سردیوں میں شام 5 بجے کے بعد بھی سورج؟ امریکا میں ڈے لائٹ سیونگ ٹائم مستقل کرنے کی تجویز

سردیوں میں شام 5 بجے کے بعد بھی سورج؟ امریکا میں ڈے لائٹ سیونگ ٹائم مستقل کرنے کی تجویز

واشنگٹن: امریکا میں سال میں دو مرتبہ گھڑیاں آگے اور پیچھے کرنے کا نظام ختم کرنے کی کوشش ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔ نئی تجویز کے تحت Daylight Saving Time کو مستقل کر دیا جائے تو سردیوں میں شام کے وقت سورج تقریباً ایک گھنٹہ دیر سے غروب ہوگا
اس تبدیلی کا سب سے نمایاں اثر یہ ہوگا کہ کئی علاقوں میں سردیوں کے دوران شام کے اوقات میں زیادہ روشنی دستیاب ہوگی مثال کے طور پر بعض شہروں میں جو سورج ابھی شام 5 بجے کے قریب غروب ہوتا ہے، وہاں غروبِ آفتاب تقریباً 6 بجے کے قریب ہو سکتا ہے
تاہم اس کا دوسرا رخ بھی ہے۔ گھڑی ایک گھنٹہ آگے رہنے کی صورت میں سردیوں کی صبحیں زیادہ تاریک ہوں گی اور کئی علاقوں میں سورج 8 بجے کے بعد طلوع ہوگا۔ کچھ شمالی علاقوں میں طلوعِ آفتاب اس سے بھی زیادہ دیر سے ہو سکتا ہے
امریکی کانگریس میں اس حوالے سے Sunshine Protection Act کے تحت ڈے لائٹ سیونگ ٹائم مستقل کرنے کی تجویز زیرِ بحث ہے۔ ایوانِ نمائندگان اس معاملے پر پیش رفت کر چکا ہے، تاہم قانون بننے کے لیے سینیٹ کی منظوری بھی ضروری ہے
حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے شام کے وقت زیادہ روشنی ملے گی اور سال میں دو مرتبہ گھڑیاں تبدیل کرنے کی زحمت ختم ہو جائے گی۔ دوسری جانب ماہرین اور مخالفین کو صبح کی تاریکی، صحت، اسکول جانے والے بچوں اور دیگر عملی مسائل کے حوالے سے خدشات ہیں
یعنی اگر یہ تبدیلی قانون بن گئی تو امریکا میں سردیوں کی شامیں روشن جبکہ صبحیں مزید تاریک ہو سکتی ہیں

قومی خبریں سے مزید