برطانیہ کی جیلوں میں جبری مذہبی تبدیلی کا الزام، مسلم انتہاپسند گروہوں کے بڑھتے اثر و رسوخ پر تشویش

برطانیہ کی جیلوں میں جبری مذہبی تبدیلی کا الزام، مسلم انتہاپسند گروہوں کے بڑھتے اثر و رسوخ پر تشویش

برطانیہ کی بعض جیلوں میں مسلمان قیدیوں کے گروہوں کی جانب سے دوسرے قیدیوں، بالخصوص سفید فام برطانوی مردوں، پر اسلام قبول کرنے کے لیے مبینہ دباؤ اور دھمکیوں نے ایک بار پھر جیلوں میں مذہبی انتہاپسندی اور قیدی گروہوں کے اثر و رسوخ کا مسئلہ نمایاں کر دیا ہے
یہ معاملہ نیا نہیں،2013 میں اسکائی نیوز کی ایک رپورٹ میں برطانوی جیلوں کے بعض قیدیوں کو اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں،اس وقت جیل افسران کی تنظیم نے اسے جیلوں میں مسلمان گروہوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت قرار دیا تھا
فاکس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ بحث اس وقت دوبارہ شدت اختیار کر گئی جب حزب اختلاف کی کنزرویٹو پارٹی کے شیڈو وزیر انصاف نک ٹموتھی نے حکومت سے جیلوں میں مبینہ جبری مذہبی تبدیلیوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا،ان کا کہنا ہے کہ بعض جیلوں میں قیدی گروہوں کا اثر اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ بعض قیدی خود کو محفوظ رکھنے کے لیے اسلام قبول کرنے پر مجبور محسوس کرتے ہیں
برطانوی حکومت تاہم اس معاملے کو پورے جیل نظام پر لاگو کرنے سے گریز کرتی ہے،وزارتِ انصاف کے مطابق زیادہ تر جیلوں میں گروہی انتہاپسندی کے شواہد موجود نہیں، تاہم جیل حکام نے مذہبی بنیادوں پر دھمکی، دباؤ اور جبری تبدیلی کے خلاف نگرانی اور کارروائی کے طریقہ کار مزید بہتر کیے ہیں،حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گرد قیدیوں کو مذہبی اجتماعات میں قیادت کے کردار سے بھی روکا گیا ہے
برطانیہ کے دہشت گردی کے قوانین کے آزاد جائزہ کار جوناتھن ہال نے 2022 کی اپنی رپورٹ میں جیلوں کے اندر انتہاپسند قیدیوں کے ایسے نیٹ ورکس کی نشاندہی کی تھی جو مبینہ طور پر کمزور یا تنہا قیدیوں کو اپنے زیرِ اثر لانے، انہیں سہولتیں اور اشیا فراہم کرنے اور بعض صورتوں میں دھمکی یا تشدد کے ذریعے مذہب تبدیل کرانے کی کوشش کرتے تھے
اس معاملے میں سب سے سنگین سوال یہ ہے کہ اگر کسی قیدی کو مذہبی عقیدے کے بجائے تشدد، خوف یا جیل میں تحفظ حاصل کرنے کی ضرورت کے تحت مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جائے تو یہ محض مذہبی معاملہ نہیں رہتا بلکہ جیلوں کی سلامتی، انتہاپسندی اور قومی سلامتی کا مسئلہ بن جاتا ہے،تاہم دستیاب شواہد کو مخصوص گروہوں اور واقعات تک محدود رکھنا ضروری ہے، کیونکہ ان الزامات کو برطانیہ کی پوری مسلم آبادی سے جوڑنا شواہد سے آگے بڑھنے کے مترادف ہوگا

قومی خبریں سے مزید