Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

نئی “سول سوسائٹی “نئے صوبے ، اور پاکستان میں عوامی مینڈیٹ کے ساتھ نیت کا بحران عظیم

pakistanpostusa

نئی “سول سوسائٹی “نئے صوبے ، اور پاکستان میں عوامی مینڈیٹ کے ساتھ نیت کا بحران عظیم

جمہوری اور مہذب معاشروں میں جب کوئی بڑا قومی مسئلہ سامنے آتا ہے تو اس کا فیصلہ بند کمروں میں یا گماشتوں کی محفلوں میں نہیں بلکہ عوام کے سامنے کیا جاتا ہے، سیاسی جماعتیں اپنا مؤقف بناتی ہیں، اسے انتخابی منشور کا حصہ بناتی ہیں، عوام کے درمیان جاتی ہیں، مخالفت اور حمایت میں بحث ہوتی ہے، پھر ووٹر فیصلہ کرتے ہیں،جس ایجنڈے کو عوام کا مینڈیٹ مل جائے، منتخب حکومت اسے قانون سازی کے ذریعے نافذ کرنے کی کوشش کرتی ہے، اور جسے عوام مسترد کردیں، اسے سیاسی طور پر واپس لے لیا جاتا ہے،یہی جمہوری سیاست کا بنیادی اصول ہے کہ بڑے فیصلوں کی اصل طاقت اقتدار کے منصب پر بیٹھے چند افراد نہیں بلکہ عوام کا ووٹ ہوتا ہے
دنیا کے مختلف جمہوری نظاموں میں اس اصول کی متعدد شکلیں موجود ہیں،کہیں قومی انتخابات کے ذریعے بڑے سوالات پر فیصلہ ہوتا ہے، کہیں ریفرنڈم کے ذریعے عوام سے براہ راست رائے لی جاتی ہے اور کہیں وفاقی یا صوبائی سطح پر آئینی طریقہ کار کے تحت عوامی مینڈیٹ حاصل کیا جاتا ہے،کینیڈا میں کیوبیک کے مستقبل جیسے سوالات پر براہ راست عوامی رائے لی جا چکی ہے،لیکن ان تمام مثالوں میں بنیادی سوال یہی ہوتا ہے کہ فیصلہ کرنے والی قوت عوام ہے اور فیصلہ کسی ایسے طریقہ کار کے ذریعے ہونا چاہیے جس کی قانونی اور سیاسی حیثیت پہلے سے واضح ہو
پاکستان میں اس وقت صوبوں یا نئے انتظامی یونٹ بنانے کا سوال اسی بنیادی امتحان کے سامنے کھڑا ہے
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے 5 ستمبر کو لاہور میں ہونے والے قومی پالیسی مکالمے میں ایک مرتبہ پھر کہا کہ نئے انتظامی یونٹ عوام کی مرضی کے بغیر نہیں بننے چاہئیں،انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ عہدے پر رہیں یا نہ رہیں، نئے صوبوں اور انتظامی یونٹ کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس معاملے میں عہدے پر بیٹھے لوگوں کی خواہش کے مقابلے میں عوام کی مرضی زیادہ اہم ہے
یہاں سے اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی عوام کی مرضی سب سے اہم ہے تو پھر عوام کے پاس جانے کا جمہوری راستہ کیا ہے؟
اور یہی وہ اصل سوال ہے جہاں پاکستان کی موجودہ سیاسی بحث میں ایک بنیادی تضاد سامنے آتا ہے
ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ ملک کا انتظامی ڈھانچہ تبدیل کرنا ہے، نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹ بنانے ہیں، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے ہیں اور اس بڑے فیصلے میں عوام کی رائے بنیادی حیثیت رکھتی ہے،دوسری طرف ملک میں فوری عام انتخابات کا کوئی نیا اعلان سامنے نہیں آیا، موجودہ اسمبلیاں اپنی آئینی مدت کے اندر کام کر رہی ہیں اور نئے صوبوں کے سوال پر ابھی تک کوئی واضح، متفقہ آئینی نقشہ بھی سامنے نہیں آیا
