Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں سیاسی نظام کے بار بار ناکام تجربات، مزید صوبے بنانے کی تجویز پر سوالات اٹھ گئے

پاکستان میں سیاسی نظام کے بار بار ناکام تجربات، مزید صوبے بنانے کی تجویز پر سوالات اٹھ گئے

اسلام آباد: پاکستان کے سیاسی نظام میں بار بار ہونے والی تبدیلیوں اور ناکام تجربات نے ملک میں حکمرانی، جمہوریت اور وفاقی نظام سے متعلق بنیادی سوالات ایک بار پھر نمایاں کر دیے ہیں تجزیے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک میں خراب حکمرانی کا بنیادی سبب صرف انتظامی مسائل نہیں بلکہ سیاسی اور ادارہ جاتی جواب دہی کا فقدان ہے
تجزیے کے مطابق ملک میں خراب حکمرانی کے مسئلے کے حل کے لیے مزید صوبے بنانے کی تجویز بنیادی مسئلے کا درست حل نہیں، بلکہ اس کے نتیجے میں پہلے سے موجود سیاسی اور انتظامی پیچیدگیاں مزید بڑھ سکتی ہیں
پاکستان کے قیام کے بعد سے سیاسی نظام میں مختلف تجربات کیے گئے۔ ابتدا میں آئین سازی میں تاخیر، اختیارات کے ارتکاز اور سیاسی اداروں کی کمزوری نے جمہوری نظام کو مستحکم ہونے سے روکا۔ 1954 میں دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کے بعد سیاسی بحران مزید گہرا ہوا اور 1958 میں ملک میں پہلا مارشل لا نافذ ہوا
1962 کے آئین کے ذریعے صدارتی نظام متعارف کرایا گیا، جس میں براہ راست عوامی نمائندگی کے بجائے محدود انتخابی نظام کو اہمیت دی گئی اس دور کے اختتام پر سیاسی احتجاج، ادارہ جاتی بحران اور مشرقی پاکستان کے حالات نے ملک کو ایک بڑے سیاسی سانحے کی طرف دھکیل دیا اور 1971 میں پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا
1973 کا آئین ملک کے لیے نسبتاً متفقہ وفاقی اور پارلیمانی نظام کی بنیاد بنا۔ اس میں صوبائی خودمختاری، بنیادی حقوق اور اختیارات کی تقسیم سمیت ایسے اصول شامل کیے گئے جن کا مقصد ایک مستحکم جمہوری نظام قائم کرنا تھا، تاہم یہ نظام بھی زیادہ عرصے تک تسلسل کے ساتھ قائم نہ رہ سکا
اس کے بعد ملک نے مارشل لا، محدود جمہوریت، مخلوط طرز حکمرانی اور مختلف سیاسی و ادارہ جاتی تجربات کے کئی ادوار دیکھے۔ تجزیے کے مطابق ان تمام تجربات میں عام شہری کو سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات اور کمزور حکمرانی کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کرنا پڑا
تجزیے میں زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کے بنیادی مسائل کا حل بار بار نئے سیاسی یا انتظامی تجربات کرنے کے بجائے ایک مضبوط وفاقی جمہوری نظام میں ہے، جہاں عوام کو سیاسی اختیار کا حقیقی مرکز تسلیم کیا جائے، آئینی ادارے مضبوط ہوں اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں
مزید صوبے بنانے کے منصوبے کے حوالے سے بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر یہ اقدام وسیع سیاسی اور آئینی اتفاق رائے کے بغیر کیا گیا تو اس سے مسائل حل ہونے کے بجائے ملک میں مزید انتظامی اور سیاسی انتشار پیدا ہوسکتا ہے
تجزیے کے مطابق پاکستان میں اچھی حکمرانی کے لیے بنیادی ضرورت سیاسی نظام کے تسلسل، آئین کی بالادستی، ادارہ جاتی جواب دہی اور عوام کی حقیقی سیاسی شمولیت کو یقینی بنانا ہے

قومی خبریں سے مزید