خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات موجود، مگر غریب دیہی خواتین تک رسائی اب بھی بڑا مسئلہ

خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات موجود، مگر غریب دیہی خواتین تک رسائی اب بھی بڑا مسئلہ

پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں شامل ہے اور ہر سال تقریباً 70 لاکھ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے، یعنی روزانہ تقریباً 19 ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں ایسی صورتحال میں خاندانی منصوبہ بندی کی مؤثر سہولیات کی ضرورت انتہائی اہم ہے، لیکن صرف آگاہی اور مانع حمل ادویات کی فراہمی سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ دیہی علاقوں میں غریب خواتین کو علاج اور خاندانی منصوبہ بندی کی سہولت تک پہنچنے کے لیے متعدد عملی، معاشی اور سماجی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے
لاڑکانہ کے دیہی علاقوں میں خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات فراہم کرنے کے تجربے سے معلوم ہوا کہ سرکاری مرکز میں مانع حمل طریقے اور مستقل نس بندی کی سہولت بظاہر مفت دستیاب تھی، لیکن غریب خواتین کے لیے وہاں تک پہنچنا ہی ایک بڑا مسئلہ تھا۔ کئی خواتین کو گاؤں سے شہر پہنچنے کے بعد پہلے طبی معائنہ کرانے کے لیے کہا جاتا، پھر دوبارہ آنے پر ڈاکٹر موجود نہ ہونے یا کسی دوسرے انتظامی مسئلے کی وجہ سے واپس بھیج دیا جاتا
ایک متوسط طبقے کی خاتون کے لیے کسی ملاقات کا ملتوی ہونا محض ایک زحمت ہوسکتی ہے، لیکن ایک غریب دیہی عورت کے لیے ہر اضافی چکر کا مطلب کرایہ، گھر سے باہر پورا دن، بچوں کی دیکھ بھال کا انتظام اور بعض اوقات شوہر یا خاندان سے اجازت حاصل کرنا ہوتا ہے اگر عورت یا اس کا شوہر یومیہ اجرت پر کام کرتا ہو تو علاج کے لیے ایک دن گھر بیٹھنے سے آمدنی بھی ختم ہوجاتی ہے
اسی تجربے کے بعد ایک فلاحی ادارے نے طریقہ تبدیل کیا خواتین کو صرف ہسپتال کا پتا دینے کے بجائے انہیں گاؤں سے گاڑی میں لے جایا جانے لگا، کاغذی کارروائی اور مشاورت میں مدد فراہم کی گئی، علاج کے بعد انہیں واپس گھر پہنچایا گیا اور اگلے دن ان کی صحت کا جائزہ بھی لیا گیا ضرورت پڑنے پر زخم کی دیکھ بھال اور ٹانکے نکالنے کے لیے مزید دورے کیے گئے
یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ کسی سہولت کا کاغذوں میں مفت ہونا اس وقت تک کافی نہیں جب تک غریب خاتون کے لیے اس سہولت تک پہنچنے کا پورا راستہ آسان نہ بنایا جائے اگر سرکاری گاڑی موجود ہو لیکن ضرورت کے وقت دستیاب نہ ہو، کبھی خراب ہو، کہیں اور بھیج دی گئی ہو یا کئی خواتین کے ایک جگہ جمع ہونے کا انتظار کیا جائے تو ایسی سہولت عملی طور پر غریب عورت کے لیے بے فائدہ رہتی ہے
مسئلہ صرف فاصلے اور انتظامی رکاوٹوں تک محدود نہیں۔ سماجی رویے بھی خواتین کے فیصلوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں بعض معاملات میں ڈاکٹروں نے ان خواتین کی مستقل نس بندی کرنے سے انکار کیا جن کے ہاں بیٹا نہیں تھا، صرف ایک بیٹا تھا یا بیٹا ابھی کم عمر تھا اس کی ایک وجہ یہ بیان کی گئی کہ اگر مستقبل میں اکلوتا بیٹا بیماری یا حادثے میں فوت ہوجائے تو خاندان دوبارہ اولاد کا مطالبہ کرسکتا ہے
ایسی صورتحال میں بعض خواتین کو یہ خوف بھی لاحق ہوتا ہے کہ اگر وہ دوبارہ حاملہ نہ ہوسکیں تو شوہر دوسری شادی کرسکتا ہے، جس سے ان کی گھریلو حیثیت اور معاشی تحفظ مزید کمزور ہوسکتا ہے۔ مستقل نس بندی واپس تبدیل کرنا بھی پیچیدہ، مہنگا اور ہر جگہ دستیاب نہیں، جبکہ اس کے باوجود دوبارہ اولاد ہونے کی ضمانت نہیں ہوتی
یہ صورتحال معاشرے میں بیٹے کو ترجیح دینے، خواتین کے کمزور فیصلہ سازی کے اختیار اور شادی کے اندر ان کے معاشی انحصار جیسے گہرے مسائل کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ تاہم کسی بالغ خاتون کو صرف اس بنیاد پر اپنی مرضی کا فیصلہ کرنے سے روکنا کہ اس کے ہاں بیٹا موجود نہیں یا بیٹا کم عمر ہے، اس کے اپنے جسم اور مستقبل کے بارے میں اختیار کو محدود کرتا ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کو مکمل اور غیر جانب دار مشاورت فراہم کی جائے۔ انہیں مستقل نس بندی کی نوعیت اور اس کے نتائج سے آگاہ کیا جائے، ساتھ ہی ایسے مانع حمل طریقوں کے بارے میں بھی بتایا جائے جنہیں مستقبل میں دوبارہ تبدیل کیا جاسکتا ہے فیصلہ کسی دباؤ کے بغیر، مکمل معلومات اور خاتون کی رضامندی سے ہونا چاہیے
پاکستان میں شادی شدہ خواتین میں جدید مانع حمل طریقوں کا استعمال اب بھی کم ہے اور تقریباً ہر 6 میں سے 1 خاتون خاندانی منصوبہ بندی کی ایسی ضرورت رکھتی ہے جو پوری نہیں ہو رہی فاصلے، اخراجات، غیر قابل اعتماد طبی سہولیات، خاندان سے اجازت یا کسی ساتھی کی ضرورت اور خواتین کے محدود فیصلہ سازی کے اختیار جیسے عوامل اس صورتحال کی بڑی وجوہات ہیں
اس مسئلے کا حل صرف آگاہی مہم چلانا نہیں۔ ایک مؤثر نظام میں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ خاتون کو سمجھانے والا موجود ہو، اسے ہسپتال تک پہنچانے کا انتظام ہو، ڈاکٹر مقررہ وقت پر موجود ہو، ضروری طبی معائنہ مکمل ہو، مطلوبہ سہولت دستیاب ہو اور علاج کے بعد اسے محفوظ طریقے سے گھر پہنچایا جائے
خاندانی منصوبہ بندی کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب ایک غریب دیہی عورت اپنے گاؤں سے طبی مرکز تک پورا سفر اعتماد اور سہولت کے ساتھ طے کرسکے صرف کاغذوں میں موجود سہولت کافی نہیں، اصل ضرورت ایسی قابل اعتماد صحت کی خدمات کی ہے جو عورت کے دروازے سے شروع ہوں اور علاج کے بعد اس کی محفوظ واپسی تک اس کا ساتھ دیں

قومی خبریں سے مزید