کر آگ لگا دی اور باپ اور دونوں بچے زندہ جل کر مر گئے،مرکزی مجرم رویندر پال عرف دارا سنگھ کو 2003 میں سزائے موت سنائی گئی، جسے بعد میں اڑیسہ ہائی کورٹ نے عمر قید میں تبدیل کیا اور سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا
اور 27 سال بعد بھی یہ مقدمہ ہندوستانی نظام انصاف کے سامنے موجود ہے، اور دارا سنگھ اب قبل از وقت رہائی کی درخواست کر رہا ہے اور ستمبر 2026 میں سپریم کورٹ کو ایک بار پھر اڑیسہ حکومت سے کہنا پڑا کہ اس درخواست پر فیصلہ کرے ورنہ اسے یہ فیصلہ کرنا پڑے گا
2008 میں اڑیسہ کے کندھمال میں سوامی لکشمنانند سرسوتی کے قتل کے بعد مسیحیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد پھوٹ پڑا،قتل کی ذمہ داری ماؤ نوازوں نے قبول کی تھی، لیکن اس کے باوجود تشدد کا بڑا نشانہ عیسائی برادری بنی
سرکاری اعداد و شمار میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 38 بتائی گئی، جبکہ انسانی حقوق اور مسیحی تنظیموں کے مطابق تعداد 90 سے 100 کے قریب تھی،تاہم کچھ اعداد و شمار ایسے ہیں جن پر اختلاف نسبتاً کم ہے،تقریباً 54,000 افراد بے گھر ہوئے، 5,600 کے قریب مکانات لوٹے یا جلائے گئے اور تقریباً 300 چرچ اور دیگر عبادت گاہیں تباہ یا نقصان کا شکار ہوئیں
بعد میں سپریم کورٹ نے 315 ایسے مقدمات کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا جن میں پولیس کو شکایات دی گئی تھیں لیکن مقدمات مناسب طور پر آگے نہیں بڑھے تھے
یہ اعداد و شمار اس لیے اہم ہیں کہ یہ صرف ماضی کی تاریخ نہیں یہ بتاتے ہیں کہ مذہبی نفرت جب ریاستی اداروں، پولیس، سیاست اور ہجوم کے درمیان ایک مخصوص ماحول پیدا کر دے تو اس کا نتیجہ صرف ایک چرچ یا ایک مسجد کے نقصان تک محدود نہیں رہتا،پورے معاشرے کی بنیاد متاثر ہوتی ہے ، پھر دو ہزار 14 آگیا اور بھارت مذہبی اقلیتوں کے مقتل میں تبدیل ہوتا چلا گیا
یونائیٹڈ کرسچن فورم کے مطابق اس کی ہیلپ لائن پر عیسائیوں کے خلاف درج ہونے والے واقعات 2014 میں 127 تھے۔ 2015 میں 142، 2016 میں 226، 2017 میں 248، 2018 میں 292، 2019 میں 328، 2020 میں 279، 2021 میں 505، 2022 میں 601، 2023 میں 734 اور 2024 میں 834 واقعات رپورٹ ہوئے
یعنی 2014 کے 127 سے 2024 کے 834 تک پہنچنے کا مطلب ہے کہ ایک دہائی میں درج شدہ واقعات میں 550 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا
یہاں ایک احتیاط یہ ضروری ہے کہ یہ سرکاری جرائم کے اعداد و شمار نہیں بلکہ یونائیٹڈ کرسچن فورم کی ہیلپ لائن پر رپورٹ کیے گئے واقعات ہیں، خود ہندوستانی حکومت ماضی میں UCF کے بعض اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا قرار دے چکی ہے
لیکن اگر صرف نفرت انگیز تقاریر کو دیکھا جائے تو تصویر پھر بھی تشویش ناک ہے
واشنگٹن میں قائم انڈیا ہیٹ لیب کے مطابق 2025 میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف 1,318 نفرت انگیز تقاریر کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 13 فیصد اور 2023 کے مقابلے میں 97 فیصد زیادہ تھے
ان میں 1,289، یعنی 98 فیصد، تقاریر میں مسلمان نشانے پر تھے،عیسائیوں کے خلاف 162 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو 2024 کے 115 واقعات کے مقابلے میں تقریباً 41 فیصد اضافہ ہے،مزید اہم بات یہ ہے کہ 1,164 واقعات، یعنی تقریباً 88 فیصد، ایسی ریاستوں یا علاقوں میں ہوئے جہاں بی جے پی براہ راست یا اتحادی حکومت کے ذریعے اقتدار میں تھی
اس لیے یہ کہنا غلط ہوگا کہ مسلمانوں کی جگہ عیسائیوں نے لے لی ہے،اعداد و شمار صاف بتاتے ہیں کہ مسلمان اب بھی نفرت انگیز تقاریر کا سب سے بڑا ہدف ہیں،لیکن عیسائیوں کے خلاف نفرت میں تیزی سے اضافہ یہ سوال ضرور پیدا کرتا ہے کہ نفرت کی سیاست ایک اقلیت پر رکنے والی نہیں
مسئلہ صرف مذہب نہیں، معیشت بھی ہے
یہاں اصل کہانی کا دوسرا رخ شروع ہوتا ہے
کیمبرج سے وابستہ ماہر اقتصادیات سریا ایئر، دمتری پیٹروخن اور آنند شریواستو کی 2026 میں شائع ہونے والی تحقیق نے 1994 سے 2013 تک ہندوستان کے ضلعی سطح کے فرقہ وارانہ فسادات اور معاشی سرگرمی کے تعلق کا جائزہ لیا
تحقیق کے مطابق فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ معاشی سرگرمی میں نمایاں اور دیرپا کمی سے منسلک ہے،محققین کے تخمینے کے مطابق فسادات کے خطرے میں ایک یونٹ اضافے سے مقامی جی ڈی پی تقریباً 0.45 فیصد کم ہوئی،اس کے ساتھ صنعتی پیداوار اور روزگار، بینک شاخوں، زرعی قرض اور مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے میں بھی کمی دیکھی گئی جبکہ ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد کم ہوا
یہاں ہندوستان کے لیے اصل سبق چھپا ہوا ہے
ایک ملک معاشی ترقی صرف سڑکیں، پل اور عمارتیں بنا کر نہیں کرتا،سرمایہ کار یہ بھی دیکھتا ہے کہ قانون کس کے لیے برابر ہے، پولیس کس کے ساتھ کھڑی ہوگی، عدالت کتنی آزاد ہے اور اگر کل کوئی ہجوم کسی کاروبار، گھر، فیکٹری یا عبادت گاہ پر حملہ کرے تو ریاست حملہ آور کو روکے گی یا متاثرہ شخص سے اس کی وفاداری کا ثبوت مانگے گی
یہی دراصل ملک کا کنٹری رسک ہے
ہندوستان کی معیشت نے 2026 کی اپریل تا جون سہ ماہی میں 7.8 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی ہے، اگرچہ اس سرکاری اعداد و شمار کی تشریح اور طریقۂ حساب پر معاشی ماہرین میں بحث بھی جاری ہے،اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ ہندوستان کی پوری معیشت ختم یا بند ہو چکی ہے،لیکن تیز جی ڈی پی نمو یہ ثابت نہیں کرتی کہ بے روزگاری، عدم مساوات، بنیادی سہولتوں اور سماجی اعتماد کے مسائل ختم ہو گئے ہیں
مثلاً 2022-23 کے گھریلو اخراجات کے سروے پر مبنی ایک تحقیقی مطالعے کے مطابق ہندوستان کے 12.5 فیصد گھرانوں کے پاس اب بھی بیت الخلا نہیں تھا، جو تقریباً 16.3 کروڑ افراد کے برابر بنتا ہے
لہٰذا ہندوستان کی اصل بحث یہ نہیں ہونی چاہیے کہ وہ دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے یا ساتویں یا اگلے درجے پر پہنچنے والی ہے،اصل سوال یہ ہے کہ اس معاشی طاقت کا فائدہ عام ہندوستانی کی زندگی میں کتنا پہنچ رہا ہے اور مذہبی تقسیم اس ترقی کی پائیداری کو کتنا نقصان پہنچا رہی ہے
ایک طرف مسلمانوں اور عیسائیوں سے نفرت، دوسری طرف انہی ممالک سے تجارت
یہاں ہندوستان کی سب سے دلچسپ سیاسی منافقت سامنے آتی ہے
ہندوستان امریکہ، یورپ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور دوسرے عیسائی اکثریتی ممالک کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور دفاعی تعاون بڑھانا چاہتا ہے،دوسری طرف خلیجی اور مسلم اکثریتی ممالک ہندوستان کے لیے توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور لاکھوں بھارتی کارکنوں کی روزگار کی منڈی ہیں
