ٹرمپ کے بعد کا دور جلد از جلد شروع ہو، وال اسٹریٹ جرنل کے مضمون میں صدر کی سیاسی موجودگی اور طرز حکمرانی پر سخت تنقید
واشنگٹن: وال اسٹریٹ جرنل کے تازہ رائے پر مبنی مضمون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی شخصیت، مسلسل عوامی موجودگی اور طرز حکمرانی پر سخت تنقید کرتے ہوئے خواہش ظاہر کی گئی ہے کہ امریکہ جلد از جلد ’’ٹرمپ کے بعد‘‘ کے دور میں داخل ہو،مضمون نگار جوزف ایپسٹین نے واضح کیا ہے کہ وہ ٹرمپ کو مواخذے یا کسی ذلت آمیز انجام سے دوچار دیکھنا نہیں چاہتے بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کا دور ختم ہو جائے
مضمون کا عنوان ہی اس کے بنیادی مؤقف کو انتہائی واضح انداز میں پیش کرتا ہے: ’’ٹرمپ کے بعد کا دور جلد از جلد شروع ہو۔‘‘ وال اسٹریٹ جرنل نے اسے 25 اگست 2026 کے اپنے مطبوعہ ایڈیشن میں بھی نمایاں طور پر شامل کیا ہے
ایپسٹین لکھتے ہیں کہ ٹرمپ کے بارے میں ایک بات ضرور کہی جا سکتی ہے کہ وہ خود کو عوام کی نظروں سے چھپانے والے صدر نہیں,مضمون میں حالیہ دنوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ جب ایک ٹیلی ویژن رپورٹر نے بتایا کہ صدر مسلسل دوسرے روز کیمرے کے سامنے نظر نہیں آئے تو مصنف نے اس کا موازنہ ٹرمپ کے پیش رو صدر سے کیا، جو طویل عرصے تک کیمروں سے دور رہنے کے لیے جانے جاتے تھے
مصنف کے مطابق ٹرمپ کی سیاست میں عوامی موجودگی ایک مستقل عنصر ہے،وہ جہاں جاتے ہیں، مختلف طبقات سے خطاب کرتے ہیں اور پولیس افسران، فوجیوں، کارخانے کے کارکنوں اور مختلف ریاستوں کے شہریوں کو غیر معمولی انداز میں سراہتے ہیں،لیکن ایپسٹین کے مطابق ان تقریروں میں تعریف کا مرکز بالآخر خود ٹرمپ بن جاتے ہیں اور وہ اپنے اقدامات اور کامیابیوں کو غیر معمولی قرار دینے کے ساتھ اپنی ذات کو بھی مسلسل مرکزِ توجہ بنائے رکھتے ہیں
مضمون نگار کی تنقید صرف ٹرمپ کے بولنے یا میڈیا میں مسلسل موجود رہنے تک محدود نہیں،وہ ٹرمپ کی سیاسی شخصیت کے اس پہلو پر بھی توجہ دیتے ہیں جس میں صدر اپنے آپ کو امریکی سیاسی منظرنامے کا مرکزی کردار تصور کرتے ہیں،ان کے نزدیک ٹرمپ کی سیاسی طاقت کا ایک بڑا حصہ اسی غیر معمولی ذاتی تشہیر، براہ راست عوام سے رابطے اور اپنی کامیابیوں کو مسلسل نمایاں کرنے سے پیدا ہوتا ہے
وال اسٹریٹ جرنل کے مضمون کا اہم پہلو یہ ہے کہ مصنف ٹرمپ کے مواخذے یا انہیں سیاسی طور پر ذلیل کرنے کی حمایت نہیں کرتے،اس کے برعکس وہ کہتے ہیں کہ ان کی خواہش صرف یہ ہے کہ ٹرمپ کا دور ختم ہو اور ملک ایک ایسے سیاسی مرحلے میں داخل ہو جہاں صدر کی شخصیت ہر معاملے پر غالب نہ ہو
یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ دوسری صدارتی مدت میں بھی امریکی سیاست کے مرکز میں ہیں اور ان کی انتظامیہ تجارت، امیگریشن، خارجہ پالیسی، ایران، محصولات اور وفاقی حکومت کے کردار سمیت متعدد بڑے معاملات میں جارحانہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے،وال اسٹریٹ جرنل کے اسی روز کے شمارے میں ایران پر ٹرمپ کی اقتصادی پالیسی اور دیگر معاملات سے متعلق متعدد مضامین بھی نمایاں ہیں
مضمون میں ٹرمپ کے اس اندازِ سیاست کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جس میں صدر اپنے ہر دورے، تقریر اور عوامی اجتماع کو اپنی سیاسی کامیابیوں کے اظہار کے لیے استعمال کرتے ہیں،مصنف کے نزدیک اس مسلسل خود نمائی نے امریکی سیاسی زندگی میں صدر کی شخصیت کو غیر معمولی حد تک مرکزی بنا دیا ہے
مضمون کا بنیادی پیغام بہرحال غیر معمولی طور پر واضح ہے،مصنف ٹرمپ کے خلاف مواخذے، سیاسی انتقام یا ذلت کی مہم نہیں چاہتے، بلکہ ان کے خیال میں امریکہ کے لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ موجودہ صدر کا سیاسی دور ختم ہو اور ملک ٹرمپ کے بعد کے دور میں داخل ہو
اسی لیے وال اسٹریٹ جرنل کے تازہ مضمون کا عنوان محض ایک سیاسی پیش گوئی نہیں بلکہ امریکی سیاست کے موجودہ ماحول پر ایک سخت سیاسی فیصلہ بھی بن کر سامنے آتا ہے: ٹرمپ کے بعد کا دور جتنی جلدی شروع ہو، اتنا ہی بہتر ہے





