جیمز کارویل نے حسن پائکر کو ’’احمق‘‘ قرار دے دیا، ڈیموکریٹک سوشلسٹس کے نام میں سے ’’ڈیموکریٹک‘‘ ہٹانے کا مطالبہ

جیمز کارویل نے حسن پائکر کو ’’احمق‘‘ قرار دے دیا، ڈیموکریٹک سوشلسٹس کے نام میں سے ’’ڈیموکریٹک‘‘ ہٹانے کا مطالبہ

امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے تجربہ کار سیاسی حکمتِ عملی ساز جیمز کارویل نے بائیں بازو کے مقبول سیاسی تبصرہ نگار اور آن لائن نشریاتی شخصیت حسن پائکر پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ’’احمق‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پائکر جیسے انتہائی بائیں بازو کے لوگوں کی سیاسی سوچ کی ذمہ داری قبول نہیں کرسکتے
کارویل نے کہا کہ حسن پائکر نہ تو ڈیموکریٹ ہیں اور نہ ہی ان کے خیالات کو ڈیموکریٹک پارٹی کی نمائندگی سمجھا جانا چاہیے،انہوں نے ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی تنظیم کے نام سے ’’ڈیموکریٹک‘‘ کا لفظ نکال دیں، کیونکہ ان کے بقول تنظیم کی پالیسیوں اور روایتی ڈیموکریٹک سیاست کے درمیان بنیادی فرق پیدا ہوچکا ہے
یہ تنازعہ ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہا ہے جب امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اعتدال پسند دھڑے اور بڑھتے ہوئے سوشلسٹ اور ترقی پسند دھڑے کے درمیان نظریاتی کشمکش نمایاں ہوتی جارہی ہے،پائکر نے مشی گن میں ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار عبدالسید کی حمایت کی ہے اور انتخابی مہم میں بھی ان کے ساتھ نظر آئے ہیں،بائیں بازو کے امیدواروں کو نوجوان ووٹروں میں متحرک کرنے میں پائکر جیسے آن لائن سیاسی تبصرہ نگاروں کا اثر بڑھ رہا ہے
کارویل اس سے پہلے بھی خبردار کرچکے ہیں کہ اگر حسن پائکر ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ایک نمایاں سیاسی آواز بن گئے تو وہ خود پارٹی چھوڑنے پر غور کریں گے،ان کا مؤقف ہے کہ پائکر کی انتہائی بائیں بازو کی سیاست روایتی ڈیموکریٹک ووٹروں کو پارٹی سے دور کرسکتی ہے،دوسری طرف پائکر کارویل جیسے روایتی ڈیموکریٹک رہنماؤں کو پرانی سیاسی اشرافیہ کا حصہ قرار دیتے ہوئے ان کی تنقید کا مذاق اڑاتے رہے ہیں
حسن پائکر دراصل کون ہیں؟ 35 سالہ پائکر 25 جولائی 1991 کو نیو جرسی کے شہر نیو برنسوک میں پیدا ہوئے اور ترک نژاد خاندان میں پرورش پائی،ان کا بچپن استنبول میں بھی گزرا،انہوں نے پہلے یونیورسٹی آف میامی میں تعلیم حاصل کی اور بعد میں رَٹگرز یونیورسٹی منتقل ہوگئے، جہاں 2013 میں سیاسیات اور ابلاغیات میں دوہری ڈگری حاصل کی
ان کے سیاسی اور ابلاغی سفر کا آغاز ترقی پسند آن لائن میڈیا ادارے ’’دی ینگ ٹرکس‘‘ سے ہوا، جس کے شریک بانی ان کے ماموں جینک یوگر ہیں،بعد میں پائکر نے ٹوئچ پر اپنی براہ راست سیاسی نشریات شروع کیں اور چند ہی برسوں میں نوجوان امریکیوں، خصوصاً ترقی پسند اور بائیں بازو کے حلقوں میں ایک انتہائی مقبول سیاسی آواز بن گئے،ان کے پروگراموں میں امریکی سیاست، سرمایہ داری، طبقاتی تقسیم، خارجہ پالیسی، اسرائیل، فلسطین اور ڈیموکریٹک پارٹی کی پالیسیوں پر سخت تبصرے شامل ہوتے ہیں
پائکر خود کو سوشلسٹ قرار دیتے ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام پر سخت تنقید کرتے ہیں،وہ دولت اور طاقت کی غیر مساوی تقسیم، بڑے کاروباری اداروں کے سیاسی اثر و رسوخ اور امریکی خارجہ پالیسی کے کئی پہلوؤں کے مخالف ہیں،ان کے حامی انہیں نئی نسل کے بائیں بازو کی ایک طاقتور آواز سمجھتے ہیں، جبکہ ناقدین ان کے بعض انتہائی متنازعہ بیانات کو ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے سیاسی بوجھ قرار دیتے ہیں،2019 میں 11 ستمبر کے دہشت گرد حملوں کے حوالے سے ان کا ایک انتہائی متنازع بیان بھی شدید تنقید کا باعث بنا تھا، جس پر انہوں نے بعد میں معذرت کی
پائکر کی اہمیت اب صرف ایک آن لائن تبصرہ نگار کی نہیں رہی،ان کے لاکھوں پیروکار ہیں اور وہ ترقی پسند امیدواروں کی انتخابی مہمات میں بھی کھل کر حصہ لے رہے ہیں،یہی وجہ ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر جاری نظریاتی جنگ میں ان کی موجودگی ایک بڑے سوال کی شکل اختیار کرچکی ہے،کیا پارٹی اپنی روایتی اعتدال پسند سیاست برقرار رکھے گی یا نوجوان نسل کے بڑھتے ہوئے بائیں بازو کے رجحان کے ساتھ خود کو تبدیل کرے گی؟

قومی خبریں سے مزید