اس لیے یہ سوال ناگزیر ہے کہ اگر عوام کی مرضی معلوم کرنی ہے تو کیا اس کا راستہ عام انتخابات ہونا چاہیے، کیا سیاسی جماعتوں کو یہ مطالبہ اپنے انتخابی منشور میں شامل کرکے عوام کے پاس جانا چاہیے، یا پھر ریفرنڈم کے ذریعے براہ راست عوام سے سوال کیا جائے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستانی تاریخ میں ریفرنڈم کی روایت خود ایک غیر معمولی سیاسی تاریخ رکھتی ہے
جنرل ضیا الحق نے 1984 میں اسلامائزیشن کے عمل کے بارے میں ریفرنڈم کرایا تھا اور اس سوال کو اپنی آئندہ صدارت کے ساتھ جوڑ دیا تھا،امریکی محکمہ خارجہ کی تاریخی دستاویز کے مطابق ضیا حکومت نے اسلامائزیشن کی حمایت کو ان کی صدارت جاری رکھنے کے مینڈیٹ کے ساتھ جوڑ دیا تھا، جبکہ اپوزیشن اتحاد نے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا اور حکومت کے اعلان کردہ نتائج پر بھی سوالات اٹھائے گئے
یعنی پاکستان میں ریفرنڈم صرف ایک آئینی طریقہ کار نہیں رہا، بلکہ ماضی میں اسے اقتدار کو سیاسی جواز دینے کے لیے بھی استعمال کیا گیا،یہی وجہ ہے کہ جب آج کوئی بڑا قومی مسئلہ عوامی رائے کے نام پر ریفرنڈم سے حل کرنے کی بات کرتا ہے تو ماضی خود بخود سامنے آجاتا ہے
موجودہ بحث میں یہ بات خاص طور پر اہم ہے کیونکہ آئین پاکستان ریفرنڈم کی گنجائش ضرور رکھتا ہے،آئین کے آرٹیکل 48 کی شق 6 کے مطابق اگر وزیراعظم کسی قومی اہمیت کے معاملے پر ریفرنڈم ضروری سمجھیں تو معاملہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جاسکتا ہے، اور منظوری کے بعد اسے ایسے سوال کی صورت میں عوام کے سامنے رکھا جاسکتا ہے جس کا جواب ہاں یا نہیں میں دیا جاسکے
لیکن نئے صوبے بنانا محض ایک عام انتظامی فیصلہ نہیں ہے
آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت اگر کسی آئینی ترمیم سے کسی صوبے کی حدود تبدیل ہوتی ہیں تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ارکان کی منظوری ضروری ہے،اس کے علاوہ آئینی ترمیم کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بھی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، اور یہاں موجود اسمبلیوں ، حکومت اور پورے نظام پر جو سوالات کھڑے ہیں وہ ایک الگ بحث طلب مسئلہ ہے
اس کا مطلب یہ ہے کہ عوامی رائے اپنی جگہ، لیکن نئے صوبے بنانے کے لیے آئینی اور پارلیمانی عمل کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،اگر کسی نئے صوبے کی تشکیل موجودہ صوبے کی حدود تبدیل کرتی ہے تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری آئینی تقاضا ہے، وہ بھی ایسی اسمبلی جو حقیقتا عوامی رائے سے تشکیل دی گئی ہو
اسی لیے محسن نقوی کی جانب سے عوامی مرضی کو بنیادی شرط قرار دینا سیاسی طور پر ایک بڑا سوال تو اٹھاتا ہے، لیکن اس سوال کا اگلا حصہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے: عوام کی مرضی کس آئینی راستے سے معلوم کی جائے گی؟ اور اس رائے کے ساتھ راستہ میں نیت اہم ترین معاملہ ہے
