امریکہ اور اسرائیل ایران کی حکومت گرانے میں ناکام، 6 ماہ بعد نئی قیادت دونوں کو چیلنج کرنے پر تیار

امریکہ اور اسرائیل ایران کی حکومت گرانے میں ناکام، 6 ماہ بعد نئی قیادت دونوں کو چیلنج کرنے پر تیار

دبئی، متحدہ عرب امارات: 6 ماہ کی جنگ کے بعد ایران کی قیادت فوجی جرنیلوں اور مذہبی رہنماؤں کے ایک سخت گیر دھڑے کے گرد متحد ہو گئی ہے، جو طویل محاذ آرائی کے لیے تیار ہے اور ملک کے اندر کسی بھی ممکنہ بے چینی کو روکنے کے لیے پرعزم ہے
یہ صورتحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ابتدائی امیدوں سے بالکل مختلف ہے،ٹرمپ ایران میں اسلامی جمہوریہ کا تختہ الٹنے کی خواہش کا اظہار کر چکے تھے اور بعد ازاں یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ حکومت کی تبدیلی کے نتیجے میں ایران میں ایسے عہدیدار سامنے آئے ہیں جو سمجھوتے کے لیے زیادہ آمادہ ہیں
ایران کی نئی قیادت کو ٹرمپ کے ساتھ کسی بھی معاہدے پر بہت کم اعتماد ہے، خصوصاً اس لیے کہ مذاکرات کے دوران ایران کو 2 مرتبہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا،ایرانی قیادت اس امکان کے لیے بھی تیار دکھائی دیتی ہے کہ امریکہ اپنے میزائل شکن دفاعی نظام کے لیے درکار میزائلوں کا ذخیرہ دوبارہ مکمل کرنے کے بعد ایک اور حملہ کر سکتا ہے
ایران نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر امریکی ناکہ بندی جاری رہی اور ٹرمپ کی جانب سے نئی پابندیاں عائد کی گئیں تو جنگ مزید شدید کی جا سکتی ہے،امریکی اقدامات اور پابندیاں ایران کی پہلے سے بگڑتی ہوئی معیشت پر مزید دباؤ ڈال رہی ہیں اور ملک کو شدید اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے

قومی خبریں سے مزید