یعنی باہر کی دنیا میں مذہب کو سفارتی مفادات کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جاتا، لیکن اندرون ملک مذہب سیاسی شناخت اور انتخابی تقسیم کا ذریعہ بن جاتا ہے
یہ تضاد صرف اخلاقی مسئلہ نہیں، سفارتی مسئلہ بھی ہے
ایک ملک واشنگٹن، لندن، پیرس یا ریاض ، ابوظہبی میں خود کو قابل اعتماد عالمی طاقت کے طور پر پیش کرے اور اسی وقت اس کے اندر مذہبی اقلیتیں یہ شکایت کریں کہ انہیں اپنی عبادت کرنے کے لیے بھیڑ، پولیس یا انتظامیہ سے خوف محسوس ہوتا ہے تو عالمی طاقت ہونے کا دعویٰ کمزور پڑتا ہے
گزشتہ کرسمس پر وزیراعظم نریندر مودی دہلی کے کیتھیڈرل چرچ آف دی ریڈیمپشن گئے اور عیسائی برادری کے ساتھ کرسمس منایا،یہ تصویر عالمی سطح پر ہندوستان کی مذہبی رواداری کے پیغام کے لیے یقیناً مفید تھی
لیکن اسی وقت میں مختلف ریاستوں میں چرچوں اور کرسمس کی تقریبات کے خلاف احتجاج ، حملے اور توڑ پھوڑ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں
یہی تضاد ہندوستانی سیاست کا بنیادی سوال بن چکا ہے
دہلی میں وزیراعظم چرچ جائیں اور اقلیت کو احترام کا پیغام دیں، لیکن ملک کے کسی دوسرے حصے میں اسی مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو عبادت کے لیے فارم بھرنا پڑے تو دنیا یہ سوال ضرور پوچھے گی کہ اصل ہندوستان کون سا ہے؟
سنگھ پریوار کا سوال
یہاں ایک اصطلاح کی وضاحت ضروری ہے،آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل ایک ہی تنظیم نہیں ہیں، لیکن یہ مختلف تنظیمیں وسیع تر سنگھ پریوار سے وابستہ یا نظریاتی طور پر منسلک رہی ہیں،بی جے پی اس وسیع ہندو قوم پرست سیاسی ماحول کی سب سے بڑی انتخابی قوت ہے
ہیومن رائٹس واچ نے 1998-99 کے عیسائی مخالف تشدد کے بارے میں اسی وسیع نیٹ ورک، خصوصاً وی ایچ پی، بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے کردار کا ذکر کیا تھا
اسی لیے آج سوال صرف یہ نہیں کہ کسی ایک ہجوم نے کسی ایک چرچ پر حملہ کیا،سوال یہ ہے کہ کیا ریاست نے ایسا سیاسی اور سماجی ماحول بننے دیا ہے جہاں مذہبی اکثریت کے نام پر کام کرنے والے غیر ریاستی گروہ اقلیتوں کے حقوق کی حد خود طے کرنے لگیں؟
اور پھر اسی وقت آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت مغرب کے دورے پر جاتے ہیں
نیویارک میں ان کا یہ دلچسپ بیان خاص طور پر توجہ حاصل کر رہا ہے ، جسے بھارت میں مذہبی اقلیتیں تاریخی لطیفہ قرار دے رہی ہیں کہ اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان نہیں ہونے چاہئیں تو وہ ہندو نہیں رہ سکتا،ان کے حالیہ مغربی دورے میں تنوع، اتحاد، باہمی احترام اور مختلف عقائد کے ساتھ رہنے کی ضرورت پر زور دیا گیا
یہ بات اصولی طور پر ہندوستان کے آئینی تصور سے متصادم نہیں بلکہ اسی کے قریب ہے
لیکن سوال یہ ہے کہ یہی پیغام ہندوستان کے اندر طاقت کے ان مراکز، تنظیموں اور کارکنوں تک کب پہنچے گا جو عبادت، مذہب تبدیلی، لباس، کھانے اور مذہبی شناخت کو سیاسی جنگ بنا دیتے ہیں؟
اگر نیویارک میں کہا جائے کہ تنوع ہندوستان کی طاقت ہے تو ہندوستان میں بھی یہی اصول نظر آنا چاہیے۔
اگر لندن میں کہا جائے کہ اتحاد کے لیے یکسانیت ضروری نہیں تو ہندوستان میں بھی مسلمان، عیسائی، سکھ، بدھ اور ہندو اپنی اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ برابر شہری ہونے چاہئیں۔