اسی قومی پالیسی مکالمے میں مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے بھی نئے صوبوں یا چھوٹے انتظامی یونٹ کے تصور کی اصولی حمایت کی، لیکن ان کی گفتگو نے بحث کو ایک دوسرے اور زیادہ بنیادی مسئلے کی طرف موڑ دیا،ان کا کہنا تھا کہ اگر آئین کی خلاف ورزی جاری رہے تو صوبوں کی تعداد تبدیل کرنے سے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں میں جمہوریت، اداروں کے آئینی کردار، غیر جانب دار انتخابی نظام اور مضبوط بلدیاتی حکومتوں کی ضرورت پر زور دیا
سعد رفیق کی بات کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ مسئلہ صرف نقشے پر نئی سرحدیں کھینچنے کا نہیں بلکہ نظام کے رویوں کا ہے
اگر سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری فیصلہ سازی نہیں، اگر قیادت خاندانوں کے گرد گھومتی رہے، اگر ادارے اپنے آئینی دائرے سے باہر نکلتے رہیں، اگر انتخابات پر اعتماد کا بحران موجود رہے اور اگر مقامی حکومتیں بااختیار نہ ہوں تو نئے صوبے بھی وہی پرانا نظام نئے ناموں کے ساتھ چلا سکتے ہیں
یہاں ایک انتہائی اہم بات سامنے آتی ہے،پاکستان کو نئے صوبے چاہئیں یا نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے؛ لیکن نئے صوبے بنانے کا فیصلہ کس سیاسی مینڈیٹ کے ذریعے ہوگا، یہ اس سے پہلے کا سوال ہے
پاکستان میں اس وقت بھی انتخابی مینڈیٹ پر شدید سیاسی اختلاف موجود ہے،2024 کے عام انتخابات کے نتائج کے بارے میں فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق دھاندلی کے الزامات اور انتخابی شفافیت پر اعتراضات مسلسل سیاسی بحث کا حصہ رہے ہیں،اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انتخابی عمل پر اعتماد کا بحران ختم نہیں ہوا
ایسے ماحول میں اگر ایک ایسا بنیادی قومی مسئلہ اٹھایا جاتا ہے جو پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور وفاقی دارالحکومت کے مستقبل کے انتظامی نقشے کو متاثر کرسکتا ہے تو سیاسی اعتبار سے سب سے مضبوط راستہ یہی ہوگا کہ اسے کھلے سیاسی مباحثے، واضح آئینی طریقہ کار اور قابلِ اعتماد عوامی مینڈیٹ کے ساتھ آگے بڑھایا جائے
خاص طور پر اس لیے کہ نئے صوبوں کی بحث پہلے ہی مختلف علاقوں میں مختلف سیاسی مفادات سے جڑ چکی ہے، یہاں تک کے خبریں یہ ہیں کے ملک کا آئینی سربراہ صدر مملکت ناراض ہوکر جلاوطنی اختیار کیے ملک سے ہی جاچکا ہے ، محسن نقوی نے اسلام آباد کو بھی صوبے کا درجہ دینے پر بحث کی بات کی ہے اور کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے رہائشیوں کو قومی مالیاتی کمیشن میں صوبوں جیسا حصہ نہیں ملتا، اور اسلام آباد زمینیں بیچ بیچ کر اپنے مسائل حل کررہا ہے ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے انتظامی یونٹ نسلی یا علاقائی شناختوں کو ختم کرنے کے لیے نہیں بلکہ حکمرانی بہتر بنانے کے لیے ہونے چاہئیں
لیکن پاکستان کا اصل بحران شاید نقشے سے بڑا ہے
