نسلی مساوات کا منصوبہ مقررہ وقت پر جاری نہ کرنے پر نیویارک کے میئر زوہرن ممدانی اور سابق میئر ایرک ایڈمز قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار

نسلی مساوات کا منصوبہ مقررہ وقت پر جاری نہ کرنے پر نیویارک کے میئر زوہرن ممدانی اور سابق میئر ایرک ایڈمز قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار

نیویارک ریاست کی سپریم کورٹ کی جج فیڈرا ایف پیری بانڈ نے قرار دیا ہے کہ نیویارک سٹی کے موجودہ میئر زوہرن ممدانی اور سابق میئر ایرک ایڈمز دونوں نے شہر میں نسلی عدم مساوات کے خاتمے سے متعلق منصوبہ مقررہ قانونی مدت میں جاری نہ کرکے قانون کی خلاف ورزی کی
یہ فیصلہ اس مقدمے میں سامنے آیا جو شہر کے نسلی مساوات کے نگران ادارے کمیشن آن ریشل ایکویٹی نے اگست 2025 میں دائر کیا تھا،یہ کمیشن بھی 2022 میں ووٹروں کی جانب سے منظور کی جانے والی شہری چارٹر اصلاحات کے تحت قائم کیا گیا تھا
2022 میں نیویارک کے ووٹروں نے بھاری اکثریت سے ایسی اصلاحات منظور کی تھیں جن کے تحت شہر کی حکومت پر لازم قرار دیا گیا کہ وہ نسلی عدم مساوات سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ شہر گیر نسلی مساوات کا منصوبہ تیار اور مقررہ مدت میں جاری کرے
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ایرک ایڈمز کی انتظامیہ کے دور میں ابتدائی منصوبہ پہلے ہی تاخیر کا شکار ہوگیا تھا،ایڈمز انتظامیہ نے متعدد مرتبہ اس کی تکمیل کی تاریخ آگے بڑھائی، تاہم وہ اپنے دور حکومت کے اختتام تک ابتدائی منصوبہ عوام کے سامنے جاری نہ کرسکی
یکم جنوری 2026 کو زوہرن ممدانی نے میئر کا منصب سنبھالا،عدالتی فیصلے کے مطابق ممدانی انتظامیہ کے لیے بھی ابتدائی منصوبہ 16 جنوری 2026 تک جاری کرنا قانونی طور پر لازم تھا، لیکن یہ منصوبہ بھی مقررہ تاریخ پر جاری نہیں کیا گیا
ممدانی انتظامیہ نے بعد میں یہ منصوبہ 6 اپریل 2026 کو جاری کیا، جس میں شہر کے مختلف محکموں کو تاریخی طور پر نظر انداز کی جانے والی آبادیوں کے لیے وسائل بہتر بنانے، مختلف نسلی و سماجی گروہوں سے ملازمین کی بھرتی اور انہیں برقرار رکھنے، سرکاری ملازمین کی تربیت اور مختلف آبادیوں سے متعلق اعداد و شمار جمع کرنے سمیت متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں
تاہم منصوبے کا حتمی ورژن، جو اصل میں اپریل 2024 میں ایرک ایڈمز کے دور میں جاری ہونا تھا، اب تک مکمل طور پر جاری نہیں کیا گیا
جج پیری بانڈ نے قرار دیا کہ دونوں میئرز کی جانب سے مقررہ قانونی مدت پوری نہ کرنے کا معاملہ محض انتظامی تاخیر نہیں بلکہ شہری چارٹر میں عائد قانونی ذمہ داری کی خلاف ورزی سے متعلق ہے،عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ مسئلہ مستقبل میں دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ نسلی مساوات کا منصوبہ ہر دو سال بعد تیار کیا جانا ہے
فیصلے کے تحت کمیشن آن ریشل ایکویٹی کو مستقبل میں ایسی تاخیر کی صورت میں قانونی کارروائی کرنے کی پوزیشن بھی مضبوط ہوئی ہے،عدالت نے کمیشن کو شہر کے خرچ پر بیرونی وکیل رکھنے کی اجازت دینے کا راستہ بھی کھول دیا، جس کی اجازت شہر کے قانون کے محکمے نے پہلے نہیں دی تھی
کمیشن کی سربراہ لنڈا ٹگانی نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ نسلی مساوات کوئی اختیاری سیاسی معاملہ نہیں بلکہ قانون کا تقاضا ہے
ممدانی انتظامیہ کے ترجمان نے کہا کہ سابق انتظامیہ نے ابتدائی منصوبے کی اشاعت میں 580 دن سے زیادہ تاخیر کی، جبکہ ممدانی نے اپنے پہلے 100 دنوں میں منصوبہ جاری کرکے اس معاملے کو ترجیح دی
اہم بات یہ ہے کہ عدالت کا فیصلہ ممدانی کی جانب سے اپریل میں منصوبہ جاری کیے جانے کے باوجود آیا، کیونکہ مقدمے کا بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا میئرز نے شہری چارٹر میں مقرر کردہ لازمی مدت کی پابندی کی تھی،عدالت نے اس معاملے کو ختم شدہ قرار دینے کے بجائے مقدمے کو آگے بڑھنے کی اجازت دی

قومی خبریں سے مزید