برطانوی پارلیمنٹ نے ڈاکٹر کی مدد سے زندگی ختم کرنے کی تجویز مسترد کردی
برطانوی پارلیمنٹ نے شدید اور لاعلاج بیماری میں مبتلا مریضوں کو ڈاکٹر کی مدد سے اپنی زندگی ختم کرنے کی اجازت دینے والا قانون مسترد کردیا دارالعوام میں ہونے والی ووٹنگ میں 286 ارکان نے قانون کے خلاف جبکہ 270 نے حق میں ووٹ دیا، یوں یہ تجویز صرف 16 ووٹوں کے فرق سے مسترد ہوگئی
مجوزہ قانون انگلینڈ اور ویلز میں ایسے بالغ افراد کے لیے تھا جنہیں لاعلاج بیماری کی وجہ سے 6 ماہ یا اس سے کم زندگی باقی رہنے کی توقع ہو ایسے مریض کو اپنی زندگی ختم کرنے کے لیے طبی مدد حاصل کرنے کی اجازت دی جاتی، تاہم اس کے لیے 2 ڈاکٹروں اور ماہرین کے ایک پینل کی منظوری ضروری ہوتی
قانون کے حامیوں کا کہنا تھا کہ شدید تکلیف میں مبتلا اور زندگی کے آخری مرحلے میں پہنچنے والے مریضوں کو اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار ملنا چاہیے ان کے مطابق موجودہ قانون ایسے مریضوں کو اپنی مرضی سے زندگی کے اختتام کا راستہ اختیار کرنے سے محروم رکھتا ہے
مخالفت کرنے والے ارکان نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس قانون سے کمزور، معمر یا شدید بیمار افراد پر اپنی زندگی ختم کرنے کے لیے بالواسطہ دباؤ پڑ سکتا ہے بعض ارکان نے یہ اعتراض بھی کیا کہ ڈاکٹر کے لیے کسی مریض کے پاس صرف 6 ماہ زندگی باقی رہنے کی درست پیش گوئی کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا
وزیراعظم اینڈی برنہم کی حکومت نے اس معاملے پر غیر جانب دار رہنے کا فیصلہ کیا تھا اور ارکان کو اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دینے کی اجازت تھی برنہم نے خود ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ان کا مؤقف رہا ہے کہ پہلے برطانیہ میں آخری عمر کی نگہداشت اور مریضوں کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے
یہ دوسری مرتبہ ہے کہ اسی نوعیت کی قانون سازی کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی گزشتہ سال دارالعوام نے ایسی ہی تجویز کی حمایت کی تھی، تاہم بعد میں دارالامرا میں اس پر پیش رفت نہ ہوسکی موجودہ شکست کے بعد موجودہ پارلیمانی دور میں اس قانون کو دوبارہ پیش کرنا ممکن نہیں ہوگا





