کینیڈا اور امریکا میں تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی

کینیڈا اور امریکا میں تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کینیڈا اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کے دوران وزیراعظم مارک کارنی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے
بیسنٹ نے کہا کہ کارنی نے تجارتی تنازعے کو ایک ’’سیاسی مقابلے‘‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے مطابق امریکا اور کینیڈا کے درمیان موجودہ صورتحال کو روایتی ’’جوابی تجارتی جنگ‘‘ کہنا درست نہیں، کیونکہ امریکی معیشت کینیڈا سے تقریباً 13 گنا بڑی ہے
امریکی وزیر خزانہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کینیڈا کو ایک انتہائی اچھا تجارتی معاہدہ پیش کیا گیا تھا، لیکن وزیراعظم کارنی نے آخری وقت میں اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا
دوسری جانب کینیڈین حکومت کا مؤقف ہے کہ کینیڈا اپنی خودمختاری، اہم صنعتوں اور دیگر ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارتی تعلقات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا
امریکا کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر نئے 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد اوٹاوا نے بھی امریکی مصنوعات کے خلاف جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے
اس تجارتی تنازعے سے دونوں ممالک کی گہری جڑی ہوئی سپلائی چینز، خصوصاً آٹو موبائل، مینوفیکچرنگ اور دیگر صنعتی شعبے متاثر ہونے کا خدشہ ہے
وزیراعظم مارک کارنی نے واضح کیا ہے کہ کینیڈا اپنے قومی مفادات کا دفاع کرے گا، جبکہ مذاکرات کے دروازے بھی بند نہیں کیے گئے
امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تنازع اب صرف ٹیرف تک محدود نہیں رہا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعلقات میں بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے

قومی خبریں سے مزید