جے ڈی وینس کے عبدل السید پر حملے تیز، ڈیموکریٹ امیدوار کو پیرس کے مظاہروں سے جوڑنے اور ڈیٹرائٹ جلانے کا الزام
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے مشی گن سے امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید کے خلاف اپنے سخت اور اشتعال انگیز حملوں میں مزید شدت پیدا کر دی ہے،وینس نے الزام عائد کیا ہے کہ السید ڈیٹرائٹ میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کی قیادت کرتے ہوئے شہر کو ’’آگ لگا کر تباہ‘‘ کر سکتے ہیں،السید کو انتخابی مہم کے دوران اسلام مخالف حملوں کا بھی سامنا ہے
اگر عبدل السید آئندہ ہفتے ہونے والے انتخابات میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ امریکہ کی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بن سکتے ہیں،صدر ڈونلڈ ٹرمپ انہیں پہلے ہی ’’جہادی‘‘ قرار دے چکے ہیں
وینس اس سے قبل بھی السید کو ’’خوفناک برائی‘‘ کا نمائندہ قرار دے چکے ہیں اور ان پر الزام لگا چکے ہیں کہ وہ دوسروں کی قیمت پر ایک مخصوص گروہ کے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں،اس کے جواب میں السید نے کہا تھا کہ لوگوں کو صحت کی سہولتوں اور مناسب قیمت پر اشیائے خورونوش سے محروم رکھنا خود ’’برائی‘‘ ہے
منگل کو مشی گن کے شہر ہاول میں انتخابی مہم کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وینس نے السید کے خلاف اپنے الزامات کو مزید آگے بڑھایا،انہوں نے السید کی سیاست کو پیرس میں بائیں بازو کے احتجاجی مظاہروں سے جوڑنے کی کوشش کی، جہاں ان مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے
وینس نے پیرس کی صورت حال بیان کرتے ہوئے نقاب پوش ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے بڑے گروہوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ان میں سے بہت سے لوگ دور دراز علاقوں سے آئے تھے اور تاریخی شہر کے حصوں پر قابض ہو رہے تھے،ان کے خطاب کا مقصد السید کی سیاسی سوچ کو ایسے احتجاج اور بدامنی سے جوڑنا تھا
یہ بیانات مشی گن میں سینیٹ کی نشست کے لیے انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں سامنے آئے ہیں،السید کو نشانہ بنانے والی مہم میں مذہب اور شناخت کے حوالے سے سخت زبان استعمال کی جا رہی ہے، جبکہ وینس کے تازہ الزامات نے اس تنازعہ کو مزید نمایاں کر دیا ہے