وفاقی وزیر داخلہ خود ملک کے تعلیمی بحران کا ذکر کرتے ہوئے بچوں کے اسکول سے باہر ہونے کی بات کرتے ہیں، مگر دستیاب اعداد و شمار میں بھی اختلاف موجود ہے،اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 25.1 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں، جبکہ پاکستان کے حالیہ گھریلو سروے میں یہ تعداد تقریباً 20 ملین تک کم ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے،اس لیے کسی ایک عدد کو حتمی قرار دینے کے بجائے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ پاکستان میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کروڑوں میں ہے اور مسئلہ غیر معمولی سنگینی اختیار کرچکا ہے
غربت کے معاملے میں بھی یہی احتیاط ضروری ہے،عالمی بینک کے حوالے سے پاکستان کی نچلی متوسط آمدنی والی غربت کی شرح 2024 کے لیے 42.3 فیصد بتائی گئی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے پاکستان آبادی رپورٹ میں مختلف معیار کے تحت تقریباً 45 فیصد آبادی کے غربت کی لکیر سے نیچے ہونے کا ذکر ہے، جبکہ آزاد و مستند معاشی ماہرین یہ تعداد 55 فیصد سے بھی زیادہ ظاہر کرتے ہیں
مگر اعداد و شمار کے اختلاف کے باوجود مسئلے کی سنگینی تبدیل نہیں ہوتی
پاکستان کے سامنے اسکول سے باہر کروڑوں بچے ہیں، غربت کا شدید دباؤ ہے، روزگار کا بحران ہے، انصاف کے نظام پر اعتماد کا مسئلہ ہے، سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری عمل پر سوالات ہیں اور انتخابات کی ساکھ پر مسلسل تنازعہ موجود ہے،ایسے میں قومی سیاسی گفتگو اگر اچانک صوبوں کی نئی تقسیم کے سوال پر مرکوز ہوجاتی ہے تو فطری طور پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ واقعی انتظامی اصلاحات کا منصوبہ ہے یا اس کے پیچھے اس سے بڑا سیاسی ایجنڈا بھی موجود ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اٹھ رہا ہے کہ خود محسن نقوی نے جو خود اسی نظام کی نام نہاد سیاسی پیدوار ہیں جولائی میں ’’نظام کو دوبارہ ترتیب دینے‘‘ کی بات کرتے ہوئے موجودہ حکمرانی کے ڈھانچے کو ناکام قرار دینے کے انداز میں اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا، بعد میں انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد کسی موجودہ حکومت یا سیاسی جماعت کو ہٹانا نہیں بلکہ نظام میں اصلاحات کرنا ہے
لہٰذا اصل بحث کو جذباتی نعروں سے نکال کر ایک واضح سیاسی سوال میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے
اگر نئے صوبے واقعی عوام کی خواہش ہیں تو سیاسی جماعتیں انہیں اپنے منشور کا حصہ بنائیں
اگر یہ اتنا ہی اہم قومی مسئلہ ہے تو تمام بڑی سیاسی جماعتیں اپنا واضح مؤقف عوام کے سامنے رکھیں
اگر موجودہ صوبائی ڈھانچہ ناکام ہوچکا ہے تو اس کی وجوہات، نئے نقشے، وسائل کی تقسیم، قومی مالیاتی کمیشن، ملازمتوں کے کوٹے، پانی، زمین، دارالحکومتوں، انتظامی اخراجات اور مقامی حکومتوں کے اختیارات کا مکمل منصوبہ عوام کے سامنے رکھا جائے
اور اگر فیصلہ عوام ہی نے کرنا ہے تو پھر عوام سے پوچھنے کا ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس کی قانونی حیثیت، سوال کی زبان، انتخابی نگرانی اور نتیجے کے نفاذ پر پہلے ہی قومی اتفاق رائے موجود ہو
