ڈیموکریٹک ریاست میں ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کی بقا داؤ پر، 199 ملین ڈالر کی انتخابی مہم میں سینیٹ کا کنٹرول بھی خطرے میں
امریکی ریاست مین میں ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کو 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات میں اپنے سیاسی کیریئر کے سخت ترین مقابلوں میں سے ایک کا سامنا ہے،تین دہائیوں سے سینیٹ میں موجود کولنز ڈیموکریٹ امیدوار ٹرائے جیکسن کے ساتھ کانٹے کے مقابلے میں ہیں،اس انتخاب کا نتیجہ نہ صرف کولنز کے سیاسی مستقبل بلکہ امریکی سینیٹ میں ریپبلکن اکثریت برقرار رہنے یا ڈیموکریٹس کے اقتدار میں آنے کے امکانات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے
کولنز نے 1996 میں پہلی مرتبہ سینیٹ کا انتخاب جیتا تھا،ان کی سیاسی کامیابی کا ایک اہم سبب یہ رہا ہے کہ انہوں نے خود کو روایتی ریپبلکن سیاست دانوں سے مختلف، اعتدال پسند اور آزادانہ رائے رکھنے والی رہنما کے طور پر پیش کیا،مین ایسی ریاست ہے جہاں صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدواروں کو عموماً مضبوط حمایت حاصل رہی ہے، لیکن کولنز بار بار اپنی نشست بچانے میں کامیاب ہوتی رہی ہیں،اس مرتبہ وہ ایسی ریاست میں انتخاب لڑنے والی واحد ریپبلکن موجودہ سینیٹر ہیں جسے سیاسی اعتبار سے ڈیموکریٹس کے لیے نسبتاً سازگار سمجھا جاتا ہے
ڈیموکریٹ امیدوار ٹرائے جیکسن سابق مزدور اور لکڑی کاٹنے کی صنعت سے وابستہ کارکن رہ چکے ہیں اور ریاستی سینیٹ کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں،وہ کولنز پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے کے بجائے ان کی حمایت کرتی ہیں،جیکسن کے مطابق کولنز کی طویل سیاسی ساکھ اور اعتدال پسندی کا دعویٰ اب ان کے ووٹروں کو مطمئن کرنے کے لیے کافی نہیں، کیونکہ ان کی جماعت وفاقی حکومت کے اخراجات میں کٹوتیوں، محصولات اور ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق پالیسیوں کی حمایت کر رہی ہے
کولنز اپنی انتخابی مہم میں اپنے تجربے اور سینیٹ میں حاصل اثر و رسوخ کو بنیادی طاقت کے طور پر پیش کر رہی ہیں،وہ سینیٹ کی طاقتور کمیٹی جو حکومتی اداروں کو فنڈ جاری کرنے کی منظوری دیتی ہے میں اپنے کردار کے ذریعے مین کے لیے حاصل کیے گئے وفاقی فنڈز کا حوالہ دیتی ہیں،ان کے مطابق انہوں نے 2021 سے اب تک ریاست کے لیے تقریباً 1.5 ارب ڈالر کے مخصوص وفاقی فنڈز حاصل کیے ہیں،ان منصوبوں میں گندے پانی کی صفائی کا نظام، بندرگاہوں کی سہولتیں اور ہنگامی طبی مراکز شامل ہیں،کولنز کا مؤقف ہے کہ ان کے تجربے اور سینیٹ میں سینئر حیثیت کی بدولت مین کو ایسے فوائد حاصل ہوئے ہیں جو کسی نئے سینیٹر کے لیے حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے
کولنز یہ بھی کہتی ہیں کہ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ سے مین کی اہم صنعتوں کے لیے محصولات میں چھوٹ حاصل کی،کینیڈا کے ساتھ تجارتی کشیدگی نے ریاست کی معیشت کو متاثر کیا ہے، خصوصاً ان کاروباروں کو جو کینیڈا سے خام مال اور دیگر ضروری اشیا حاصل کرتے ہیں،کولنز کے مطابق سڑکوں پر برف پگھلانے کے لیے استعمال ہونے والے نمک، سیمنٹ اور بلوبیری، آلو اور سیب کی کاشت میں استعمال ہونے والے آلات پر محصولات میں رعایتیں حاصل کی گئیں تاکہ مقامی کاروباروں پر دباؤ کم ہو
ریاست میں گھروں کو گرم رکھنے کے لیے تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی انتخابی مہم کا اہم مسئلہ ہے،مین کے تقریباً نصف گھرانے ہیٹنگ آئل پر انحصار کرتے ہیں اور رائٹرز کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں اس کی قیمت 70 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے،کولنز نے حکومت کی جانب سے تیل کے ذخائر جاری کرنے کے اقدام کو اپنی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا ہے،انہوں نے دیہی ہسپتالوں کے لیے 50 ارب ڈالر کے وفاقی فنڈ کا بھی حوالہ دیا، جسے 2025 کے ٹیکس اور اخراجات کے قانون کے تحت صحت کے شعبے میں ہونے والی کٹوتیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا
تاہم جیکسن کا کہنا ہے کہ انفرادی رعایتیں ریاست کو درپیش بڑے معاشی مسائل کا حل نہیں ہیں،ان کے مطابق ٹرمپ کی محصولات کی پالیسی اور ایران کے ساتھ جنگ نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے سمیت ایسے مسائل پیدا کیے ہیں جن کا بوجھ عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے،جیکسن یہ بھی کہتے ہیں کہ کانگریس میں ریپبلکن ارکان نے محصولات سے متعلق اختیارات صدر کے حوالے کرکے اپنی آئینی ذمہ داری کمزور کی ہے،ان کا مؤقف ہے کہ ریاست کے کاروبار کو چند مخصوص چھوٹوں پر انحصار کرنے کے بجائے ایسی پالیسی درکار ہے جو ابتدا ہی سے ان پر اضافی اخراجات مسلط نہ کرے
ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم کو بھی اس سال مشکلات کا سامنا رہا،پارٹی کے ابتدائی نامزد امیدوار گراہم پلاٹنر، جو سیپ کی کاشت سے وابستہ اور سابق میرین فوجی ہیں، ایک جنسی زیادتی کے الزام کے بعد انتخابی دوڑ سے الگ ہو گئے تھے، جس کی انہوں نے تردید کی تھی،ان کی دست برداری کے بعد پارٹی نے جیکسن کے پیچھے اتحاد قائم کیا،جیکسن اپنی محنت کش پس منظر کو نمایاں کرتے ہوئے سب کے لیے صحت کی سہولتوں اور امیر طبقے پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے کی حمایت کر رہے ہیں
اس انتخاب پر اخراجات بھی غیر معمولی سطح تک پہنچ گئے ہیں،انتخابی اشتہارات کے تجزیے کرنے والے ادارے ایڈامپیکٹ کے مطابق سینیٹ کی اس نشست کے لیے اشتہارات پر تقریباً 199 ملین ڈالر خرچ ہونے کی توقع ہے، جو مین کے ہر بالغ شہری کے حساب سے تقریباً 170 ڈالر بنتے ہیں،انتخابی مہم کے اشتہارات ٹیلی ویژن اور دیگر ذرائع ابلاغ پر مسلسل نشر ہو رہے ہیں، لیکن دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے مطابق غیر فیصلہ کن ووٹروں کی تعداد پہلے کے مقابلے میں کم ہو گئی ہے،سیاسی تقسیم گہری ہونے کے باعث ووٹروں کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی اپنی جماعت کے امیدوار کے ساتھ کھڑا ہے
سینیٹ میں اس وقت ریپبلکنز کو 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کی برتری حاصل ہے،ڈیموکریٹس کو ایوان بالا کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کم از کم چار نشستوں کا خالص اضافہ درکار ہے،اسی لیے مین کا انتخاب قومی سیاست میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے،اگر کولنز کامیاب ہوتی ہیں تو اس کا ایک سبب ان کا روایتی ریپبلکن ووٹروں سے آگے بڑھ کر اعتدال پسند اور آزاد ووٹروں کی حمایت حاصل کرنا ہو سکتا ہے، جبکہ جیکسن کی کامیابی ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں اکثریت کے قریب پہنچانے میں مدد دے سکتی ہے
مین کی انتخابی مہم اب ایک بنیادی سوال کے گرد گھوم رہی ہے،کیا ووٹر کولنز کے تجربے، وفاقی فنڈز حاصل کرنے کی صلاحیت اور مقامی صنعتوں کے لیے رعایتوں کو ترجیح دیں گے، یا ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں سے بڑھتی ہوئی ناراضگی انہیں ڈیموکریٹ امیدوار کی حمایت پر آمادہ کرے گی؟ 3 نومبر کا نتیجہ اس سوال کا جواب دے گا اور ممکنہ طور پر واشنگٹن میں آئندہ دو برس کی قانون سازی کی سمت بھی متعین کرے گا، تازہ ترین پول میں ڈیموکریٹ امیدوار ریپبلکن امیدوار کے سینتالیس پوائنٹ کے مقابلے میں 49 پوائنٹس کے ساتھ دو پوائنٹس سے آگے ہیں





