لاہور جنرل اسپتال کے گائنی وارڈ میں بھی اچانک آگ، حاملہ خواتین سمیت 70 افراد نکال لیے گئے، ایک سکیورٹی گارڈ متاثر
لاہور جنرل اسپتال کے گائنی وارڈ میں منگل کی صبح اچانک آگ بھڑک اٹھنے سے ہسپتال میں خوف و ہراس پھیل گیا،آگ کے بعد وارڈ اور ملحقہ راہداری دھویں سے بھر گئی، جس کے باعث حاملہ خواتین سمیت تقریباً 70 افراد کو فوری طور پر عمارت سے باہر نکال لیا گیا
ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ بجلی کی وائرنگ میں شارٹ سرکٹ یا ایگزاسٹ فین کے نظام میں خرابی کے باعث لگی،ریسکیو اور ہسپتال کے عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا اور صورتحال کو مزید سنگین ہونے سے روک دیا
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق دھویں سے ایک سکیورٹی گارڈ کی طبیعت خراب ہوگئی، جسے ہسپتال کے ایمرجنسی شعبے میں منتقل کیا گیا،انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گارڈ کی حالت خطرے سے باہر ہے،کسی مریض، حاملہ خاتون یا طبی عملے کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے
تاہم واقعے کی تفصیلات کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں،لاہور جنرل اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے کہا کہ دھواں ایک پلاسٹک کے پنکھے کے گرم ہونے کے بعد پیدا ہوا اور عملے نے تقریباً 10 منٹ میں صورتحال پر قابو پالیا،ان کے مطابق متاثرہ کمرے میں صرف 4 بستر تھے، جن میں 2 زیرِ استعمال تھے، اور دونوں مریضوں کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا،انہوں نے 70 مریضوں کو نکالے جانے کی اطلاعات کو درست قرار نہیں دیا
پنجاب کی وزیرِ صحت نے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے،یہ واقعہ اسلام آباد کے پمز اسپتال میں گزشتہ ہفتے پیش آنے والی ہولناک آتشزدگی کے چند ہی روز بعد سامنے آیا ہے، جس میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے
لاہور جنرل اسپتال میں آگ پر فوری قابو پانے کے باوجود تازہ واقعے نے ایک مرتبہ پھر سرکاری اسپتالوں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات، بجلی کے نظام اور ہنگامی حالات میں مریضوں کے فوری انخلا کی صلاحیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں





