ٹیکساس میں اے آئی انقلاب کا خیرمقدم کرنے والے ایبٹ اب ڈیٹا سینٹروں پر برس پڑے، کہا کمپنیوں نے اپنے لیے خود گڑھا کھودا

ٹیکساس میں اے آئی انقلاب کا خیرمقدم کرنے والے ایبٹ اب ڈیٹا سینٹروں پر برس پڑے، کہا کمپنیوں نے اپنے لیے خود گڑھا کھودا

آسٹن: ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے مصنوعی ذہانت کے لیے بڑے پیمانے پر تعمیر کیے جانے والے ڈیٹا سینٹروں کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی مزاحمت کے بعد اے آئی صنعت کو اب تک کی اپنی سخت ترین تنبیہات میں سے ایک جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیٹا سینٹر کمپنیاں مقامی آبادی کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہیں اور انہوں نے ’’اپنے لیے خود گڑھا کھودا‘‘
ایبٹ کا مؤقف اس تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے جو امریکا کی کئی ریاستوں میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے سامنے آ رہی ہے,جن سیاست دانوں نے ابتدا میں ڈیٹا سینٹروں کو سرمایہ کاری، روزگار اور اقتصادی ترقی کا ذریعہ قرار دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی تھی، اب انہیں مقامی آبادی کے بڑھتے ہوئے احتجاج اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے
ٹیکساس طویل عرصے سے ڈیٹا سینٹر اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک پرکشش ریاست رہی ہے,نسبتاً کم کاروباری رکاوٹیں، توانائی کی دستیابی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول نے ریاست میں بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹر منصوبوں کو فروغ دیا
لیکن اے آئی کی برق رفتاری سے بڑھتی ہوئی طلب نے بجلی اور پانی کی کھپت، زمین کے استعمال، ماحولیاتی اثرات اور مقامی برادریوں پر پڑنے والے بوجھ کے بارے میں سوالات بھی پیدا کر دیے ہیں,بعض علاقوں میں شہریوں کو خدشہ ہے کہ بڑے ڈیٹا سینٹر منصوبے بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں اور بنیادی سہولتوں کے اخراجات میں اضافہ کر سکتے ہیں
ایبٹ کی تازہ تنقید اسی بدلتے ہوئے سیاسی ماحول میں سامنے آئی ہے,ان کے مطابق صنعت نے مقامی آبادی کو ساتھ لے کر چلنے کے بجائے بہت تیزی سے توسیع کی، جس کے نتیجے میں اب اسے اپنے ہی منصوبوں کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت کا سامنا ہے
ٹیکساس اکیلی ریاست نہیں جہاں اے آئی ڈیٹا سینٹروں کے حوالے سے پالیسی کا رخ تبدیل ہو رہا ہے,پنسلوانیا کے ڈیموکریٹ گورنر جوش شاپیرو نے گزشتہ سال ایمیزون کی 20 ارب ڈالر کی ڈیٹا سینٹر سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا تھا، لیکن اب ریاست میں نئے منصوبوں پر پابندیاں سخت کی جا رہی ہیں
نیویارک کی ڈیموکریٹ گورنر کیتھی ہوکل نے بھی گزشتہ ماہ بڑے پیمانے پر خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ڈیٹا سینٹروں پر ایک سال کی پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا
ان تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صنعت کے لیے سب سے بڑا چیلنج اب صرف جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری نہیں بلکہ مقامی آبادی کی حمایت حاصل کرنا بھی بن گیا ہے,اگر ڈیٹا سینٹر منصوبوں کے باعث بجلی، پانی، زمین اور عوامی اخراجات سے متعلق خدشات بڑھتے رہے تو امریکا میں اے آئی بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار توسیع کو سیاسی مزاحمت کا سامنا مزید شدت سے کرنا پڑ سکتا ہے۔

یوں مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں امریکا کی ریاستوں کے درمیان سرمایہ کاری حاصل کرنے کی مسابقت اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں سوال صرف یہ نہیں کہ کون سی ریاست کتنے ڈیٹا سینٹر بنا سکتی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہاں کے شہری ان منصوبوں کو قبول کرنے کے لیے کتنے تیار ہیں

قومی خبریں سے مزید