Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

پاکستان میں سیاسی سرگرمیاں تیز، عمران خان کے معاملے نے نئی بحث چھیڑ دی

پاکستان میں سیاسی سرگرمیاں تیز، عمران خان کے معاملے نے نئی بحث چھیڑ دی

طویل موسم گرما کے بعد پاکستان میں سیاسی سرگرمیاں دوبارہ تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ پارلیمنٹ کا نیا اجلاس شروع ہونے کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے وفود کے درمیان ملاقاتیں اور مشاورت بڑھ گئی ہے، جبکہ مولانا فضل الرحمٰن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی باہمی سیاسی رابطوں میں دلچسپی نظر آ رہی ہے
اسی دوران عمران خان کی صحت اور اسپتال منتقلی کا معاملہ بھی سیاسی منظرنامے کا اہم حصہ بن گیا ہے سپریم کورٹ نے ان کی طبی حالت سے متعلق تشویش ناک رپورٹ سامنے آنے کے بعد طبی معائنے اور اسپتال میں قیام کی ہدایت کی تھی، تاہم عدالتی حکم پر عمل درآمد اس انداز میں نہیں ہوا جس کی توقع کی جا رہی تھی
عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسپتال لے جایا گیا، لیکن انہیں اس نجی اسپتال منتقل نہیں کیا گیا جس کا عدالت نے حکم دیا تھا اور انہیں اپنے ذاتی ڈاکٹر سے مشورے کا موقع بھی نہیں ملا بعد ازاں انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیااس صورتحال نے عدالتی حکم پر عمل درآمد اور فیصلہ سازی کے بارے میں کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں
سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا اعلیٰ سطح پر تحریک انصاف کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے کوئی اختلاف موجود ہے۔ تحریک انصاف پہلے ہی عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر چکی ہے، جس کی سماعت کے بعد صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع ہے
تاہم اس پوری صورتحال کا ایک بڑا پہلو عوامی ردعمل بھی ہے عمران خان کی سیاسی مقبولیت کو صرف ان کی جماعت کی کارکردگی سے جوڑنا کافی نہیں، کیونکہ ان کے حامیوں میں ایک بڑا حصہ مہنگائی، بلند ٹیکسوں، روزگار کے محدود مواقع، امن و امان کی صورتحال اور معاشی مشکلات سے پیدا ہونے والے غصے کی وجہ سے ان کے ساتھ کھڑا ہے
تحریر میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ اگر مستقبل میں عمران خان اور ان کی جماعت مقتدر حلقوں کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتی ہے تو کیا ان کے حامی بھی اسی انداز میں اسے قبول کریں گے صرف کسی سیاسی رہنما کی رہائی یا اقتدار میں واپسی عوام کے بنیادی معاشی اور سماجی مسائل ختم نہیں کرتی
اسی لیے پاکستان کی سیاست میں اصل چیلنج صرف اعلیٰ سطح کی سیاسی مفاہمت نہیں بلکہ عوامی اعتماد اور ان کے بنیادی مسائل کا حل بھی ہے اگر سیاسی جماعتیں عوامی غصے اور ان کی مشکلات سے دور ہو جائیں تو روایتی سیاست سے مایوسی مزید بڑھ سکتی ہے۔ (

قومی خبریں سے مزید