دادو میں دو چنڈیو گروہوں کے درمیان مسلح تصادم، 8 افراد ہلاک
سندھ کے ضلع دادو میں چنڈیو برادری کے دو گروہوں کے درمیان مسلح تصادم کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک جبکہ 2 زخمی ہوگئے۔ واقعہ اتوار کی صبح جھلو تھانے کی حدود میں پیش آیا
پولیس کے مطابق دونوں گروہوں کے درمیان گزشتہ کئی برس سے خونی دشمنی جاری تھی اور مشترکہ راستے کے استعمال سمیت زمین سے متعلق مختلف تنازعات بھی اس کشیدگی کی وجہ بنے ہوئے تھے
حیدرآباد رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل طارق دھاریجو نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں 2 افراد سکندر چنڈیو کے گروہ سے جبکہ 6 افراد علی اکبر چنڈیو کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے
سکندر چنڈیو کے گروہ سے تعلق رکھنے والے ہلاک افراد کی شناخت دیدار علی اور ان کے بھائی گل بہار کے نام سے ہوئی اسی گروہ کے ممتاز اور غلام قادر زخمی ہوئے
علی اکبر چنڈیو کے گروہ سے ہلاک ہونے والوں میں فدا حسین، ذوالفقار عرف وطنی، محمد بچل، سلطان، منظور اور ارشد عرف حاجن شامل ہیں
تمام ہلاک اور زخمی افراد کو دادو کے ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا
پولیس کے مطابق دونوں گروہوں کے درمیان گزشتہ تین برس کے دوران متعدد مرتبہ فائرنگ کے واقعات پیش آ چکے تھے ان سابقہ جھڑپوں میں دونوں جانب سے مجموعی طور پر 4 افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوئے تھے جبکہ ان واقعات سے متعلق مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں
پولیس حکام کے مطابق موجودہ واقعے میں ہلاک ہونے والے بعض افراد کے خلاف پہلے سے مختلف مقدمات بھی درج تھے
دادو کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس میر صدام نے بتایا کہ اتوار کی صبح علی اکبر چنڈیو کے افراد نے سکندر چنڈیو اور خان محمد چنڈیو کے گروہ پر حملہ کیا، جس کے بعد شدید مسلح تصادم شروع ہوگیا اور متعدد افراد ہلاک ہوگئے
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بعض افراد کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ جائے وقوعہ سے ہتھیار بھی برآمد کیے گئے ہیں
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں مزید کشیدگی کے خدشے کے پیش نظر بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے جس علاقے میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا وہ زیادہ تر دریائی علاقہ ہے، جس کے باعث وہاں پولیس کی موجودگی مزید بڑھا دی گئی ہے
پولیس حکام کے مطابق علی اکبر چنڈیو مبینہ طور پر اپنے اسکول جانے والے بھتیجے کے قتل کا بدلہ لینا چاہتے تھے دونوں گروہوں کے درمیان صلح کی کوششیں بھی کی گئی تھیں، تاہم یہ کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں
حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں صورتحال پر قابو رکھنے اور مزید خونریزی روکنے کے لیے پولیس کی تعیناتی جاری ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں





