ایرانی سپریم لیڈر کی خلیجی حکمرانوں کو اتحاد کی اپیل، امریکا اور اسرائیل کو ’اصل دشمن‘ قرار دے دیا

ایرانی سپریم لیڈر کی خلیجی حکمرانوں کو اتحاد کی اپیل، امریکا اور اسرائیل کو ’اصل دشمن‘ قرار دے دیا

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مسلم ممالک، خصوصاً خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات ختم کرکے متحد ہوں اور اپنے بقول اسلام کے ’اصل دشمن‘ کا مل کر مقابلہ کریں
مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ پیغام اسلامی اتحاد ہفتے کے موقع پر جاری کیا گیا انہوں نے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، مختلف شعبوں میں تعاون اور باہمی دفاع کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات ان کے مخالفین کے مفادات کو فائدہ پہنچاتے ہیں
ایرانی سپریم لیڈر نے خاص طور پر مغربی ایشیا اور خلیج کے ممالک کے حکمرانوں سے کہا کہ وہ اپنے حقیقی دشمن کو پہچانیں، اس کی حکمت عملی کو سمجھیں اور اس کا مقابلہ کریں
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر مسلم ممالک متحد ہوتے تو کیا فلسطینی عوام آج بھی اس قدر بے بس ہوتے ان کے مطابق جو لوگ مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرتے ہیں، وہ جان بوجھ کر یا نادانستہ طور پر اسلام کے مخالفین کے مفادات کو تقویت دیتے ہیں
مجتبیٰ خامنہ ای نے خلیجی ممالک کے حکمرانوں سے یہ بھی سوال کیا کہ اگر خلیج کے عوام اور حکومتیں اسلام کے پرچم تلے متحد ہوتیں تو کیا بیرونی طاقتیں ان کی زمین اور وسائل پر نظر ڈالنے کی جرأت کرتیں
یہ پیغام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے باعث خطے میں کشیدگی انتہائی بلند ہے ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی صورتحال نے بھی خلیجی ممالک کو براہ راست متاثر کیا ہے
ایران نے موجودہ تنازع کے دوران خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس سے تہران اور اس کے خلیجی ہمسایوں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے
خلیجی عرب ریاستیں طویل عرصے سے ایران کی علاقائی پالیسی اور 1979 کے انقلاب کے بعد سامنے آنے والی انقلابی نظریاتی سوچ کو اپنے سیاسی اور سلامتی کے نظام کے لیے خطرہ سمجھتی رہی ہیں۔ دوسری جانب ایران خلیجی ریاستوں پر امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی کی حمایت کرنے پر تنقید کرتا رہا ہے
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں مسلم ممالک کے درمیان باہمی دفاع اور تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلم ممالک متحد ہوں تو بیرونی طاقتوں کے لیے انہیں دباؤ میں لانا زیادہ مشکل ہوگا
ان کی یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور مختلف ممالک جنگ کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم آبنائے ہرمز اور ایران و امریکا کے درمیان تازہ فوجی کارروائیوں کے باعث صورتحال بدستور انتہائی حساس ہے
ایرانی سپریم لیڈر کی خلیجی حکمرانوں سے اتحاد کی اپیل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تہران موجودہ بحران میں مسلم ممالک کے درمیان زیادہ مضبوط سیاسی، معاشی اور دفاعی تعاون چاہتا ہے، جبکہ خلیجی ریاستوں کے لیے بڑا چیلنج ایران، امریکا اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی میں اپنی سلامتی اور قومی مفادات کا تحفظ ہے

قومی خبریں سے مزید