Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اقوام متحدہ میں دنیا کا نقشہ بدلنے کی قرارداد منظور، افریقہ کا اصل حجم سامنے لانے کی کوشش، امریکہ واحد مخالف

اقوام متحدہ میں دنیا کا نقشہ بدلنے کی قرارداد منظور، افریقہ کا اصل حجم سامنے لانے کی کوشش، امریکہ واحد مخالف

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعہ کو ایک اہم قرارداد منظور کرتے ہوئے دنیا کے نقشے میں استعمال ہونے والے روایتی نقشہ جاتی طریقے کو تبدیل کرنے کی حمایت کر دی ہے، تاکہ افریقہ اور دنیا کے دیگر خطوں کا حجم زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں دکھایا جا سکے،قرارداد ٹوگو نے پیش کی اور اسے افریقی یونین کے رکن ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی،164 ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، 6 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ صرف امریکہ نے اس کی مخالفت کی
تنازعہ کا مرکز وہ نقشہ ہے جسے مرکیٹر نقشہ کہا جاتا ہے اور جو 16ویں صدی سے دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی نقشہ سازی کی تکنیکوں میں شامل رہا ہے،اس نقشے میں قطبین کے قریب موجود علاقوں کا حجم حقیقت سے کہیں زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے، جبکہ خط استوا کے قریب واقع علاقے نسبتاً چھوٹے نظر آتے ہیں
اس کا سب سے نمایاں فرق افریقہ اور گرین لینڈ کے معاملے میں سامنے آتا ہے،مرکیٹر نقشے پر گرین لینڈ تقریباً افریقہ جتنا بڑا دکھائی دیتا ہے، حالانکہ حقیقت میں افریقہ کا رقبہ گرین لینڈ سے تقریباً 14 گنا زیادہ ہے
افریقی ممالک اور اس مہم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ محض نقشے کی فنی خامی نہیں بلکہ صدیوں سے دنیا کو دیکھنے کے ایک ایسے انداز کا حصہ بن چکا ہے جس میں افریقہ سمیت خط استوا کے قریب واقع خطوں کی وسعت، آبادی اور ممکنہ اہمیت کم دکھائی دیتی ہے،اسی بنیاد پر افریقی یونین نے ’‘نقشہ درست کرو’’ مہم کی حمایت کی ہے
اقوام متحدہ میں منظور ہونے والی قرارداد میں ’‘ایکول ارتھ’’ نامی نقشہ جاتی طریقے کو زیادہ موزوں قرار دیا گیا ہے، جو مختلف براعظموں کے رقبے کو نسبتاً درست تناسب سے پیش کرتا ہے،یہ طریقہ 2018 میں تیار کیا گیا تھا،ٹوگو نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے تعلیمی نقشوں میں تبدیلی لانے کے لیے کام کرے گا اور دنیا کے دوسرے اداروں کو بھی اس نقشے کے استعمال کی ترغیب دے گا
تاہم اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ مرکیٹر نقشہ دنیا بھر میں قانونی طور پر ممنوع ہو گیا ہے،قرارداد غیر پابند ہے اور خاص طور پر سمندری راستوں اور جہاز رانی میں مرکیٹر نقشہ اب بھی مفید سمجھا جاتا ہے،اصل مقصد تعلیمی اداروں، سرکاری اداروں، ذرائع ابلاغ اور نقشہ سازی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارموں میں زیادہ رقبہ درست نقشوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے
اس ووٹنگ کا ایک سیاسی پہلو بھی نمایاں ہے،فرانس اور برطانیہ سمیت مغربی ممالک نے قرارداد کی حمایت کی، جبکہ امریکہ نے اسے مسترد کیا،واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ یہ اقدام حقیقی عالمی مسائل سے توجہ ہٹا کر ایک نظریاتی بحث کو آگے بڑھاتا ہے،دوسری جانب افریقی ممالک اسے صرف نقشہ تبدیل کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ دنیا کو افریقہ کی جغرافیائی حقیقت، حجم اور عالمی اہمیت درست انداز میں دکھانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں
یوں اقوام متحدہ کی یہ قرارداد ایک دلچسپ حقیقت سامنے لاتی ہے،دنیا کا نقشہ خود دنیا نہیں ہوتا، بلکہ دنیا کو دیکھنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے،اور افریقہ اب اس طریقے کو بدلنے کی عالمی مہم میں کامیاب ہو گیا ہے

قومی خبریں سے مزید