کیونکہ جمہوریت میں اصل سوال یہ نہیں ہوتا کہ حکومت کو کسی تجویز پر کتنا یقین ہے،اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ عوام کو اس تجویز پر فیصلہ کرنے کا کتنا حقیقی اختیار دیا گیا ہے
یہاں پاکستان کے لیے سب سے بڑا امتحان یہی ہے
اگر ملک واقعی نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹوں کی طرف جانا چاہتا ہے تو سیاسی جماعتوں کو اگلے عام انتخابات سے بھاگنے کے بجائے اسی مسئلے کو انتخابی ایجنڈا بنانا چاہیے،عوام کے سامنے جانا چاہیے، اپنا نقشہ اور منصوبہ پیش کرنا چاہیے اور پھر ووٹ مانگنا چاہیے
کیونکہ اگر ایک طرف کہا جائے کہ عوام کی مرضی سب سے مقدم ہے اور دوسری طرف عوام کو براہ راست کسی باقاعدہ انتخابی فیصلے کا موقع نہ دیا جائے تو یہ سوال بہرحال پیدا ہوگا کہ عوام کی مرضی معلوم کرنے کی کوشش ہورہی ہے یا عوام کی مرضی حاصل کرنے کے لیے ایک مخصوص راستہ تلاش کیا جارہا ہے؟
اور اگر ریفرنڈم کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو پاکستان کی تاریخ کا سبق بھی سامنے رہنا چاہیے،ریفرنڈم صرف اس وقت جمہوری معنویت رکھتا ہے جب سوال غیر مبہم ہو، عوام کو آزادانہ سیاسی بحث کی اجازت ہو، مخالف آوازوں کو مساوی جگہ ملے، انتخابی نگرانی قابلِ اعتماد ہو اور ووٹ کسی حکمران کی مدتِ اقتدار یا سیاسی بقا کے ساتھ اس طرح نہ جوڑا جائے کہ عوام کے لیے کسی پالیسی کے خلاف ووٹ دینا کسی مقدس یا قومی قدر کے خلاف ووٹ دینے کے مترادف بنا دیا جائے
جنرل ضیا الحق کے 1984 کے ریفرنڈم کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ عوامی رائے کا نام لینا اور حقیقی عوامی مینڈیٹ حاصل کرنا دو مختلف چیزیں ہوسکتی ہیں
پاکستان آج ایک اور ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں صوبوں کی تعداد سے زیادہ اہم سوال سیاسی نظام کی ساکھ کا ہے
اگر سیاسی جماعتیں، حکومت، پارلیمان، عدلیہ اور ریاستی ادارے واقعی آئینی راستے پر چلنا چاہتے ہیں تو نئے صوبوں کی بحث کو ایک کھلی، شفاف اور انتخابی سیاسی بحث بنانا ہوگا
اور اگر کسی جماعت یا حکومت کو یقین ہے کہ عوام نئے صوبوں کے حق میں ہیں تو اس سے آسان جمہوری راستہ کوئی نہیں،اپنا ایجنڈا لے کر عوام کے پاس جائیں اور ان سے ووٹ مانگیں
کیونکہ جمہوری معاشرے میں سب سے طاقتور ریفرنڈم وہ ہوتا ہے جس میں عوام کو پورا سیاسی اختیار حاصل ہو، اور سب سے معتبر مینڈیٹ وہ ہوتا ہے جو آزاد اور قابلِ اعتماد انتخابات سے حاصل ہو، اور اگر ماضی کی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے نام نہاد دانشوروں اور گماشتوں کے ذریعے ہی چائے کی پیالی میں طوفان اٹھا کر اور ملک کے تعلیمی اداروں کو بھی متنازعہ بنا کر اپنے مقاصد حاصل کرنے ہیں اور اپنے دلالوں کو انقلابی بنا کر کوئ نیا جمود طاری کرنا ہے تو یہ شوق بھی پورا کرلیجیے مگر اس کے ساتھ پھر اب یہ نعرہ بھی لگانا ہوگا “ جو بچا تھا وہ لٹانے کے لیے آئے ہیں “

قومی خبریں سے مزید