اگر کہا جائے کہ بھارت کو خدمت، دوستی اور احترام کے ذریعے عالمی قیادت حاصل کرنی ہے تو اس کا پہلا امتحان ہندوستانی شہری کے دروازے پر ہونا چاہیے
اسی تناظر میں 2026 کا فارن کنٹریبیوشن ریگولیشن ایکٹ ترمیمی بل بھی اہم ہو جاتا ہے
حکومت نے مارچ میں یہ بل پیش کیا تھا اور 12 اگست کو اسے 31 رکنی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،اپوزیشن اور بعض اقلیتی تنظیموں نے اس کے بعض پہلوؤں پر اعتراضات اٹھائے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ مقصد غیر ملکی عطیات کے استعمال میں شفافیت اور جواب دہی بڑھانا ہے
بل کی بعض تجاویز، خصوصاً ایف سی آر اے سرٹیفکیٹ ختم ہونے کی صورت میں غیر ملکی عطیات سے حاصل کی گئی بعض املاک کے مستقبل سے متعلق شقوں نے چرچ اور سول سوسائٹی تنظیموں میں تشویش پیدا کی۔ حکومت نے بعض خدشات کے جواب میں یہ بھی کہا کہ قانون کو ماضی پر لاگو نہیں کیا جائے گا، مگر آر ایس ایس نہ اپنے فنڈ جو چندے سے حاصل کیا جاتا ہے نہ کوئ حساب دیتی ہے نہ اسکا کبھی کوئ آڈٹ سنا
یہاں ایک اور اہم بات سامنے آتی ہے، 8 اگست کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وزیراعظم مودی سے ٹیلی فون پر بات کی،بھارتی حکومت کے سرکاری بیان کے مطابق گفتگو میں تجارت، دفاع، ٹیکنالوجی، توانائی اور اہم معدنیات سمیت وسیع تر بھارت امریکہ شراکت داری پر بات ہوئی، لیکن سرکاری بیان میں ایف سی آر اے کا کوئی ذکر نہیں ہے
اس لیے یہ کہنا کہ وینس نے ایف سی آر اے پر اعتراض کیا اور اسی وجہ سے چار دن بعد بل جے پی سی کو بھیج دیا گیا، فی الحال ثابت شدہ خبر نہیں بلکہ ایک سیاسی قیاس ہے،البتہ ٹائم لائن نے اس بارے میں سوال ضرور پیدا کیا ہے، جس کی مکمل وضاحت حکومت یا امریکی فریق ہی کر سکتا ہے
ہندوستان میں گائے کے گوشت کے نام پر مسلمانوں اور بعض دیگر اقلیتوں کے خلاف تشدد ایک طویل عرصے سے سیاسی اور سماجی تنازع کا حصہ رہا ہے
لیکن یہاں بھی معاشی مفاد اور سیاسی نعرے کا تضاد نمایاں ہے
ہندوستانی حکومت کے زرعی اور پروسیسنگ برآمدی ادارے کے مطابق ہندوستان نے 2025-26 میں تقریباً 1.42 ملین ٹن بھینس کا گوشت برآمد کیا جس کی مالیت تقریباً 5.1 ارب ڈالر تھی،بڑے خریداروں میں ویتنام، مصر، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب شامل ہیں، اور سرکاری ادارہ ہندوستان کو دنیا کا سب سے بڑا بھینس کے گوشت کا برآمد کنندہ قرار دیتا ہے
یعنی بیرون ملک ڈالر کمانے کے لیے یہی شعبہ اقتصادی سرگرمی ہے، لیکن اندرون ملک گوشت اور گائے کے نام پر مذہبی سیاست الگ منطق اختیار کر لیتی ہے
یہی دوہرا معیار ہندوستانی سیاست کی سب سے بڑی کمزوریوں میں سے ایک بنتا جا رہا ہے
کیا ہندوستان اپنے پڑوسیوں سے سبق سیکھ رہا ہے؟
جنوبی ایشیا کی تاریخ بار بار ایک ہی سبق دیتی ہے: جب ریاست شہری کی شناخت کو اس کے مذہب سے ناپنے لگے، جب ہجوم قانون سے اوپر سمجھا جانے لگے اور جب اکثریت پسندی قومی سیاست کا بنیادی اصول بن جائے تو سب سے پہلے اقلیت متاثر ہوتی ہے، لیکن بالآخر پورا معاشرہ نقصان اٹھاتا ہے
انڈونیشیا کا 1998 کا بحران اس کی ایک مثال ہے،چینی اقلیت کے خلاف تشدد، قتل، لوٹ مار، آتش زنی اور بڑے پیمانے پر سرمایہ اور لوگوں کا ملک سے نکلنا پہلے سے موجود معاشی بحران کو مزید سنگین بنا گیا
سرمایہ کار کے لیے یہ فرق نہیں ہوتا کہ فساد کس مذہب کے خلاف ہے،وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ کل اگر اس کی فیکٹری، دکان، گھر یا دفتر کسی ہجوم کے نشانے پر آیا تو قانون اس کی حفاظت کرے گا یا نہیں
یہی وجہ ہے کہ مذہبی رواداری صرف اخلاقی خوبی نہیں، معاشی اثاثہ بھی ہے
ہندوستان کی اصل طاقت کیا ہے؟
ہندوستان کی اصل طاقت یہ نہیں کہ وہاں 140 کروڑ سے زیادہ لوگ رہتے ہیں
اصل طاقت یہ ہے کہ ان کروڑوں لوگوں میں سینکڑوں زبانیں، درجنوں مذہبی روایتیں، مختلف نسلیں، کھانے، لباس اور تہذیبیں موجود ہیں، لیکن ایک آئین سب کو شہری بناتا ہے
اگر اس تنوع کو کمزوری سمجھ کر ختم کرنے کی کوشش کی جائے تو ہندوستان اپنی سب سے بڑی طاقت خود ختم کرے گا
مسجد سے اذان آئے، مندر کی گھنٹی بجے، گردوارے میں ارداس ہو اور چرچ میں اتوار کی عبادت ہو، ریاست کا کام یہ طے کرنا نہیں کہ کون سا خدا اصلی ہے،ریاست کا کام صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی ہجوم کسی دوسرے شہری کے دروازے پر جا کر اس کی عبادت بند نہ کرا سکے
یہی سیکولر ریاست کا بنیادی تصور ہے
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہندوستان کو اپنے باہر کے دشمنوں سے زیادہ اپنے اندر کے تضادات کو دیکھنا ہوگا
کیونکہ دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بننے کا دعویٰ، عالمی طاقت بننے کی خواہش، امریکہ اور یورپ کے ساتھ تجارتی معاہدے، خلیجی ممالک سے توانائی اور سرمایہ کاری اور دنیا بھر میں بھارتی تارکین وطن کی کامیابیاں اپنی جگہ اہم ہیں
لیکن عالمی طاقت کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ دنیا آپ کے الفاظ اور آپ کے عمل میں فرق نہ دیکھے
اگر واشنگٹن میں تنوع کی بات ہو اور کلکتہ میں عبادت روکی جائے، نیویارک میں مذہبی ہم آہنگی کا پیغام دیا جائے اور ممبئی میں عبادت گزاروں کو اپنی آزادی کا حلف دینا پڑے، لندن میں احترام کی بات ہو اور ہندوستان میں مسجد یا چرچ کے باہر ہجوم کھڑا ہو جائے تو مسئلہ صرف اقلیت کا نہیں رہتا
پھر سوال خود ہندوستان کی ریاست کا بن جاتا ہے
اور شاید ہندوستان کے لیے اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے
کیا وہ دنیا کو یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ ایک بڑی معیشت ہے، یا یہ بھی ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ ایک بڑی جمہوریت ہے؟
کیونکہ معیشت کا حجم عالمی طاقت بنا سکتا ہے، لیکن قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، شہری مساوات اور سماجی اعتماد ہی کسی ملک کو واقعی باوقار طاقت بناتے ہیں
دنیا ہندوستان کی سفارتی تقریریں بھی سنتی ہے اور ہندوستان کی سڑکوں پر ہونے والی سیاست بھی دیکھتی ہے
آخرکار کسی ملک کی عالمی عزت اس کے نعروں سے نہیں، اس کے اندر رہنے والے سب سے کمزور شہری کے ساتھ اس کے سلوک سے طے ہوتی ہے، امریکہ یورپ ، آسٹریلیا کینڈا میں امیگریشن کے خلاف مہم کا تاثر ہو تو تعصب نسل پرستی اور انسانی حقوق کے الزامات نعرے دعوے دھرائے جائیں مگر یہی سب کچھ اپنے جغرافیے میں معمول ہو تو کہا جائے “ ہم پر جھوٹے الزامات بہتان لگائے جاتے ہیں ، یہ صراصر دشنام طرازی ہے “ ایسی باتوں پر دنیا ہنسے گی بھی اور آپ کا وقار کم ہوتے ہوتے بات حقارت تک پہنچ جائے گی

قومی خبریں سے مزید